TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Characteristics of the hypocrites and rulings convering them - کتاب: منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام - Book 52 of Sahih Muslim with Urdu and English Translation

Book 52 of Sahih Muslim, with 19 chapters and 106 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

106 Hadith · 19 Chapters
Chapter: The Disbeliever Seeking Ransom With An Earthful Of Gold
کافر کا اپنے چھٹکارے کے لئے زمین بھر سونے کو طلب کرنا
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ إِلَّا قَوْلَهُ وَلَا أُدْخِلَكَ النَّارَ فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْهُ
This hadith has been narrated on the authority of Anas b. Malik through another chain of transmitters, but with a slight variation of wording (and the words are): I shall cause him to enter Hell. (The words subsequent to these) have not been mentioned.
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابو عمران سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کررہے تھے ، اسی کے مانند ، سوائے ( اللہ تعالیٰ کے ) اس قول کے : " اور میں تمھیں آگ میں نہیں ڈالوں گا " انھوں نے اسے بیان نہیں کیا ۔
7084
Sahih
Chapter: The Disbeliever Seeking Ransom With An Earthful Of Gold
کافر کا اپنے چھٹکارے کے لئے زمین بھر سونے کو طلب کرنا
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُقَالُ لِلْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ مِلْءُ الْأَرْضِ ذَهَبًا أَكُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيُقَالُ لَهُ قَدْ سُئِلْتَ أَيْسَرَ مِنْ ذَلِكَ
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger (may peace be u n him) said: It would be said to the non-believers on the Day of Resurrection: If you were to possess gold, filling the whole earth, would you like to secure your freedom by paying that? He would say: Yes. Thereupon it would be said to him: Something easier (than this) was demanded from you (but you paid no heed to it).
ہشام ( دستوائی ) نے قتادہ سےروایت کی ، کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " قیامت کے دن کافر سے کہا جائے گا : تمہارا کیا خیال ہے ، اگر تمہارے پاس زمین ( کی مقدار ) بھر سونا موجود ہوتو کیا تم ( جہنم کے عذاب سے بچنے کے لئے ) اس کو بطور فدیہ دے دو گے؟وہ کہے گا : ہاں ، تو اس سے کہا جائے گا : تم سے تو اس سے بہت آسان مطالبہ کیاگیا تھا ۔ "
7085
Sahih
Chapter: The Disbeliever Seeking Ransom With An Earthful Of Gold
کافر کا اپنے چھٹکارے کے لئے زمین بھر سونے کو طلب کرنا
و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ح و حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ كِلَاهُمَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَيُقَالُ لَهُ كَذَبْتَ قَدْ سُئِلْتَ مَا هُوَ أَيْسَرُ مِنْ ذَلِكَ
Anas reported this hadlth through another chain of transmitters and the words are: It would be said to him: You have told a lie; what had been demanded from you was quite easier than this (the belief in the Oneness of Allah).
سعید بن ابی عرو بہ نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ، مگر انھوں نے ( اس طرح ) کہا؛ " تو اس سے کہاجائے گا : تم جھوٹ بولتے ہو ، تم سے تو اس سے بہت آسان ( بات کا ) مطالبہ کیاگیا تھا ۔ "
7086
Sahih
Chapter: The Disbeliever Will Be Driven Upon His Face
کافر کو میدان حشر میں منہ کے بل لایا جائے گا
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يُحْشَرُ الْكَافِرُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ أَلَيْسَ الَّذِي أَمْشَاهُ عَلَى رِجْلَيْهِ فِي الدُّنْيَا قَادِرًا عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ قَتَادَةُ بَلَى وَعِزَّةِ رَبِّنَا
Anas b. Malik reported that a person said: Allah's Messenger, how the non-believers be made to assemble on the Day of Resurrection (by crawling) on their faces? Thereupon he said: Is He Who is powerful to make them walk on their feet not powerful enough to make them (crawl) upon their faces on the Day of Resurrection? Qatada said: Of course, it is so. (He adjured): By the might of our Lord.
