صحیح مسلم

Sahih Muslim

کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں

The book of mosques and places of prayer

نقش و نگار والے کپڑے میں نماز پڑھنا مکروہ ہے

Chapter: It is disliked to offer salat in a garment with markings

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلَامٌ، وَقَالَ: «شَغَلَتْنِي أَعْلَامُ هَذِهِ فَاذْهَبُوا بِهَا إِلَى أَبِي جَهْمٍ، وَأْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّةٍ»

A'isha reported: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) prayed in a garment which had designs over it, so he (the Holy Prophet) said: Take it to Abu Jahm and bring me a plain blanket from him, because its designs have distracted me.

) سفیان بن عیینہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے زہری سے ، انھوں نعروہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی اکرم ﷺ نے بیل بوٹوں والی ایک منقش چادر میں نماز پڑھی اور فرمایا : ’’ اس کے بیل بوٹوں نے مجھے مشغول کر دیا تھا ، اسے ابو جہم کے پاس لے جاؤ اور ( اس کے بدلے ) مجھے انبجانی چادر لا دو ۔ ‘ ‘

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي خَمِيصَةٍ ذَاتِ أَعْلَامٍ، فَنَظَرَ إِلَى عَلَمِهَا، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ: «اذْهَبُوا بِهَذِهِ الْخَمِيصَةِ إِلَى أَبِي جَهْمِ بْنِ حُذَيْفَةَ، وَائْتُونِي بِأَنْبِجَانِيِّهِ، فَإِنَّهَا أَلْهَتْنِي آنِفًا فِي صَلَاتِي»

A'isha reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) stood for prayer with a garment which had designs over it. He looked at these designs and after completing the prayer said: Take this garment to Abu Jahm b. Hudhaifa and bring me a blanket for it has distracted me just now.

یونس نے ابن شہاب ( زہری ) سے خبر دی ، انھوں نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے خبر دی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ ایک بیل بوٹوں والی منقش چادر پر نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو اس کے نقش و نگار پر آپ کی نظر پڑی ، جب آپ اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : ’’یہ منقش چادر ابو جہم بن حذیفہ کے پاس لے جاؤ اور مجھے اس کی ( سادہ ) انبجانی چادر لادو کیونکہ اس نے ابھی میر نماز سے میری توجہ ہٹا دی تھی ۔ ‘ ‘

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ لَهُ خَمِيصَةٌ لَهَا عَلَمٌ، فَكَانَ يَتَشَاغَلُ بِهَا فِي الصَّلَاةِ، فَأَعْطَاهَا أَبَا جَهْمٍ وَأَخَذَ كِسَاءً لَهُ أَنْبِجَانِيًّا»

A'isha reported: The Apostle of Allah (way peace be upon him) had a garment which had designs upon it and this distracted him in prayer. He gave it to Abu Jahm and took a plain garment in its place which is known anbijaniya.

ابن شہاب زہری کے بجائے ) ہشام نے اپنے والد عروہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کی کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک منقش چادر تھی جس پر بیل بوٹے بنے ہوئے تھے ، نماز میں آپ کا خیال اس کی طرف چلا جاتا تھا ، آپ نے وہ ابو جہم کو دے دی اور اس کی ( بیل بوٹوں کے بغیر سادہ ) انبجانی چادر اس سے لے لی ۔ ( یہ چادر آذر بیجان کے ایک شہر انبجان کی طرف منسوب تھی ۔ )