۔ سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : روز قیامت اللہ تعالی کے نزدیک سب سے بڑی خیانتیہ ہو گی کہ دو آدمیوںیا شریکوں کے درمیان زمین ساجھی ہو، پھر جب وہ اسے تقسیم کرنا چاہیں تو ان میں سے ایک دوسرے کی اس زمین سے ایک ہاتھ کے برابر چرا لے، ایسے شخص کو سات زمینوں سے طوق پہنایا جائے گا۔ ایک روایت میں ہے: جب وہ ایسے کرے گا تو اسے سات زمینوں سے طوق پہنایا جائے گا۔
۔ سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کے نزدیک سب سے بڑی خیانت ایک ہاتھ زمین ہے اور وہ یوں کہ دو آدمی ایک زمینیا گھر میں شریک ہوتے ہیں، لیکن ان میں سے ایک اپنے ساتھی کے حصے میں سے ایک ہاتھ کے بقدر ناحق اپنے قابو میںکر لیتا ہے، جب وہ اس پر قبضہ کرتا ہے تو اسے روز قیامت تک سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا ظلم سب سے بڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک ہاتھ زمین، جسے آدمی اپنے بھائی کے حق سے چھین لیتا ہے،جو آدمی اس طرح کی ایک کنکری کے بقدر زمین ہتھیا لیتا ہے، قیامت کے دن اسے زمین کی گہرائی تک طوق پہنایا جائے گااور زمین کی گہرائی کو کوئی نہیں جانتا، مگر وہی جس نے اس کو پیدا کیا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو ظلم کرتے ہوئے کسی کی زمین ہتھیا لیتا ہے، اسے سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا۔
۔ سیدنایعلیٰ بن مرہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کسی کی زمین پر ناحق قبضہ کر لیا، اسے قیامت کے دن یہ تکلیف دی جائے گی کہ وہ اس جگہ کی مٹی کو اٹھا کر محشر میں لائے۔
۔ (دوسری سند) سیدنایعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جوشخص ظلم کرتے ہوئے کسی کی ایک بالشت زمین ہتھیا لے گا، اللہ تعالی اسے یہ تکلیف دے گا کہ وہ اس زمین کو سات زمینوں تک کھودے اور پھر اسے قیامت کے دن لوگوں کے مابین فیصلہ ہونے تک (اس مٹی) کا طوق پہنا دیا جائے گا۔
۔ سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کندہ کے ایک شخص اور حضرموت کے ایک آدمی کے مابینیمن میں واقع ایک زمین کے معاملے میں جھگڑا ہو گیا، حضرمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ زمین میری ہے، اس نے اور اس کے باپ نے اس پر ناجائز قبضہ کر لیاہے، کندہ کے باشندے نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ زمین میری ہے، مجھے اپنے باپ کے ورثے میںملیہے، حضرمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس سے یہ قسم لے لیں کہ اسے معلوم نہیں ہے کہ یہ میری اور میرے والد کی زمین ہے اور غصب کرنے والا اس کا باپ ہے۔اُدھر کندی قسم اٹھانے کے لئے تیارہو گیا، لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی شخص جھوٹی قسم کے ذریعے کس کا مال ہتھیا لے گا تو روز قیامت جب اس کی ملاقات اللہ تعالیٰ سے ہوگی تو اس کا ہاتھ کٹا ہوا ہو گا۔ یہ فرمان سن کر کندی نے کہا: یہ زمین اس کی اور اس کے باپ کی ہے۔
۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور وہ زمین کے معاملے میں کسی سے جھگڑ رہے تھے، سیدہ نے کہا: اے ابو سلمہ! زمین کے معاملے میں احتیاط برتنا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص ایک بالشت کے بقدر نا حق زمین ہتھیا لیتا ہے، اس کو سات زمینوں سے طوق پہنایا جائے گا۔