شیبان نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کے روز کافر کو کس طرح منہ کے بل میدان حشر میں لایا جائے گا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کہ جس نے دنیا میں پاؤں کے بل چلایا ہےوہ اس بات پر قادر نہیں کہ قیامت کے دن اسے منہ کے بل چلائے؟ "" قتادہ نے ( حدیث سنانے کے بعد ) کہا : کیوں نہیں ، ہمارے رب کی عزت کی قسم! ( وہ قادر ہے )
7087
Sahih
Chapter: The Most Affluent Of People In This World Will Be Dipped In The Fire, And The Most Destitute Will Be Dipped In Paradise
دنیاوالوں میں سب سے زیادہ نعمتوں والے کو جہنم میں ایک ڈبکی لگانا اور ان میں سب سے زیادہ تکلیف اٹھانے والے کو جنت(کی نہروں) میں ایک غوطہ لگانا
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِأَنْعَمِ أَهْلِ الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُصْبَغُ فِي النَّارِ صَبْغَةً ثُمَّ يُقَالُ يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ خَيْرًا قَطُّ هَلْ مَرَّ بِكَ نَعِيمٌ قَطُّ فَيَقُولُ لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ وَيُؤْتَى بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا فِي الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيُصْبَغُ صَبْغَةً فِي الْجَنَّةِ فَيُقَالُ لَهُ يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ هَلْ مَرَّ بِكَ شِدَّةٌ قَطُّ فَيَقُولُ لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ مَا مَرَّ بِي بُؤْسٌ قَطُّ وَلَا رَأَيْتُ شِدَّةً قَطُّ
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said that one amongst the denizens of Hell who had led a life of ease and plenty amongst the people of the world would be made to dip in Fire only once on the Day of Resurrection and then it would be said to him: O, son of Adam, did you find any comfort, did you happen to get any material blessing? He would say: By Allah, no, my Lord. And then that person from amongst the persons of the world be brought who had led the most miserable life (in the world) from amongst the inmates of Paradise. and he would be made to dip once in Paradise and it would be said to him. 0, son of Adam, did you face, any hardship? Or had any distress fallen to your lot? And he would say: By Allah, no,0 my Lord, never did I face any hardship or experience any distress.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے دن اہل دوزخ میں سے اس شخص کو لایا جائے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ آسودہ تر اور خوشحال تھا ، پس دوزخ میں ایک بار غوطہ دیا جائے گا ، پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے آدم کے بیٹے! کیا تو نے دنیا میں کبھی آرام دیکھا تھا؟ کیا تجھ پر کبھی چین بھی گزرا تھا؟ وہ کہے گا کہ اللہ کی قسم! اے میرے رب! کبھی نہیں اور اہل جنت میں سے ایک ایسا شخص لایا جائے گا جو دنیا میں سب لوگوں سے سخت تر تکلیف میں رہا تھا ، جنت میں ایک بار غوطہ دیا جائے گا ، پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے آدم کے بیٹے! تو نے کبھی تکلیف بھی دیکھی ہے؟ کیا تجھ پر شدت اور رنج بھی گزرا تھا؟ وہ کہے گا کہ اللہ کی قسم! مجھ پر تو کبھی تکلیف نہیں گزری اور میں نے تو کبھی شدت اور سختی نہیں دیکھی ۔
7088
Sahih
Chapter: The Believer Is Rewarded For His Good Deeds In This World, And In The Hereafter, And The Disbeliever Is Rewarded For His Good Deeds In This World
مومن کو اس کی نیکیوں کا صلہ دینا اور آخرت دونوں میں ملتا ہے اور کافر کو اس کی نیکیوں کا صلہ فوری طور پر دنیا ہی میں مل جاتا ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مُؤْمِنًا حَسَنَةً يُعْطَى بِهَا فِي الدُّنْيَا وَيُجْزَى بِهَا فِي الْآخِرَةِ وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيُطْعَمُ بِحَسَنَاتِ مَا عَمِلَ بِهَا لِلَّهِ فِي الدُّنْيَا حَتَّى إِذَا أَفْضَى إِلَى الْآخِرَةِ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَةٌ يُجْزَى بِهَا
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Verily, Allah does not treat a believer unjustly in regard to his virtues. He would confer upon him (His blessing) in this world and would give him reward in the Hereafter. And as regards a non-believer, he would be made to taste the reward (of virtue in this world) what he has done for himself so much that when it would be the Hereafter, he would find no virtue for which he should be rewarded.
ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بے شک اللہ تعالیٰ کسی مومن کے ساتھ ایک نیکی کے معاملے میں بھی ظلم نہیں فرماتا ۔ اس کے بدلے اسے دنیا میں بھی عطا کرتا ہے اور آخرت میں بھی اس کی جزا دی جاتی ہے ۔ رہا کافر ، اسے نیکیوں کے بدلے میں جو اس نے دنیا میں اللہ کے لئے کی ہوتی ہیں ، اسی دنیا میں کھلا ( پلا ) دیا جاتاہے حتیٰ کہ جب وہ آخرت میں پہنچتا ہے تو اس کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں ہوتی جس کی اسے جزا دی جائے ۔ "
7089
Sahih
Chapter: The Believer Is Rewarded For His Good Deeds In This World, And In The Hereafter, And The Disbeliever Is Rewarded For His Good Deeds In This World
مومن کو اس کی نیکیوں کا صلہ دینا اور آخرت دونوں میں ملتا ہے اور کافر کو اس کی نیکیوں کا صلہ فوری طور پر دنیا ہی میں مل جاتا ہے
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْكَافِرَ إِذَا عَمِلَ حَسَنَةً أُطْعِمَ بِهَا طُعْمَةً مِنْ الدُّنْيَا وَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَإِنَّ اللَّهَ يَدَّخِرُ لَهُ حَسَنَاتِهِ فِي الْآخِرَةِ وَيُعْقِبُهُ رِزْقًا فِي الدُّنْيَا عَلَى طَاعَتِهِ
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) thus told him: When a non-believer does good he is made to taste Its reward in this world. And so far as the believer is concerned, Allah stores (the reward) of his virtues for the Hereafter and provides him sustenance in accordance with his obedience to Him.
معتمر کے والد ( سلیمان ) نے کہا : ہمیں قتادہ نے انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی : " بلاشبہ ایک کافر جب کوئی نیک کام کر تا ہے ۔ تو اس کے بدلے اسے دنیاکے کھانوں ( نعمتوں ) میں سے ایک لقمہ ( نعمت کی صورت میں ) کھلادیتاہے اور مومن اللہ تعالیٰ اس کی نیکیوں کا ذخیرہ آخرت میں کرتا جاتا ہے ۔ اور اس کی اطاعت شعاری پر دنیا میں ( بھی ) اسے رزق عطا فرماتا ہے ۔ "
7090
Sahih
Chapter: The Believer Is Rewarded For His Good Deeds In This World, And In The Hereafter, And The Disbeliever Is Rewarded For His Good Deeds In This World
مومن کو اس کی نیکیوں کا صلہ دینا اور آخرت دونوں میں ملتا ہے اور کافر کو اس کی نیکیوں کا صلہ فوری طور پر دنیا ہی میں مل جاتا ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمَا
This hadith has been narrated on the authority of Anas b. Malik through another chain of transmitters.
سعید ( بن ابی عروبہ ) نے قتادہ سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان دونوں ( ہمام اور سلیمان ) کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔
7091
Sahih
Chapter: The Believer Is Like A Plant And The Hypocrite And The Disbeliever Are Like Cedars
مومن کی مثال کھیتی کی طرح ہے اور کافر ومنافق کی دیوار درخت کی طرح ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الزَّرْعِ لَا تَزَالُ الرِّيحُ تُمِيلُهُ وَلَا يَزَالُ الْمُؤْمِنُ يُصِيبُهُ الْبَلَاءُ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ شَجَرَةِ الْأَرْزِ لَا تَهْتَزُّ حَتَّى تَسْتَحْصِدَ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The Similitude of a believer is that of (a standing) crop which the air continues to toss from one side to another; in the same way a believer always (receives the strokes) of misfortune. The similitude of a hypocrite is that of a cypress tree which does not move until it is uprooted.
۔ عبدالاعلیٰ نے ہمیں معمر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے زہری سے ، انہوں نے سعید سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مومن کی مثال کھیتی کی طرح ہے ۔ ہوا مسلسل اس کو ( ایک یا دوسری طرف ) جھکاتی رہتی ہے اور مومن پر مسلسل مصیبتیں آتی رہتی ہیں ، اور منافق کی مثال ودیوار درخت کی طرح ہے ( جس کا تناؤ ہوا میں بھی تن کرکھڑا رہتا ہے ) ۔ بلتا نہیں حتیٰ کہ ( ایک ہی بار ) اسے کاٹ کر گرادیاجاتا ہے ۔
7092
Sahih
Chapter: The Believer Is Like A Plant And The Hypocrite And The Disbeliever Are Like Cedars
مومن کی مثال کھیتی کی طرح ہے اور کافر ومنافق کی دیوار درخت کی طرح ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ مَكَانَ قَوْلِهِ تُمِيلُهُ تُفِيئُهُ
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters, but with a slight variation of wording.
