TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ظالم حاکموں کی مذمت اور مُنصِف حکمرانوں کی فضیلت کا بیان - ظالم حاکموں کی مذمت اور مُنصِف حکمرانوں کی فضیلت کا بیان - فقہ کی تیسری نوع: اقضیہ احکام فیصلوں اور شہادتوں کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of فقہ کی تیسری نوع: اقضیہ احکام فیصلوں اور شہادتوں کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 12 · 6 Hadith
۔ (۶۳۹۷)۔ عَنْ مَسْرُوْقٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ مَرَّۃً أَوْ مَرَّتَیْنِ: عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ حَکَمٍیَحْکُمُ بَیْنَ النَّاسِ اِلَّا حُبِسَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَمَلَکٌ آخِذٌ بِقَفَاہُ حَتّٰییَقِفَہُ عَلٰی جَہَنَّمَ ثُمَّ یَرْفَعُ رَأْسَہُ اِلَی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ فَاِنْ قَالَ: اَلْقِہِ، اَلْقَاہُ فِیْ جَہَنَّمَ یَہْوِیْ أَرْبَعِیْنَ خَرِیْفًا۔)) (مسند احمد: ۴۰۹۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایکیا دو مرتبہ بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو حاکم اور فیصل لوگوں کے درمیان فیصلہ کرتا ہے، قیامت والے دن اسے روک لیا جائے گا اور فرشتہ اسے گردن سے پکڑ کر دوزخ کے بالکل قریب لا کر کھڑا کر دے گا، پھر وہ فرشتہ سر اٹھا کر اللہ تعالی کی جانب دیکھے گا، اگر اللہ تعالییہ کہہ دے گا کہ اس کو پھینک دے تو وہ فرشتہ اسے دوزخ میں پھینک دے گا اوروہ چالیس سال تک گرتا رہے گا۔
Takhreej
(۶۳۹۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف مجالد الھمدانی، وروی مرفوعا و موقوفا، والموقوف اصح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۳۱۱ (انظر: ۴۰۹۷)
6397
Zaeef
۔ (۶۳۹۸)۔ عَنْ اَبِیْ أَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَدُ اللّٰہِ مَعَ الْقَاضِی حِیْنَیَقْضِیْ، وَیَدُ اللّٰہِ مَعَ الْقَاسِمِ حِیْنَیَقْسِمُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۰۸)
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قاضی جب فیصلہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا ہاتھ اس کے ساتھ ہوتا ہے اور اسی طرح جب کوئی آدمی مال تقسیم کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا ہاتھ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ (یعنی جب تک وہ انصاف کرتے رہتے ہیں)۔
Takhreej
(۶۳۹۸) اسنادہ ضعیف، عبد اللہ بن لھیعۃ سیء الحفظ۔ أخرجہ البیھقی: ۱۰/ ۱۳۲(انظر: ۲۳۵۱۱)
6398
Zaeef
۔ (۶۳۹۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((أَ تَدْرُوْنَ مَنِ السَّابِقُوْنَ اِلٰی ظِلِّ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ؟)) قَالُوْا: اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗاَعْلَمُ، قَالَ: ((الَّذِیْنَ اِذَا أُعْطُوْا الْحَقَّ قَبِلُوْہُ وَاِذَا سُئِلُوْہُ بَذَلُوْہُ وَحَکَمُوْا لِلنَّاسِ کَحُکْمِہِمْ لِأَنْفُسِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۸۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ وہ کون لوگ ہیں جو روزِ قیامت اللہ تعالی کے سائے کی طرف سبقت لے جانے والے ہوں گے؟ لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جب انہیں حق ملے تو اسے قبول کرتے ہیںاور جب ان سے حق کا سوال کیا جائے تو وہ اس کو خرچ کرتے ہیں اور جب لوگوں کے لئے فیصلہ کرتے ہیں تو ایسے فیصلہ کرتے ہیں، جیسے وہ اپنے نفسوں کے لیے کر رہے ہوں۔
Takhreej
(۶۳۹۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابن لھیعۃ سیء الحفظ (انظر: ۲۴۳۷۹)
6399
Zaeef
۔ (۶۴۰۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الْمُقْسِطِیْنَ فِی الدُّنْیَا عَلٰی مَنَابِرَ مِنْ لُؤْلُؤٍ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بَیْنَیَدَیِ الرَّحْمٰنِ بِمَا أَقْسَطُوْا فِی الدُّنْیَا۔)) (مسند احمد: ۶۴۸۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دنیا میں انصاف کرنے والے روز قیامت اللہ تعالی کے سامنے موتیوں کے منبروں پر جلوہ افروز ہوں گے، اس وجہ سے کہ انھوں نے دنیا میںانصاف کیا تھا۔
Takhreej
(۶۴۰۰) تخریج:أخرجہ مسلم: ۱۸۲۷(انظر: ۶۴۸۵)
6400
Zaeef
