مسنداحمد

Musnad Ahmad

زنا کی حد کے ابواب

اجنبی عورت پر اچانک پڑ جانے والی نگاہ کی معافی کا اور ایسی نگاہ کے بعد نظر جھکا لینے کے ثواب بیان اور آپ a کا فرمان کہ ’’جب کوئی آدمی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اس کو پسند آ جائے تو وہ اپنی بیوی کے پاس پہنچے (اور جماع کرے)

۔ (۶۶۶۳)۔ عَنْ جَرِیْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْبَجَلِیِّ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ نَظْرَۃِ الْفَجْأَۃِ فَأَمَرَنِیْ أَنْ أَصْرِفَ بَصَرِیْ۔ (مسند احمد: ۱۹۳۷۳)

۔ سیدنا جریر بن عبد اللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اچانک پڑ جانے والی نظر کے بارے میں سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں نظر پھیر لیا کروں۔

۔ (۶۶۶۴)۔ عَنْ اَبِیْ أُمَامَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَنْظُرُ إِلٰی مَحَاسِنِ امْرَأَۃٍ أَوَّلَ مَرَّۃٍ ثُمَّ یَغُضُّ بَصَرَہُ اِلَّا أَحْدَثَ اللّٰہُ لَہُ عِبَادَۃًیَجِدُ حَلَاوَتَہَا۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۳۴)

۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مسلمان کی پہلی مرتبہ کسی عورت کے محاسن پر نظر پڑتی ہے، لیکن پھر وہ اپنی نظر کو پست کر لیتاہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایسی عبادت پیدا کر دیتا ہے کہ وہ اس کی مٹھاس محسوس کرتا ہے۔

۔ (۶۶۶۵)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْاَنْصَارِیِّ أَنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَأَی امْرَأَۃً فَأَعْجَبَتْہُ فَاَتٰی زَیْنَبَ وَھِیَ تَمْعَسُ مَنِیْئَۃً فَقَضٰی مِنْہَا حَاجَتَہُ، وَقَالَ: ((إِنَّ الْمَرْأَۃَ تُقْبِلُ فِیْ صُوْرَۃِ شَیْطَانٍ وَتُدْبِرُ فِیْ صُوْرَۃِ شَیْطَانٍ فَاِذَا رَأَی أَحَدُکُمُ امْرَأَۃً فَأَعْجَبَتْہُ فَلْیَأْتِ أَھْلَہُ فَاِنَّ ذَاکَ یَرُدُّ مَا فِیْ نَفْسِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۹۱)

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک عورت کو دیکھا، وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اچھی لگی، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی حرم پاک سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس تشریف لے گئے، جبکہ وہ چمڑا مل رہی تھیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے اپنی حاجت پوری کی اور فرمایا: بے شک عورت شیطان کی صورت میں متوجہ ہوتی ہے اور شیطان کی صورت میں ہی پیٹھ پھیر کر جاتی ہے، اس لیے جب کوئی آدمی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اس کو اچھی لگے تو وہ اپنی بیوی کے پاس جائے اور (اپنی حاجت پوری کر لے)، یہ چیز اس کے نفس کے برے خیال کو ختم کر دے گی۔

۔ (۶۶۶۶)۔ عَنْ اَبِیْ کَبْشَۃَ الْاَنْمَارِیِّ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ جَالِسًا فِی اَصْحَابِہِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ وَقَدِ اغْتَسَلَ فَقُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَدْ کَانَ شَیْئٌ؟ قَالَ: ((أَجَلْ قَدْ مَرَّتْ بِیْ فُلَانَۃُ فَوَقَعَ فِیْ قَلْبِیْ شَہْوَۃُ النِّسَائِ فَأَتَیْتُ بَعْضَ أَزْوَاجِیْ فَأَصَبْتُہَا فَکذَالِکَ فَافْعَلُوْا، فَاِنَّہُ مِنْ أَمَاثِلِ أَفْعَالِکُمْ إِتْیَانُ الْحَلَالِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۹۱)

۔ سیدنا ابو کبشہ انماری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے درمیان تشریف فرما تھے کہ اچانک آپ گھر داخل ہوئے اور پھر باہر تشریف لائے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غسل بھی کیا ہوا تھا، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول!کچھ ہوا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں، فلاں عورت میرے پاس سے گزری، اس سے میرے دل میں عورتوں کی خواہش بیدار ہوئی، اس لیے میںاپنی بیوی کے پاس گیا اور حق زوجیت ادا کیا، تم بھی اسی طرح کیا کرو، حلال کو اختیار کرنا تمہارے افضل اعمال میں سے ہے۔