عبدالرزاق نے کہا : ہمیں معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ خبر دی مگر عبدالرزاق کی حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان : " اسے جھکاتی رہتی ہے " کے بجائے " اسے موڑتی رہتی ہے " کے الفاظ ہیں ۔
7093
Sahih
Chapter: The Believer Is Like A Plant And The Hypocrite And The Disbeliever Are Like Cedars
مومن کی مثال کھیتی کی طرح ہے اور کافر ومنافق کی دیوار درخت کی طرح ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنِي ابْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ كَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنْ الزَّرْعِ تُفِيئُهَا الرِّيحُ تَصْرَعُهَا مَرَّةً وَتَعْدِلُهَا أُخْرَى حَتَّى تَهِيجَ وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَمَثَلِ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ عَلَى أَصْلِهَا لَا يُفِيئُهَا شَيْءٌ حَتَّى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً
Ka'b reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said that the similitude of a believer is that of a standing crop in a field which is shaken by wind and then it comes to its original position but it stands at its roots. The similitude of a non-believer is that of a cypress tree which stands on its roots and nothing shakes it but it is uprooted (with) one (violent stroke).
زکریا بن ابی زائدہ نے سعد بن ابراہیم سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے نے اپنے والد کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مومن کی مثال کھیتی کے باریک تیلی جیسے تنے کی ہے ۔ ہوا اسے موڑ دیتی ، ایک مرتبہ زمین پر لٹادیتی ہے اور دوسری مرتبہ اسے سیدھا کریتی ہے ، یہاں تک کہ وہ پیلا ہوکر خشک ہوجاتا ہے اور کافر کی مثال ویودار درخت کی سی ہے جو اپنی جڑوں پر تن کر کھڑا ہوتا ہے ، اسے کوئی چیز موڑ نہیں سکتی ، یہاں تک کہ اس کا اکھڑ کاگرنا ایک ہی بار ہوتا ہے ۔ "
7094
Sahih
Chapter: The Believer Is Like A Plant And The Hypocrite And The Disbeliever Are Like Cedars
مومن کی مثال کھیتی کی طرح ہے اور کافر ومنافق کی دیوار درخت کی طرح ہے
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنْ الزَّرْعِ تُفِيئُهَا الرِّيَاحُ تَصْرَعُهَا مَرَّةً وَتَعْدِلُهَا حَتَّى يَأْتِيَهُ أَجَلُهُ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ مَثَلُ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ الَّتِي لَا يُصِيبُهَا شَيْءٌ حَتَّى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً
Ka'b b. Malik reported on the authority of his father that the similitude of a believer is that of a standing crop. The wind sometimes shakes it and sometimes raises it up and then it comes to its destined end. And the similitude of a hypocrite is that of a cypress tree which is not affected by anything but is uprooted once for all.
