صحیح مسلم

Sahih Muslim

کتاب: ذکر الٰہی‘دعا ‘توبہ اور استغفار

The book pertaining to the remembrance of allah , supplication , repentance and seeking forgiveness

ذکر میں آواز دھیمی رکھنا مستحب ہے، سوائے ان مقامات کے جہاں شریعت میں اس کے لیے آواز بلند کرنے کا حکم وارد ہوا ہے، مثلا: تلبیہ (حج) وغیرہ اور لا حول ولا قوة الا بالله کثرت سے کہنا مستحب ہے

Chapter: It Is Recommend To Lower One's Voice When Saying Remembrance, Except In The Cases Where It Is Commanded To Raise The Voice Such As The Talbiyah Etc. It Is Recommend To Say A Great Deal, There Is No Power And No Strength Except With Allah

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَجَعَلَ النَّاسُ يَجْهَرُونَ بِالتَّكْبِيرِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِنَّكُمْ لَيْسَ تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا إِنَّكُمْ تَدْعُونَ سَمِيعًا قَرِيبًا وَهُوَ مَعَكُمْ قَالَ وَأَنَا خَلْفَهُ وَأَنَا أَقُولُ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ فَقُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُلْ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ

Abu Musa reported: We were along with Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) on a journey when the people began to pronounce Allahu Akbar in a loud voice. Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: O people, show mercy to yourselves for you are not calling One who is deaf or absent. Verily, you are calling One who is All-Hearing (and) Near to you and is with you. Abu Musa said that he had been behind him (the Prophet) and reciting: There is neither might nor power but that of Allah. He (the Prophet), while addressing 'Abdullah b. Qais, said: Should I not direct you to a treasure from amongst the treasures of Paradise? I ('Abdullah b. Qais) said: Allah's Messenger, do it, of course. Thereupon he (the Prophet) said: Then recite: There is no might and no power but that of Allah.

محمد بن فضیل اور ابومعاویہ نے عاصم سے ، انہوں نے ابوعثمان سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک سفر میں ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ لوگ بلند آواز کے ساتھ اللہ اکبر کہنے لگے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے لوگو! اپنی جانوں پر نرمی کرو ، تم نہ کسی بہرے کو پکار رہے ہو ، نہ غائب کو ، تم اس کو پکار رہے ہو جو ہر وقت خوب سننے والا ہے ، قریب ہے اور تمہارے ساتھ ہے ۔ " اس وقت میں آپ کے پیچھے تھا اور یہ کہہ رہا تھا : " لا حول ولا قوة الا بالله " " گناہوں سے بچنے اور نیکی کی قوت صرف اور صرف اللہ سے ملتی ہے ۔ " تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عبدالہ بن قیس! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانے کا پتہ نہ بتاؤں؟ " میں نے کہا : کیوں نہیں ، اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا : " لا حول ولا قوة الا بالله " کہا کرو ۔ "

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ جَمِيعًا عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ عَنْ عَاصِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

This hadith has been narrated on the authority of 'Asim with the same chain of transmitters.

) حفص بن غیاث نے عاصم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يَصْعَدُونَ فِي ثَنِيَّةٍ قَالَ فَجَعَلَ رَجُلٌ كُلَّمَا عَلَا ثَنِيَّةً نَادَى لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ قَالَ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكُمْ لَا تُنَادُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا قَالَ فَقَالَ يَا أَبَا مُوسَى أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ قُلْتُ مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ

Abu Musa reported that he (and his other companions) were climbing upon the hillock along with Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and when any person climbed up, he pronounced (loudly): There is no god but Allah, Allah is the Greatest. Thereupon Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Verily, you are not supplicating One Who is deaf or absent. He said: Abu Musa or Abdullah b Qais, should I not direct you to the words (which form) the treasure of Paradise? I said: Allah's Messenger, what are these? He said: There is no might and no power but that of Allah.

یزید بن زُریع نے کہا : ہمیں ( سلیمان ) تیمی نے ابوعثمان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ لوگ ( صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور وہ ایک گھاٹی پر چڑھ رہے تھے ، کہا : ایک آدمی جب بھی اونچائی پر چڑھتا زور سے پکارنا شروع کر دیتا : " لا اله الا لله والله اكبر " ( ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ) کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم لوگ کسی بہرے کو یا اسے جو غائب ہو ، نہیں پکار رہے ۔ " کہا : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابوموسیٰ! یا ( فرمایا : ) عبداللہ بن قیس! کیا تمہیں ایسا کلمہ نہ بتاؤں جو جنت کے خزانے میں سے ہے؟ " میں نے عرض کی ، اللہ کے رسول! وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لا حول ولا قوة الا بالله " ( گناہوں سے بچنے کی ) کوئی کوشش اور ( نیکی کرنے کی ) کوئی قوت اللہ کے سوا کسی سے حاصل نہیں ہوتی ۔ "

و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ

This hadith has been transmitted on the authority of Abu Musa with a slight variation of wording.

معتمر نے اپنے والد ( سلیمان تیمی ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہمیں ابوعثمان نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر اسی ( سابقہ حدیث ) کی طرح بیان کیا ۔

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَاصِمٍ

Abu Musa reported: We were along with Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) on a journey; the rest of the hadith is the same as transmitted by A'sim.

ایوب نے ابوعثمان سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے ، پھر عاصم کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ وَالَّذِي تَدْعُونَهُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ عُنُقِ رَاحِلَةِ أَحَدِكُمْ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِ ذِكْرُ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ

Abu Musa, reported. We were along with Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) in an expedition. The rest of the hadith is the same (and there is an addi- tion of these words in that): He (the Holy Prophet) said: He Whom you are sup- plicating is nearer to every one of you than the neck of his camel. And there is no mention of these words: There is no might and no power but that of Allah.

خالد حذاء نے ابوعثمان سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم ایک غزوے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، پھر اس حدیث کو بیان کیا اور اس میں کہا : ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) " تم جس کو پکار رہے ہو وہ تم میں سے کسی کی اونٹنی کی گردن کی نسبت بھی اس کے زیادہ قریب ہے ۔ " اور ان ( خالد حذاء ) کی حدیث میں " لا حول ولا قوة الا بالله " کا ذکر نہیں ہے ۔

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ وَهُوَ ابْنُ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ أَوْ قَالَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ فَقُلْتُ بَلَى فَقَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ

Abu Musa Ash'ari reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to him: Should I not direct you to the words from the treasures of Paradise, or he said: Like a treasure from the treasures of Paradise? I said: Of course, do that. Thereupon he said: There is no might and no power but that of Allah.

عثمان بن غیاث نے کہا : ہمیں ابوعثمان نے حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ نے مجھ سے فرمایا : " کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک کلمہ نہ بتاؤں؟ " ۔ ۔ یا فرمایا : ۔ ۔ " جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانے کا پتہ نہ بتاؤں؟ " میں نے عرض کی : کیوں نہیں ( ضرور بتائیں ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لا حول ولا قوة الا بالله "