صحیح مسلم

Sahih Muslim

کتاب: حسن سلوک‘صلہ رحمی اور ادب

The book of virtue, enjoining good manners, and joining of the ties of kinshio

جس شخص کی بدکلامی کا ڈر ہو اس سے نرم گفتگو کرنا

Chapter: Being Kind To Protect Oneself From Another's Vile Behavior

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ كُلُّهُمْ عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ رَجُلًا اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ائْذَنُوا لَهُ فَلَبِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ أَوْ بِئْسَ رَجُلُ الْعَشِيرَةِ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ أَلَانَ لَهُ الْقَوْلَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتَ لَهُ الَّذِي قُلْتَ ثُمَّ أَلَنْتَ لَهُ الْقَوْلَ قَالَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ وَدَعَهُ أَوْ تَرَكَهُ النَّاسُ اتِّقَاءَ فُحْشِهِ

A'isha reported that a person sought permission from Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) to see him. He said: Grant him permission. (and also added: ) He is a bad son of his tribe or he is a bad person of his tribe. When he came in he used kind words for him. 'A'isha reported that she said: Allah's Messenger, you said about him what you had to say and then you treated him with kindness. He said: A'isha, verily in the eye of Allah, worst amongst the person in rank on the Day of Resurrection is one whom the people abandon or desert out of the fear of indecency.

سفیان بن عیینہ نے ابن منکدر سے روایت کی ، انہوں نے عروہ بن زبیر کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اجازت طلب کی ، آپ نے فرمایا : " اس کو اجازت دے دو ، یہ یقینا اپنے قبیلے کا بُرا فرد ہے ، یا فرمایا : قبیلے کا برا مرد ہے ۔ " جب وہ شخص اندر آیا تو آپ نے اس کے ساتھ نرمی سے گفتگو کی ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! آپ نے اس کے بارے میں وہ فرمایا جو فرمایا تھا ، پھر آپ نے اس کے ساتھ نرمی سے بات کی؟ آپ نے فرمایا : " عائشہ! قیامت کے دن اللہ تعالیٰ رتبے کے اعتبار سے سب سے برا شخص وہ ہو گا جس سے لوگ اس کی بدزبانی سے بچنے کے لیے دور رہیں یا اس کو چھوڑ دیں ۔ "

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ مَعْنَاهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ بِئْسَ أَخُو الْقَوْمِ وَابْنُ الْعَشِيرَةِ

This hadith has been reported on the authority of Ibn Munkadir with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.

معمر نے ابن منکدر سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی روایت بیان کی ، مگر انہوں نے کہا : " یہ قوم کا بدترین فرد ہے اور یہ گھرانے کا ( بدترین ) فرد ہے ۔ "