زہیر بن حرب نے مجھے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں بشر بن سری اور عبدالرحمان بن مہدی نے حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں سفیان بن عینیہ نے سعد بن ابراہیم سے ، انھوں نے عبدالرحمان بن کعب بن مالک سے ، انھوں نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " مومن کی مثال کھیتی کے تیلی نمانرم تنے کی سی ہے جس کو ہوا موڑتی رہتی ہے ، کبھی اس کو لٹا دیتی ہے اور کبھی کھڑا کردیتی ہے ، حتیٰ کہ اس ( کے پک کرکٹنے ) کا وقت آجاتا ہے ، اور منافق کی مثال ویودار کے مضبوط جڑوں والے درخت کی طرح ہے ، اس پر ( ایسی ) کوئی مشکل نہیں آتی ، حتیٰ کہ ایک ہی دفعہ وہ جڑوں سے اکھڑ ( کرگر ) جاتا ہے ۔ "
7095
Sahih
Chapter: The Believer Is Like A Plant And The Hypocrite And The Disbeliever Are Like Cedars
مومن کی مثال کھیتی کی طرح ہے اور کافر ومنافق کی دیوار درخت کی طرح ہے
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنْ الزَّرْعِ تُفِيئُهَا الرِّيَاحُ تَصْرَعُهَا مَرَّةً وَتَعْدِلُهَا حَتَّى يَأْتِيَهُ أَجَلُهُ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ مَثَلُ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ الَّتِي لَا يُصِيبُهَا شَيْءٌ حَتَّى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً
Same as Hadees 7095
محمد بن حاتم اور محمود بن غیلان نے مجھے یہی حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں بشر بن سری نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں سفیان نے سعد بن ابراہیم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبداللہ بن کعب بن مالک سے ، انھوں نے ا پنے والد سے ، اورانھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، مگر محمود نے بشر سے اپنی روایت میں کہا : " کافر کی مثال ویودار کے درخت کی طرح ہے ۔ " اور ابن حاتم نے " منافق کی مثال " کہا ، جس طرح زہیر نے کہا ہے ۔
7096
Sahih
Chapter: The Believer Is Like A Plant And The Hypocrite And The Disbeliever Are Like Cedars
مومن کی مثال کھیتی کی طرح ہے اور کافر ومنافق کی دیوار درخت کی طرح ہے
و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَا حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ أَنَّ مَحْمُودًا قَالَ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ بِشْرٍ وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَمَثَلِ الْأَرْزَةِ وَأَمَّا ابْنُ حَاتِمٍ فَقَالَ مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَا قَالَ زُهَيْرٌ و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ ابْنُ هَاشِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ و قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ عَنْ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ وَقَالَا جَمِيعًا فِي حَدِيثِهِمَا عَنْ يَحْيَى وَمَثَلُ الْكَافِرِ مَثَلُ الْأَرْزَةِ
This hadith has been narrated through a couple of other chains of transmitters, one which says the similitude of the disbeliever instead and another which agrees with the wording of the previous hadith.
محمد بن بشار اور عبداللہ بن ہاشم نے ہمیں حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں یحییٰ قطان نے سفیان سے ، انھوں نے سعد بن ابراہیم سے حدیث بیان کی ۔ ابن ہاشم نے کہا : عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی اور ابن بشار نے کہا : ابن کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت ہے انھوں نے اپنے والد سے ۔ انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، جیسے ان سب کی حدیث ہے ۔ اور ان دونوں نے اپنی حدیث میں کہا : یحییٰ سے روایت ہے : " اورکافر کی مثال ویودار کے درخت جیسی ہے ۔ "
7097
Sahih
Chapter: The Mischief Of The Shaitan And How He Sends His Troops To Tempt People, And With Every Person There Is A Qarin (Companion From Among The Jinn)
لوگوں میں فتنہ ڈالنے کے لیے شیطان کا اپنے لشکروں کو اکسانا اور ان کو اس کام کے لیے بھیجنا،نیز ہر انسان کے ہمراہ ہمیشہ ایک ساتھ رہنے والا شیطان موجود رہتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ فَحَدِّثُونِي مَا هِيَ فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ فَاسْتَحْيَيْتُ ثُمَّ قَالُوا حَدِّثْنَا مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ هِيَ النَّخْلَةُ قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعُمَرَ قَالَ لَأَنْ تَكُونَ قُلْتَ هِيَ النَّخْلَةُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا
Abdullah b. Umar reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: There is a tree amongst trees, the leaves of which do not wither and that is like a Muslim; tell me which that (tree) can be? The people began to think of the trees of the forest. Abdullah said: I thought that it could be the date-palm tree, but I felt hesitant (to say that). They (the Companions) then said: Allah's Messenger, (kindly) tell us which that can be? Thereupon he said: It is the date-palm tree. I made a mention of that to 'Umar, whereupon he said: Had you said that it meant the date-palin tree, this statement of yours (would have been dearer to me) than such and such things.
