۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایکیا دو مرتبہ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو حاکم اور فیصل لوگوں کے درمیان فیصلہ کرتا ہے، قیامت والے دن اسے روک لیا جائے گا اور فرشتہ اسے گردن سے پکڑ کر دوزخ کے بالکل قریب لا کر کھڑا کر دے گا، پھر وہ فرشتہ سر اٹھا کر اللہ تعالی کی جانب دیکھے گا، اگر اللہ تعالییہ کہہ دے گا کہ اس کو پھینک دے تو وہ فرشتہ اسے دوزخ میں پھینک دے گا اوروہ چالیس سال تک گرتا رہے گا۔
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قاضی جب فیصلہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا ہاتھ اس کے ساتھ ہوتا ہے اور اسی طرح جب کوئی آدمی مال تقسیم کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا ہاتھ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ (یعنی جب تک وہ انصاف کرتے رہتے ہیں)۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ وہ کون لوگ ہیں جو روزِ قیامت اللہ تعالی کے سائے کی طرف سبقت لے جانے والے ہوں گے؟ لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جب انہیں حق ملے تو اسے قبول کرتے ہیںاور جب ان سے حق کا سوال کیا جائے تو وہ اس کو خرچ کرتے ہیں اور جب لوگوں کے لئے فیصلہ کرتے ہیں تو ایسے فیصلہ کرتے ہیں، جیسے وہ اپنے نفسوں کے لیے کر رہے ہوں۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا میں انصاف کرنے والے روز قیامت اللہ تعالی کے سامنے موتیوں کے منبروں پر جلوہ افروز ہوں گے، اس وجہ سے کہ انھوں نے دنیا میںانصاف کیا تھا۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انصاف کرنے والے قیامت والے دن اللہ تعالیٰ کی دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے، جبکہ اللہ تعالی کے دونوں ہاتھ دائیں ہی ہیں،یہ وہ لوگ ہوں گے جو اپنے فیصلوں میں، اپنے اہل و عیال کے حق میں اور اپنے ما تحت امور اور افراد کے حق میں انصاف کرتے ہوں گے۔
۔ سیدنا معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے لوگوں کے ما بین کوئی فیصلہ کرنے کا حکم دیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اچھے انداز میںفیصلہ نہیں کر سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی اس وقت تک قاضی کے ساتھ ہوتا ہے، جب تک وہ ظلم نہ کرے۔