مسنداحمد

Musnad Ahmad

فقہ کی تیسری نوع: اقضیہ احکام فیصلوں اور شہادتوں کے مسائل

قضا اور امارت کی حرص رکھنے کی کراہت کا بیان

۔ (۶۳۹۲)۔ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ مَوْھَبٍ أَنَّ عُثْمَانَ قَالَ لِاِبْنِ عُمَرَ: اقْضِ بَیْنَ النَّاسِ، فَقَالَ لَہُ: لَا أَقْضِیْ بَیْنَ اثْنَیْنِ وَلَا أَؤُمُّ رَجُلَیْنِ، أَمَا سَمِعْتَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ عَاذَ بِاللّٰہِ فَقَدْ عَاذَ بِمَعَاذٍ۔)) قَالَ عُثْمَانُ: بَلٰی، قَالَ: فَاِنِّیْ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ اَنْ تَسْتَعْمِلَنِیْ، فَأَعْفَاہُ وَقَالَ: لَا تُخْبِرْ بِہٰذَا أَحَدًا۔ (مسند احمد: ۴۷۵)

۔ یزید بن موہب سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدناعبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: لوگوں کے ما بین فیصلہ کرو، انھوں نے کہا: میں دوآدمیوں کے مابین قاضی بنوں گا نہ دو آدمیوں کا امام بنوں گا، اے عثمان! کیا آپ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا تھا کہ جس نے اللہ تعالی کے ساتھ پناہ مانگی، اس نے بہت بڑی پناہ مانگی۔ ؟ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی، کیوں نہیں، انھوں نے کہا: تو پھر میں اس بات سے اللہ تعالی کی پناہ چاہتا ہوں کہ آپ مجھے عامل بنائیں، پس سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو معاف کر دیا، لیکن کہا: کسی اور کو یہ حدیث بیان نہ کرنا۔

۔ (۶۳۹۳)۔ عَنْ بِلَالِ بْنِ اَبِیْ مُوْسٰی عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: أَرَادَ الْحَجَّاجُ أَنْ یَجْعَلَ ابْنَہُ عَلٰی قَضَائِ الْبَصَرَۃِ، قَالَ: فَقَالَ أَنَسٌ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ طَلَبَ الْقَضَائَ وَاسْتَعَانَ عَلَیْہِ وُکِّلَ اِلَیْہِ، وَمَنْ لَمْ یَطْلُبْہُ وَلَمْ یَسْتَعِنْ عَلَیْہِ اَنْزَلَ اللّٰہُ مَلَکًا یَسُدِّدُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۳۳۳۵)

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ کہ حجاج نے ان کے بیٹے کو بصرہ پر قاضی مقرر کرنا چاہا تو انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے عہدئہ قضا طلب کیا اور دوسرے کے تعاون سے اسے حاصل کرنے کی کوشش کی تو اسے اس عہدے کے سپرد کر دیا جائے گا اور جو آدمی نہ اس کو طلب کرتا ہے اور نہ اس کے حصول کے لئے دوسروں کا تعاون لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے فرشتہ نازل کرے گا، جو درستی کی طرف اس کی رہنمائی کرے گا۔

۔ (۶۳۹۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ عَنْ اَنَسٍ) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ سَأَلَ الْقَضَائَ وُکِّلَ اِلَیْہِ، وَمَنْ اُجْبِرَ عَلَیْہِ نَزَلَ عَلَیْہِ مَلَکٌ فََیُسَدِّدُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۲۰۸)

۔ (دوسری سند)سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے عہدئہ قضا خود طلب کیا وہ اس کے سپرد کر دیا جائے گا اور جسے زبردستی دیا گیا، اس پر ایک فرشتہ نازل ہو گا، جو بہتری کی طرف اس کی رہنمائی کرے گا۔

۔ (۶۳۹۵)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَذَاکَرْتُہَا حَتّٰی ذَکَرْنَا الْقَاضِیَ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَیَأْتِیَنَّ عَلَی الْقَاضِی الْعَدْلِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ سَاعَۃٌیَتَمَنّٰی أَنَّہُ لَمْ یَقْضِ بَیْنَ اثْنَیْنِ فِیْ تَمْرَۃٍ قَطُّ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۶۸)

۔ عمران بن حطان کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس حاضر ہوا اور ان سے مذاکرہ کرنے لگا، یہاں تک کہ قاضی کے عہدے کا ذکر ہونے لگا، اس موقع پر سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قاضی پر قیامت کے روز ایک گھڑی ایسی آئے گی کہ وہ یہ آروز کرے گا کہ کاش کہ اس نے دوآدمیوں کے درمیان ایک کھجور کا بھی فیصلہ نہ کیا ہوتا۔

۔ (۶۳۹۶)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ جُعِلَ قَاضِیًا بَیْنَ النَّاسِ فَقَدْ ذُبِحَ بِغَیْرِ سِکِّیْنٍ۔)) (مسند احمد: ۸۷۶۲)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جسے لوگوں پر قاضی مقرر کیا گیا، اسے گویا چھری کے بغیر ذبح کر دیا گیا۔