عبداللہ بن دینار نے کہا کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئےسنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" درختوں میں سے ایک درخت ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے اور وہ درخت مسلمان کی طرح ہے ۔ لہذا مجھے بتاؤ کہ وہ کون سادرخت ہے؟ "" تو لوگوں کا دھیان جنگل کے مختلف درختوں کی طرف کیا ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میرے دل میں یہ خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے ۔ لیکن میں جھجک گیا پھر وہ ( لوگ ) کہنے لگے : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آ پ بتائیے کہ وہ کون سا ( درخت ) ہے؟ کہا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" وہ کھجور کا درخت ہے ۔ "" ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو میں نے یہ ( بات اپنے والد ) حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوبتائی تو انھوں نے کہا : اگر تم نے کہہ دیا ہوتا کہ وہ کھجور کا درخت ہے تو میرے نزدیک یہ ( جواب ) فلاں فلاں ( سرخ اونٹوں ) سے بھی زیادہ پسندیدہ ہوتا ۔
7098
Sahih
Chapter: The Mischief Of The Shaitan And How He Sends His Troops To Tempt People, And With Every Person There Is A Qarin (Companion From Among The Jinn)
لوگوں میں فتنہ ڈالنے کے لیے شیطان کا اپنے لشکروں کو اکسانا اور ان کو اس کام کے لیے بھیجنا،نیز ہر انسان کے ہمراہ ہمیشہ ایک ساتھ رہنے والا شیطان موجود رہتا ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ الضُّبَعِيِّ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا لِأَصْحَابِهِ أَخْبِرُونِي عَنْ شَجَرَةٍ مَثَلُهَا مَثَلُ الْمُؤْمِنِ فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَذْكُرُونَ شَجَرًا مِنْ شَجَرِ الْبَوَادِي قَالَ ابْنُ عُمَرَ وَأُلْقِيَ فِي نَفْسِي أَوْ رُوعِيَ أَنَّهَا النَّخْلَةُ فَجَعَلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَقُولَهَا فَإِذَا أَسْنَانُ الْقَوْمِ فَأَهَابُ أَنْ أَتَكَلَّمَ فَلَمَّا سَكَتُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ النَّخْلَةُ
Ibn Umar reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) one day said to his Companions: Tell me about a tree which has resemblance with a believer. The people began to mention (different) trees of the forest. Ibn 'Umar said: It was instilled in my mind or in my heart and it stuck therein that it implied the date- palm tree. I made up my mind to make a mention of that but could not do that because of the presence of the elderly people there. When there was a hush amongst them (after they had expressed their views), Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: It Is the date-palm tree.
ابوخلیل الضبعی نے مجاہد سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ا پنے صحابہ سے فرمایا؛ "" مجھے اس درخت کے بارے میں بتاؤ جس کی مثال مومن جیسی ہے ۔ "" تو لوگ جنگلوں کے درختوں میں سے کوئی ( نہ کوئی ) درخت بتانے لگے ۔ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اور میرے دل میں یا ( کہا : ) میرے ذہن میں یہ بات ڈالی گئی کہ وہ کھجور کا د رخت ہے میں ارادہ کرنے لگا کہ بتادوں ، لیکن ( وہاں ) قوم کے معمر لوگ موجود تھے تو میں ان کی ہیبت سے متاثر ہوکر بولنے سے رک گیا ۔ جب وہ سب خاموش ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" وہ کھجور کا درخت ہے ۔ ""
7099
Sahih
Chapter: The Mischief Of The Shaitan And How He Sends His Troops To Tempt People, And With Every Person There Is A Qarin (Companion From Among The Jinn)
لوگوں میں فتنہ ڈالنے کے لیے شیطان کا اپنے لشکروں کو اکسانا اور ان کو اس کام کے لیے بھیجنا،نیز ہر انسان کے ہمراہ ہمیشہ ایک ساتھ رہنے والا شیطان موجود رہتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَمَا سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِجُمَّارٍ فَذَكَرَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمَا
Mujahid said: (I have had the privilege) of accompanying Ibn 'Umar up to Medina but I did not hear him narrate anything from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) except one hadith. And he said: We were in the presence of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) that there was brought to him the kernel of a date. The rest of the hadith is the same.
ابن ابی نجیح نے مجاہد سے روایت کی ، کہا : میں مدینہ تک حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ رہا ، میں نے انھیں ایک حدیث کے سوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا ۔ انھوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے تو آپ کے پاس کھجور کے تنے کانرم گودا لایا گیا ۔ پھر ان دونوں ( ابوخلیل ضبعی اورعبداللہ بن دینار ) کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
7100
Sahih
Chapter: The Mischief Of The Shaitan And How He Sends His Troops To Tempt People, And With Every Person There Is A Qarin (Companion From Among The Jinn)
لوگوں میں فتنہ ڈالنے کے لیے شیطان کا اپنے لشکروں کو اکسانا اور ان کو اس کام کے لیے بھیجنا،نیز ہر انسان کے ہمراہ ہمیشہ ایک ساتھ رہنے والا شیطان موجود رہتا ہے۔
و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا سَيْفٌ قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُمَّارٍ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ
Mujahid reported: I heard Ibn 'Umar as saying: There was brought to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) the kernel. The rest of the hadith is tile same.
