مسنداحمد

Musnad Ahmad

غصب کے مسائل

حملہ کرنے والے کو روکنا، اگرچہ اس کو قتل کرنا پڑے اور اس لڑائی میں اگر وہ قتل ہو جائے جس پر حملہ کیا گیا تو وہ شہید ہو گا

۔ (۶۲۱۵)۔ عَنْ قُہَیْدِ بْنِ مُطَرِّفِ نِ الْغِفَارِیِّ قَالَ: سَأَلَ سَائِلٌ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: إِنْ عَدَا عَلَیَّ عَادٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ذَکِّرْہُ (وَأَمَرَہُ بِتَذْکِیْرِہِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَفِیْ لَفْظٍ: فَأَمَرَہُ أَنْ یَنْہَاہُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ) فَاِنْ اَبٰی فَقَاتِلْہُ، فَاِنْ قَتَلَکَ فَاِنَّکَ فِیْ الْجَنَّۃِ وَإِنْ قَتَلْتَہُ فَاِنَّہُ فِی النَّارِ)) (مسند احمد: ۱۵۵۶۸)

۔ سیدنا قہید بن مطرف غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک سائل نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا کہ اگر کوئی ظالم مجھ پر حملہ کرتا ہے (تو میں کیا کروں)؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو نصیحت کر، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو حکم دیا کہ وہ اس کو تین دفعہ منع کرے، اگر وہ پھر بھی باز نہ آئے تو اس سے لڑائی کر، اس لڑائی میں اگر اس نے تجھے قتل کر دیا تو تو جنت میں جائے گا اور اگر تونے اسے قتل کر دیا تو وہ جہنم میں جائے گا۔

۔ (۶۲۱۶)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنْ عُدِیَ عَلٰی مَالِیْ؟ قَالَ: ((فَانْشُدِ اللّٰہَ۔)) قَالَ: فَاِنْ أَبَوْا عَلَیَّ؟ قَالَ: ((اُنْشُدِ اللّٰہَ۔)) قَالَ: فَاِنْ أَبَوْا عَلَیَّ؟ قَالَ: ((فانْشُدِاللّٰہَ۔)) قَالَ: فَاِنْ أَبَوْا عَلَیَّ؟ قَالَ: ((فَقَاتِلْ فَاِنْ قُتِلْتَ فَفِی الْجَنَّۃِ، وَإِنْ قَتَلْتَ فَفِیْ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۸۴۵۶)

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر کوئی آدمی ظلم کرتے ہوئے میرا مال لینا چاہے تو میں کیا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے اللہ کا واسطہ دے۔ اس نے کہا: اگر وہ نہ مانے تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اسے اللہ کا واسطہ دے۔ اس نے کہا: اگر وہ پھرنہ مانے تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیسری بار اسے اللہ کا واسطہ دے۔ اس نے کہا: اگر وہ پھر بھی نہ مانے تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب کی بار اس سے لڑائی کر، اور اگر اس لڑائی میں تو قتل ہو گیا تو جنت میں جائے گا اور اگر وہ مارا گیا تو وہ دوزخ میں جائے گا۔

۔ (۶۲۱۷)۔ عَنْ قَابُوْسَ بْنِ الْمُخَارِقِ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: اَتٰی رَجُلٌ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنْ أَتَانِیْ رَجُلٌ یَأْخُذُ مَالِیْ؟ قَالَ: ((تُذَکِّرُہُ بِاللّٰہِ تَعَالٰی۔)) قَالَ: أَرَأَیْتَ اِنْ ذَکَّرْتُہُ بِاللّٰہِ فَلَمْ یَنْتَہِ، قَالَ: ((تَسْتَعِیْنُ عَلَیْہِ بِالسُّلْطَانِ۔)) قَالَ: أَرَأَیْتَ اِنْ کَانَ السُّلْطَانُ مِنِّی نَائِیًا قَالَ: ((تَسْتَعِیْنُ عَلَیْہِ بِالْمُسْلِمِیْنَ)) قَالَ: أَرَأَیْتَ اِنْ لَمْ یَحْضُرْنِیْ أحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ وَعَجِلَ عَلَیَّّ؟ قَالَ: ((فَقَاتِلْ حَتّٰی تَحُوْزَ مَالَکَ أَوْ تُقْتَلَ فَتَکُوْنَ فِیْ شُہَدَائِ الْآخِرَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۸۸۱)

۔ سیدنا محازق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اس نے کہا: ایک آدمی میرے پاس آتا ہے اورــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمیرا مال لینا چاہتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے اللہ کا واسطہ دے۔ اس نے کہا: اگر میں اسے اللہ کا واسطہ دوں لیکن وہ باز نہ آئے تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے خلاف حکمران سے مدد طلب کر۔ اس نے کہا: اگر حکمران دور ہو (اور اس تک رسائی ممکن نہ ہو)؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے خلاف دوسرے مسلمانوں سے فریاد رسی کر۔ اس نے کہا: اگر وہاں کوئی مسلمان بھی نہ ہو تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھراس سے لڑ، یہاں تک کہ تو اپنے مال کی حفاظت کر لے یا آخرت کے شہداء میں سے ہو جائے۔

۔ (۶۲۱۸)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قُتِلَ دُوْنَ مَالِہِ فَہُوَ شَہِیْدٌ)) (مسند احمد: ۵۹۰)

۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہو جائے، وہ شہید ہے۔

۔ (۶۲۱۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قُتِلَ دُوْنَ مَظْلِمَۃٍ فَہُوَ شَہِیْدٌ۔)) (مسند احمد: ۲۷۷۹)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص ظلم کے خلاف مارا جائے، وہ شہید ہے۔