۔ (۶۴۰۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) یَبْلُغُ بِہٖالنَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمُقْسِطُوْنَ عِنْدَ اللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی مَنَابِرَ مِنْ نُوْرٍ عَلٰییَمِیْنِ الرَّحْمٰنِ وَکِلْتَا یَدَیْہِیَمِیْنٌ، الَّذِیْنَیَعْدِلُوْنَ فِیْ حُکْمِہِمْ وَأَھْلِیْہِمْ وَمَا وَلُوْا۔)) (مسند احمد: ۶۴۹۲)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انصاف کرنے والے قیامت والے دن اللہ تعالیٰ کی دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے، جبکہ اللہ تعالی کے دونوں ہاتھ دائیں ہی ہیں،یہ وہ لوگ ہوں گے جو اپنے فیصلوں میں، اپنے اہل و عیال کے حق میں اور اپنے ما تحت امور اور افراد کے حق میں انصاف کرتے ہوں گے۔
Takhreej
(۶۴۰۱) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
6401
Zaeef
۔ (۶۴۰۲)۔ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَّارٍ الْمُزَنِیِّ قَالَ: أَمَرَنِی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ أَقْضِیَ بَیْنَ قَوْمٍ، فَقُلْتُ: مَا أُحْسِنَ أَنْ أَقْضِیَیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اَللّٰہُ مَعَ الْقَاضِیْ مَا لَمْ یَحِفْ عَمَدًا۔)) (مسند احمد: ۲۰۵۷۱)
۔ سیدنا معقل بن یسار مزنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے لوگوں کے ما بین کوئی فیصلہ کرنے کا حکم دیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اچھے انداز میںفیصلہ نہیں کر سکتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی اس وقت تک قاضی کے ساتھ ہوتا ہے، جب تک وہ ظلم نہ کرے۔
Takhreej
(۶۴۰۲) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، نفیع بن الحارث الاعمی متروک الحدیث، وقد کذبہ ابن معین۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۰/ ۵۳۹ (انظر: ۲۰۳۰۵)
Explanation
فوائد:… سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفیbبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہa نے فرمایا: ((اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الْقَاضِیْ مَا لَمْ یَجُرْ، فَاِذَا جَارَ تَخَلّٰی عَنْہُ وَلَزِمَہُ الشَّیْطَانُ۔))… ’’بیشک اللہ تعالی اس وقت تک قاضی کے ساتھ ہوتا ہے، جب تک وہ ظلم نہیںکرتا، جب وہ ظلم کرتا ہے تو اللہ تعالی اس سے ہٹ جاتا ہے اور شیطان اس کو چمٹ جاتا ہے۔‘‘ (ترمذی: ۱۳۳۰، ابن ماجہ: ۲۳۱۲) اس موضوع سے متعلقہ احادیث ِ صحیحہ کا تقاضا یہ ہے کہ حکمرانوں اور حاکموں کو عدل و انصاف کی روش اختیار کرنی چاہیے، جبکہ عدل کے تقاضے اتنے زیادہ ہیں کہ ان کو پورا کرنا بہت مشکل ہے، مسلم حکمران طبقے کو خلفائے راشدین کے طرزِ خلافت کا مطالعہ کرنا چاہیے اور یہ نکتہ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ اس شعبے کا چودھراہٹ کے اظہار اور دنیوی مال و زر کے حصول کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔
6402
Sahih

Chapters

12
01
قاضی کے فیصلے میں درستی اور خطا دونوں کے امکان، مجتہد قاضی کے اجر اور اس کے فیصلہ کرنے کی کیفیت کا بیان
6 Hadith
02
قضا اور امارت کی حرص رکھنے کی کراہت کا بیان
5 Hadith
03
ظالم حاکموں کی مذمت اور مُنصِف حکمرانوں کی فضیلت کا بیان
6 Hadith
04
حاکم کو رشوت سے منع کرنے کا بیان
5 Hadith
05
قضا اور قاضی کے آداب کا بیان فریقین کا کلام سن لینے سے پہلے فیصلہ کر دینے سے ممانعت کا بیان
1 Hadith
06
غصے کی حالت میں فیصلہ کرنے سے ممانعت کا بیان
2 Hadith
07
فریقین کا قاضی کے سامنے بیٹھنے کا بیان
1 Hadith
08
باطل چیز پر جھگڑنے والے کے گناہ کا بیان، اگرچہ بظاہر اس کے لیے فیصلہ کر دیا گیا ہو اور اس چیز کا بیان کہ کیا قاضی اپنے علم کی روشنی میں فیصلہ کر سکتا ہے یا نہیں
3 Hadith
09
دعووں، گواہیوں اور قسم کی صورتوں وغیرہ کے ابواب مالوں اور خونوں جیسے معاملات میں جب مُدَّعِی کے پاس گواہ نہ ہو تو مُدّعٰی علیہ سے قسم لینے کا بیان
3 Hadith
10
ایک گواہ اور ایک قسم کے ساتھ فیصلہ کرنے والے کا بیان
4 Hadith
11
جب فریقین کسی چیز کی ملکیت کا دعوی کریں اور ان کے پاس کوئی گواہ نہ ہو تو قرعہ کے ذریعے فیصلہ کرنے کابیان، اسی طرح اس چیز کی وضاحت کہ اگر دونوں کے پاس گواہ تو ہوں، لیکن متعارض ہوں
3 Hadith
12
رسول اللہ a کے کیے ہوئے چند متفرق فیصلہ جات
2 Hadith
No chapter matched that.