Jarir b. Abdullah reported that some desert Arabs clad in woollen clothes came to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). He saw them in sad plight as they had been hard pressed by need. He (the Holy Prophet) exhorted people to give charity, but they showed some reluctance until (signs) of anger could be seen on his face. Then a person from the Ansar came with a purse containing silver. Then came another person and then other persons followed them in succession until signs of happiness could be seen on his (sacred) face. Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: He who introduced some good practice in Islam which was followed after him (by people) he would be assured of reward like one who followed it, without their rewards being diminished in any respect. And he who introduced some evil practice in Islam which had been followed subsequently (by others), he would be required to bear the burden like that of one who followed this (evil practice) without their's being diminished in any respect.
سیدنا جریر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ کچھ دیہاتی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے وہ کمبل پہنے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا برا حال دیکھا اور ان کی محتاجی دریافت کی تو لوگوں کو رغبت دلائی صدقہ دینے کی۔ لوگوں نے صدقہ دینے میں دیر کی یہاں تک کہ اس بات کا رنج آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر معلوم ہوا، پھر ایک انصاری شخص ایک تھیلی روپیوں کی لے کر آیا، پھر دوسرا آیا یہاں تک کہ تار بندھ گیا (صدقے اور خیرات کا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر خوشی معلوم ہونے لگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اسلام میں اچھی بات نکالے (یعنی عمدہ بات کو جاری کرے جو شریعت کی رو سے ثواب ہے) پھر لوگ اس کے بعد اس پر عمل کریں تو اس کو اتنا ثواب ہو گا جتنا سب عمل کرنے والوں کو ہو گا اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں کچھ کمی نہ ہو گی اور جو اسلام میں بری بات نکالے (مثلاً بدعت یا گناہ کی بات) اور لوگ اس کے بعد اس پر عمل کریں تو تمام عمل کرنے والوں کے برابر گناہ اس پر لکھا جائے گا اور عمل کرنے والوں کا گناہ کچھ کم نہ ہو گا۔“
Jarir reported that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) delivered an address in which he exhorted people to give charity.
جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اكرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ پڑھا اور لوگوں كو ترغیب دی صدقہ دینے كی پھر بیان كیا اسی طرح جیسے اوپر گزرا .
Jarir b. 'Abdullah reported Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The servant does not introduce good practice which is followed after him.... The rest of the hadith is the same.
محمد بن ابی اسماعیل نے کہا : ہمیں عبدالرحمٰن بن ہلال عبسی نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو بندہ بھی کسی نیک کام کا آغاز کرے جس پر اس کے بعد عمل کیا جائے ۔ " پھر پوری حدیث بیان کی ۔
Jarir transmitted this hadith from his father through several other chains of narrators.
عبدالملک بن عمیر اور عون بن ابی الجحیفہ نے مُنذِر بن جریر سے ، انہوں نے اپنے والد ( جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ) سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ۔
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who called (people) to righteousness, there would be reward (assured) for him like the rewards of those who adhered to it, without their rewards being diminished in any respect. And he who called (people) to error, he shall have to carry (the burden) of its sin, like those who committed it, without their sins being diminished in any respect.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص نے ہدایت کی دعوت دی اسے اس ہدایت کی پیروی کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ملے گا اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہو گی اور جس شخص نے کسی گمراہی کی دعوت دی ، اس پر اس کی پیروی کرنے والوں کے برابر گناہ ( کا بوجھ ) ہو گا اور ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہو گی ۔ "