سیف نے ہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے مجاہد کو سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س کھجور کے تنے کا نرم گودا لایا کیا ، پھر ان کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
7101
Sahih
Chapter: The Mischief Of The Shaitan And How He Sends His Troops To Tempt People, And With Every Person There Is A Qarin (Companion From Among The Jinn)
لوگوں میں فتنہ ڈالنے کے لیے شیطان کا اپنے لشکروں کو اکسانا اور ان کو اس کام کے لیے بھیجنا،نیز ہر انسان کے ہمراہ ہمیشہ ایک ساتھ رہنے والا شیطان موجود رہتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَخْبِرُونِي بِشَجَرَةٍ شِبْهِ أَوْ كَالرَّجُلِ الْمُسْلِمِ لَا يَتَحَاتُّ وَرَقُهَا قَالَ إِبْرَاهِيمُ لَعَلَّ مُسْلِمًا قَالَ وَتُؤْتِي أُكُلَهَا وَكَذَا وَجَدْتُ عِنْدَ غَيْرِي أَيْضًا وَلَا تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ لَا يَتَكَلَّمَانِ فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ أَوْ أَقُولَ شَيْئًا فَقَالَ عُمَرُ لَأَنْ تَكُونَ قُلْتَهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا
Ibn Umar reported: We were'in the company of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) that he said: Tell me of a tree which has resemblance to a Muslim and the leaves of which do not wither. Ibrahim said that perhaps Imam Muslim had stated like this: It constantly bears fruit but I have, however, seen [It does not bear fruit constantly]. Ibn Umar said: It crossed my mind that it could be the date-palm tree, but as I saw Aba Bakr and Umar observe silence, I did not deem it fit that I should speak or I should say something. 'Umar said: Had you said so, it would have been dearer to me than such and such thing.
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے ، آپ نے فرمایا : "" مجھے اس درخت کے متعلق بتاؤ جو ایک مسلمان آدمی سے مشابہ یا ( فرمایا : ) کی طرح ہے ، اس کے پتے نہیں جھڑتے ۔ "" ( امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کےشاگرد ) ابراہیم ( بن سفیان ) نے کہا : غالباً ( ہمارے شیخ ) امام مسلم نے "" اور وہ ( درخت ) اپنا پھل دیتاہے "" کہا ہوگا ( لیکن میرے پاس "" نہیں دیتا "" لکھا ہے ) اور میں نے اپنے دوسرے ساتھیوں کے ہاں بھی ( ان کے نسخوں میں ) یہی پایا ہے : اور وہ ہر وقت اپنا پھل نہیں دیتا ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : تو میرے دل میں آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے ۔ مگر میں نے حضرت ابو بکر وعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھاکہ وہ نہیں بول رہے تھے تو میں نے یہ بات ناپسندی کہ میں بولوں اور کچھ کہوں ، چنانچہ ( میری بات سن کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اگر تم یہ بات کہہ دیتے تو مجھے یہ فلاں فلاں ( سرخ اونٹوں ) سے زیادہ پسندہوتا ۔
7102
Sahih
Chapter: No One Will Enter Paradise By Virtue Of His Deeds, Rather By The Mercy Of Allah, Exalted Is He
محض اپنے عمل سے کو ئی شخص جنت میں نہیں جا ئے گا بلکہ اللہ کی رحمت سے جائے گا
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَلَكِنْ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَهُمْ
Jabir reported: I heard Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Verily, the Satan has lost all hopes that the worshippers would ever worship (him) in the peninsula of Arabia, but he (is hopeful) that he would sow the seed of dissension amongst them.
