Salim narrated on the authority of his father (Ibn 'Umar) that the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Envy is not justified but in case of two persons only: one who, having been given (knowledge of) the Qur'an by Allah, recites it during the night and day (and also acts upon it) and a man who, having been given wealth by God, spends it during the night and the day (for the welfare of others. seeking the pleasure of the Lord).
سفیان بن عینیہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ( ابن شہاب ) زہری نے سالم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " دو چیزوں ( خوبیوں ) کے سوا کسی اور چیز میں حسد ( رشک ) کی گنجائش نہیں : ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کی نعمت عنایت فرمائی ، پھر وہ دن اور رات کی گھڑیوں میں اس کے ساتھ قیام کرتا ہے ۔ اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے مال ودولت سے نوازا اور وہ دن اور رات کے اوقات میں اسے ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرتا ہے ۔ "
Salim son of Abdullah b. 'Umar is reported to have said on the authority of his father that the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed: Envy is not justified but in case of two persons only: one who, having been given (knowledge of) the Qur'an by Allah, recites it during the night and during the day (and acts upon it), and the person who, having been given wealth by God, gives it in charity during the night and the day.
یونس نے ابن شہاب ( زہری ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے والد سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دو چیزوں کے علاوہ کسی چیز میں حسد ( رشک ) نہیں : ایک اس شخص سے متعلق جسے اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب عنایت فرمائی اور اس نے دن رات کی گھڑیوں میں اس کے ساتھ قیام کیا اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال سے نوازا اور اس نے دن رات کے اوقات میں اسے صدقہ کیا ۔ "
Abdullah b. Mas'ud reported Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: There should be no envy but only in case of two persons: one having been endowed with wealth and power to spend it in the cause of Truth, and (the other) who has been endowed with wisdom and he decides cases with the help of it and teaches it (to others).
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دو باتوں کے سوا کسی چیز میں حسد ( رشک ) نہیں کیا جاسکتا : ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا پھر اسے اس پر مسلط کردیا کہ وہ اس مال کو حق کی راہ میں بے دریغ لٹائے ۔ دوسرا وہ انسان جسے اللہ تعالیٰ نے حکمت ( دانائی ) عطا کی اور وہ اس کے مطابق ( اپنے اور دوسروں کے ) معاملات طے کر تا ہے اور اس کی تعلیم دیتاہے ۔ "
Amir b. Wathila reported that Nafi' b. 'Abd al-Harith met 'Umar at 'Usfan and 'Umar had employed him as collector in Mecca. He (Hadrat 'Umar) said to him (Nafi'): Whom have you appointed as collector over the people of the valley? He said: Ibn Abza. He said: Who is Ibn Abza? He said: He is one of our freed slaves. He (Hadrat 'Umar) said: So you have appointed a freed slave over them. He said: He is well versed In the Book of Allah. the Exalted and Great, and he is well versed In the commandments and injunctions (of the Shari'ah). 'Umar said: So the Prophet ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: By this Book, Allah would exalt some peoples and degrade others.
ابراہیم بن سعد نے ابن شہاب ( زہری ) سے اور انھوں نے عامر بن واثلہ سے روایت کی کہ نافع بن عبدالحارث ( مدینہ اور مکہ کے راستے پر ایک منزل ) عسفان آکر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملے ، ( وہ استقبال کے لئے آئے ) اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ انھیں مکہ کا عامل بنایا کرتے تھے ، انھوں ( حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے ان سے پوچھا کہ آپ نے اہل وادی ، یعنی مکہ کے لوگوں پر ( بطور نائب ) کسے مقرر کیا؟نافع نے جواب دیا : ابن ابزیٰ کو ۔ انھوں نے پوچھا ابن ابزیٰ کون ہے؟کہنے لگے : ہمارے آزاد کردہ غلاموں میں سے ایک ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : تم نے ان پر ایک آزاد کردہ غلام کو اپنا جانشن بنا ڈالا؟تو ( نافع نے ) جواب دیا : و ہ اللہ عزوجل کی کتاب کو پڑھنے والا ہے اور فرائض کا عالم ہے ۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ( ہاں واقعی ) تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب ( قرآن ) کے ذریعے بہت سے لوگوں کو اونچا کردیتا ہے اور بہتوں کو اس کے ذریعے سے نیچا گراتا ہے ۔ "
This hadith has been narrated by Zuhri through another chain of transmitters.
شعیب نے زہری سے خبر دی ، انھوں نے کہا : مجھے عامر بن واثلہ لیثی نے حدیث بیان کی کہ نافع بن عبدالحارث خزاعی نے عسفان ( کے مقام ) پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات کی ۔ ۔ ۔ ( آگے ) زہری سے ابراہیم بن سعد کی روایت کی طرح بیان کیا ۔