صحیح مسلم

Sahih Muslim

کتاب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل ومناقب

The book of the merits of the companions

حضرت انس بن مالک کی والدہ حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت بلال کے فضائل:۔

Chapter: The Virtues Of Umm Sulaim, The Mother Of Anas Bin Malik, And Bilal (RA)

حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا يَدْخُلُ عَلَى أَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِ، إِلَّا أُمِّ سُلَيْمٍ، فَإِنَّهُ كَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا، فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ: «إِنِّي أَرْحَمُهَا قُتِلَ أَخُوهَا مَعِي»

Anas reported that Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) did not enter the house of any woman except that of his wives and that of Umm Sulaim. He used to visit her. It was said to him why it was so, whereupon he said: I feel great compassion for her. Her brother was killed while he was with me.

اسحاق بن عبداللہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ازواج مطہرات اور حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سوا اور کسی عورت کے گھر نہیں جاتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں تشریف لے جاتے تھے ، اس کے متعلق آپ سے بات کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے اس پر رحم آتا ہے ، اس کا بھائی میرے ساتھ ( لڑتا ہوا ) شہید ہوا ۔ "

وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ خَشْفَةً، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: هَذِهِ الْغُمَيْصَاءُ بِنْتُ مِلْحَانَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ

Anas reported that Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: I entered Paradise and heard the noise of steps. I said: Who is it? They said: She is Ghumaisa, daughter of Milhan, the mother of Anas b. Malik.

ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں جنت میں گیا ، وہاں میں نے ( کسی کے چلنے کی ) آہٹ پائی تو میں نے پوچھا کہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا کہ غمیصا بنت ملحان ( ام سلیم کا نام غمیصا یا رمیصا تھا ) انس بن مالک کی والدہ ہیں ۔

حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُرِيتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ امْرَأَةَ أَبِي طَلْحَةَ، ثُمَّ سَمِعْتُ خَشْخَشَةً أَمَامِي فَإِذَا بِلَالٌ»

Jabir b. 'Abdullah reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: I was shown Paradise and I saw the wife of Abu Talha (i.e. Umm Sulaim) and I heard the noise of steps before me and, lo, it was that of Bilal.

محمد بن منکدر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " مجھے جنت دکھائی گئی ، میں نے وہاں ابو طلحہ کی بیوی ( ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) کودیکھا ، پھر میں نے اپنے آگے کسی کے چلنے کی آہٹ سنی ، تو وہ بلال تھے ۔ "