TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

فصل: ارویٰ بنت اویس اور سیدنا سعید بن زیدbکا واقعہ - فصل: ارویٰ بنت اویس اور سیدنا سعید بن زیدbکا واقعہ - غصب کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of غصب کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 8 · 2 Hadith
۔ (۶۲۰۲)۔ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: أَتَتْنِیْ أَرْوٰی بِنْتُ أُوَیْسٍ فِیْ نَفَرٍمنْ قُرَیْشٍ فِیْہِمْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَہْلٍ فَقَالَتْ: إِنَّ سَعِیْدَ بْنَ زَیْدٍ قَدِ انْتَقَصَ مِنْ اَرْضِیْ إِلٰی أَرْضِہِ مَا لَیْسَ لَہُ وَقَدْ اَحْبَبْتُ أَنْ تَأْتُوْہُ فَتُکَلِّمُوْہُ، قَالَ: فَرَکِبْنَا إِلَیْہِ وَھُوَ فِیْ أَرْضِہِ بِالْعَقِیْقِ، فَلَمَّا رَآنَا قَالَ: قَدْ عَرَفْتُ الَّذِیْ جَائَ بِکُمْ، وَسَأُحَدِّثُکُمْ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ أَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ مَا لَیْسَ لَہُ طُوِّقَہُ إِلَی السَّابِعَۃِ مِنَ الْأَرْضِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَمَنْ قُتِلَ دُوْنَ مَالِہِ فَہُوَ شَہِیْدٌ۔)) وَفِیْ لفظ: ((وَمَنْ ظَلَمَ مِنَ الْأَرْضِ شِبْرًا طُوِّقَہُ مِنْ سَبْعِ أَرْضِیْنَ۔)) وفِیْ لفظ: ((إِلٰی سَبْعِ اَرْضِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۲)
۔ طلحہ بن عبد اللہ بن عوف سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: قریش کے ایک وفد کے ساتھ ارویٰ بنت اویس میرے پاس آئی، اس وفد میں عبد الرحمن بن سہل بھی تھا، وہ خاتون کہنے لگی: سیدنا سعیدبن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے میری زمین کا کچھ حصہ اپنی زمین میں ملا لیا ہے، دراصل وہ اس کا نہیں تھا، اب میں چاہتی ہوں کہ آپ اس کے پاس جائیں اور اس بارے میں اس سے بات کریں۔ طلحہ کہتے ہیں: ہم سوار ہو کر ا س کے پاس عقیق مقام پر گئے، اسی مقام پر ان کی زمین تھی،انہوں نے ہمیں دیکھ کر کہا: میں جانتا ہوں کہ تمہاری آمد کا مقصد کیاہے، میں تمہیں وہ حدیث سناتا ہوں، جو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ جو کسی کی وہ زمین ہتھیا لے گا، جو اس کی نہیں ہو گی تو اللہ تعالیٰ اسے روز قیامت ساتوں زمینوں تک کا طوق ڈالے گا اور جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہو گیا وہ شہید ہے۔
Takhreej
(۶۲۰۲) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ النسائی: ۷/ ۱۱۵، وابن ماجہ: ۲۵۸۰(انظر: ۱۶۴۲)
6202
Sahih
۔ (۶۲۰۳)۔ عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ قَالَ: قَالَ لَنَا مَرْوَانُ: انْطَلِقُوْا فَاصْلِحُوْا بَیْنَ ھٰذَیْنِ سَعِیْدِ بْنِ زَیْدٍ وَأَرْوٰی بِنْتِ اُوَیْسٍ، فَاَتَیْنَا سَعْیدَ بْنَ زَیْدٍ فَقَالَ: اَتَرَوْنَ اَنِّیْ قَدِ اسْتَنْقَصْتُ مِنْ حَقِّہَا شَیْئًا؟ اَشْہَدُ لَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ أَخَذَ (وَفِیْ لَفْظٍ: مَنْ سَرَقَ) شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ بِغَیْرٍ حَقِّہِ طُوِّقَہُ مِنْ سَبْعِ أَرْضِیْنَ، وَمَنْ تَوَلَّی قَوْمًا بِغَیْرِ إِذْنِہِمْ فَعَلَیْہِ لَعْنْۃُ اللّٰہِ، وَمَنِ اقْتَطَعَ مَالَ أَخِیْہِ بِیَمِیْنِہِ فَـلَا بَارَکَ اللّٰہُ لَہُ فِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۹)
۔ ابو سلمہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: مروان نے ہم سے کہا کہ جائیں اور سیدنا سعید بن زید اور ارویٰ بنت اویس کے درمیان صلح کروائیں۔ جب ہم سیدنا سعید بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس پہنچے تو انہوں نے ہمیں کہا: تمہارا کیا خیال ہے کہ میں نے ارویٰ کی زمین کا حصہ مار لیا ہے؟ میں نے تو خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو کوئی بغیر حق کے ایک بالشت کے بقدر کسی کی زمین ہتھیا لے گا یا چرا لے گا، اس کو سات زمینوں سے طوق پہنایا جائے گا اور جس نے اجازت کے بغیر کسی قوم کو اپنا والی بنایا، اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوگی اور جس نے قسم کے ذریعے اپنے بھائی کا مال چھین لیا، اللہ تعالیٰ اس میں برکت نہیں کرے گا۔
Takhreej
(۶۲۰۳) تخریج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… سیدنا سعید بن زیدbکا حدیث بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اروی اپنے بیان میں سچی نہیں ہے، انھوں نے نہ اس کی زمین ہتھیائی ہے اور نہ چرائی ہے۔ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق سیدنا سعیدb نے یہ حدیث بیان کرنے کے بعد کہا: اَللّٰھُمَّ اِنْ کَانَتْ کَاذِبَۃً فَاَعْمِ بَصَرَھَا وَاجْعَلْ قَبَرَھَا فِیْ دَارِھَا۔ … اے اللہ! اگر یہ اروی جھوٹی ہے تو اس کو اندھا کر دے اور اس کی قبر اس کے گھر کے اندر بنا دے۔ راوی کہتا ہے: پھر میں نے اس خاتون کو دیکھا کہ وہ اندھی ہو گئی اور دیوار کو چھو کر چلتی تھی اور کہتی تھی: سعید بن زید کی بد دعا مجھے لگ گئی ہے، ایک دن وہ اپنے گھر میں چل رہی تھی کہ گھر میں موجود کنویں میں گر پڑی اور وہی اس کی قبر ٹھہرا۔
6203
Sahih