جریر نےاعمش سے ، انھوں نے ابو سفیان سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " شیطان اس بات سے ناامید ہوگیا ہے کہ جزیر ہ عرب میں نماز پڑھنے والے اس کی عبادت کریں گے لیکن وہ ان کے درمیان لڑائی جھگڑے کرانے سے ( مایوس نہیں ہوا ۔ )
7103
Sahih

Chapters

19
01
منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام
21 Hadith
02
Characteristics of the Day of Judgment, Paradise, and Hell
قيامت‘جنت اور دوزخ کے احوال
9 Hadith
03
Chapter: The Beginning Of Creation And The Creation Of Adam, (Peace Be Upon Him)
مخلوقات(کی تخلیق) کی ابتدا اور حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق
3 Hadith
04
Chapter: The Welcoming Feast Of The People Of Paradise
اہل جنت کی ضیافت
2 Hadith
05
Chapter: The Jews' Asking The Prophet (SAW) About The Soul, And The Words Of Allah: And They Ask You Concerning The Ruh (The Spirit)
یہودیوں کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روح کے متعلق سوال اور اللہ تعالیٰ کا فرمان : وہ آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں
5 Hadith
06
Chapter: The Words Of Allah The Most High: And Allah Would Not Punish Them While You Are Amongst Them
اللہ تعالیٰ کا فرمان : اور اللہ ایسا نہیں کہ وہ ان لوگوں کو عذاب دے جبکہ آپ ان میں موجود ہوں
1 Hadith
07
Chapter: The Words Of Allah: Verily, Man Does Transgress Because He Considers Himself Self-Sufficient.
اللہ تعالیٰ کا فرمان :یقیناً انسان سرکشی کرتا ہے اس لیے کہ خود کو مستغنی سمجھتا ہے
1 Hadith
08
Chapter: The Smoke (Ad-Dukhan)
دھویں کا بیان
5 Hadith
09
Chapter: The Splitting Of The Moon
چاند کا دو ٹکڑے ہوجانا:
9 Hadith
10
Chapter: The Disbelievers
کافروں کے بارے میں(اللہ عزوجل کا تحمل)
3 Hadith
11
Chapter: The Disbeliever Seeking Ransom With An Earthful Of Gold
کافر کا اپنے چھٹکارے کے لئے زمین بھر سونے کو طلب کرنا
4 Hadith
12
Chapter: The Disbeliever Will Be Driven Upon His Face
کافر کو میدان حشر میں منہ کے بل لایا جائے گا
1 Hadith
13
Chapter: The Most Affluent Of People In This World Will Be Dipped In The Fire, And The Most Destitute Will Be Dipped In Paradise
دنیاوالوں میں سب سے زیادہ نعمتوں والے کو جہنم میں ایک ڈبکی لگانا اور ان میں سب سے زیادہ تکلیف اٹھانے والے کو جنت(کی نہروں) میں ایک غوطہ لگانا
1 Hadith
14
Chapter: The Believer Is Rewarded For His Good Deeds In This World, And In The Hereafter, And The Disbeliever Is Rewarded For His Good Deeds In This World
مومن کو اس کی نیکیوں کا صلہ دینا اور آخرت دونوں میں ملتا ہے اور کافر کو اس کی نیکیوں کا صلہ فوری طور پر دنیا ہی میں مل جاتا ہے
3 Hadith
15
Chapter: The Believer Is Like A Plant And The Hypocrite And The Disbeliever Are Like Cedars
مومن کی مثال کھیتی کی طرح ہے اور کافر ومنافق کی دیوار درخت کی طرح ہے
6 Hadith
16
Chapter: The Mischief Of The Shaitan And How He Sends His Troops To Tempt People, And With Every Person There Is A Qarin (Companion From Among The Jinn)
لوگوں میں فتنہ ڈالنے کے لیے شیطان کا اپنے لشکروں کو اکسانا اور ان کو اس کام کے لیے بھیجنا،نیز ہر انسان کے ہمراہ ہمیشہ ایک ساتھ رہنے والا شیطان موجود رہتا ہے۔
5 Hadith
17
Chapter: No One Will Enter Paradise By Virtue Of His Deeds, Rather By The Mercy Of Allah, Exalted Is He
محض اپنے عمل سے کو ئی شخص جنت میں نہیں جا ئے گا بلکہ اللہ کی رحمت سے جائے گا
21 Hadith
18
Chapter: Doing A Lot Of Good Deeds And Striving Hard In Worship
باب: زیادہ سے زیادہ عمل کرنا اور عبادت میں پوری کوشش صرف کرنا
3 Hadith
19
Chapter: Moderation In Preaching
وعظ و نصیحت میں اعتدال
3 Hadith
No chapter matched that.