Chapters

8
01
جان بوجھ کر اور از راہِ مذاق غصب کی ممانعت اور مسلمان بھائی کا مال غصب کرنے کی وعید کا بیان
8 Hadith
02
زمین کو غصب کرنے یا اس کو چوری کرنے والے کا بیان، اگرچہ وہ ایک بالشت یا ایک ہاتھ کے برابر ہو
8 Hadith
03
فصل: ارویٰ بنت اویس اور سیدنا سعید بن زیدbکا واقعہ
2 Hadith
04
اس شخص کا بیان جس نے مالک کی اجازت کے بغیر بکری پکڑ کر اس کو ذبح کیا اور اس کو بھونا یا پکایا
2 Hadith
05
غصب شدہ چیز ہی واپس کرنا، اگر وہ اسی حالت میں باقی ہو، یا اس کی قیمت ادا کرنا، اگر وہ قیمت والی ہو یا اس کے متبادل اس کی مثل واپس کرنا، اگر وہ مثل والی ہو، جب غاصب نے اس کو تلف کر دیا ہو یا وہ اس کے ہاتھ میں تلف ہو گئی ہو
2 Hadith
06
دوسروں کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر کھیتی کاشت کرنے والے اور مالکوں کی اجازت کے بغیر پھل یا کھیتی میں سے کچھ لینے والے کا بیان
4 Hadith
07
حیوانوں کے نقصان کا بیان
3 Hadith
08
حملہ کرنے والے کو روکنا، اگرچہ اس کو قتل کرنا پڑے اور اس لڑائی میں اگر وہ قتل ہو جائے جس پر حملہ کیا گیا تو وہ شہید ہو گا
5 Hadith
No chapter matched that.