مسنداحمد

Musnad Ahmad

زنا کا اقرار کرنے کے بارے میں ابواب

چار مرتبہ زنا کا اقرار تکرار کرانے کا اعتبار

۔ (۶۶۹۹)۔ عَنْ اَبِیْ بَکْرِ الصِّدِّیْقِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَالِسًا فَجَائَ مَاعِزُ بْنُ مَالِکٍ فَاعْتَرَفَ عِنْدَہُ مَرَّۃً فَرَدَّہُ، ثُمَّ جَائَ فَاعْتَرَفَ عِنْدَہُ الثَّانِیَۃَ فَرَدَّہُ، ثُمَّ جَائَ فَاعْتَرَفَ الثَّالِثَۃَ فَرَدَّہُ، فَقُلْتُ لَہُ: اِنَّکَ اِنِ اعْتَرَفْتَ الرَّابِعَۃَ رَجَمَکَ، قَالَ: فَاعْتَرَفَ الرَّابِعَۃَ فَجَسَہُ ثُمَّ سَأَلَ عَنْہُ فَقَالُوْا: مَانَعْلَمُ اِلَّا خَیْرًا، قَالَ: فَأَمَرَ بِرَجْمِہِ۔ (مسند احمد: ۴۱)

۔ سیدنا ابوبکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ماعز بن مالک آیا اور ایک دفعہ زنا کا اعتراف کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو واپس لوٹا دیا، وہ پھر آیا اور دوسری مرتبہ زنا کا اعتراف کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر اس کو واپس لوٹا دیا، وہ پھر آ گیا اور تیسری بار اعترا ف کیا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس بار بھی اس کو واپس لوٹا دیا، میں نے ماعز سے کہا: اگر تو نے چوتھی مرتبہ اعتراف کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تجھے رجم کر دیں گے، لیکن اس کے باوجود وہ آیا اور چوتھی دفعہ اعتراف کر لیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے روک لیا اور پھر اس کے بارے میں لوگوں سے دریافت کیا، انہوں نے کہا: ہم تو اس کے بارے میں صرف خیر و بھلائی کا علم رکھتے ہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو رجم کرنے کا حکم دے دیا۔

۔ (۶۷۰۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: جَائَ مَاعِزُ بْنُ مَالِکٍ الْأَسْلَمِیُّ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّیْ قَدْ زَنَیْتُ فَأَعْرَضَ عَنْہُ، ثُمَّ جَائَ مِنْ شِقِّہِ الْأَیْمَنِ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! إِنَّی قَدْ زَنَیْتُ فَأَعْرَضَ عَنْہُ، ثُمَّ جَائَ مِنْ شِقِّہِ الْأَیْسَرِ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! إِنِّیْ قَدْ زَنَیْتُ، فَقَالَ لَہُ ذَالِکَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ: ((اِنْطَلِقُوْا بِہِ فَارْجُمُوْہُ۔))، قَالَ: فَانْطَلَقُوْا بِہِ، فَلَمَّا مَسَّتْہُ الْحِجَارَۃُ اَدْبَرَ وَاشْتَدَّ، فَاسْتَقْبَلَہُ رَجُلٌ فِیْیَدِہِ لَحْیُ جَمَلٍ فَضَرَبَہُ، فَذُکِرَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِرَارُہُ حِیْنَ مَسَّتْہُ الْحِجَارَۃُ، قَالَ: ((فَہَلَّا تَرَکْتُمُوْہُ۔)) (مسند احمد: ۹۸۰۸)

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ماعز بن مالک اسلمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا : اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا، وہ بائیں جانب سے آ گیا او کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے،یہاں تک کہ اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے چار بار اقرار کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو لے جائو اور رجم کر دو۔ لوگ اس کو رجم کرنے کے لئے لے گئے۔ جب اس کو پتھر لگا تو وہ پیٹھ پھیر کر تیزی سے بھاگ گیا، اتنے میں سامنے سے ایک آدمی آیا، اس کے ہاتھ میں اونٹ کے جبڑے کی ہڈی تھی، اس نے اس کو یہی مار دی، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بتلایا گیا کہ وہ پتھر لگنے سے اس طرح بھاگ گیا تھا، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تم لوگوں نے اس کو چھوڑ کیوں نہیں دیا تھا۔

۔ (۶۷۰۱)۔(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّہُ قَالَ: أُتِیَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ فِی الْمَسْجِد ِفَنَادَاہُ فقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! إِنِّیْ زَنَیْتُ فَأَعْرَضَ عَنْہُ، فَتَنَحّٰی تِلْقَائَ وَجْہِہِ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! إِنِّیْ زَنَیْتُ فَأَعْرَضَ عَنْہُ، حَتّٰی ثَنّٰی ذَالِکَ عَلَیْہِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا شَہِدَ عَلٰی نَفْسِہِ اَرْبَعَ مَرَّاتٍ دَعَاہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((أَبِکَ جُنُوْنٌ؟)) قَالَ: لَا، قَالَ: ((فَہَلْ أَحْصَنْتَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اذْھَبُوْا بِہِ فَارْجُمُوْہُ۔)) قَالَ ابْنُ شِہَابٍ: فَاَخْبَرَنِیْ مَنْ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہ یَقُوْلُ: کُنْتُ فِیْمَنْ رَجَمَہُ فَرَجَمْنَاہُ فِی الْمُصَلّٰی فَلَمَّا اَذْلَقَتْہُ الْحِجَارَۃُ ھَرَبَ فَاَدْرَکْنَاہُ بِالْحَرَّۃِ فَرَجَمْنَا۔ (مسند احمد: ۹۸۴۴)

۔ (دوسری سند) مسلمانوں میں سے ایک آدمی کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لایاگیا، آپ مسجد میں تشریف فرما تھے، اس نے آواز دی: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اعراض کرتے ہوئے اس کے سامنے سے اپنا رخ پھیر لیا۔ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے کے سامنے آیا اور پھر کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر اعراض کرتے ہوئے اپنا چہرہ اس کی جانب سے پھیر لیا،یہاں تک کہ اس نے چار مرتبہ تکرار کیا اور اپنے خلاف چار گواہیاں دے دیں، اب کی بار نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو بلایا اور پوچھا: کیا تو پاگل ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیاتو شادی شدہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو لے جائو اور رجم کر دو۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میں بھی اسے رجم کرنے والوں میں شامل تھا، ہم نے اسے عید گاہ میں رجم کیا، جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگ نکلا، لیکن ہم نے اسے حرّہ میں پالیا اور رجم کر دیا۔

۔ (۶۷۰۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بن بُرَیْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذْ جَائَ رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ: مَاعِزُ بْنُ مَالِکٍ فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! إِنِّیْ قَدْ زَنَیْتُ وَاِنِّیْ أُرِیْدُ أَنْ تُطَہِّرَنِی، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ارْجِعْ۔)) فَلَمَّا کَانَ مِنَ الْغَدِأَتَاہُ اَیْضًا فَاعْتَرَفَ عِنْدَہُ بِالزِّنَا، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ارْجِعْ۔)) ثُمَّ أَرْسَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلٰی قَوْمِہِ فَسَأَلَھُمْ عَنْہُ فَقَالَ لَھُمْ: ((مَا تَعْلَمُوْنَ مِنْ مَاعِزِ بْنِ مَالِکٍ الْاَسْلَمِیِّ، ھَلْ تَرَوْنَ بِہِ بَأْسًا أَوْ تُنْکِرُوْنَ مِنْ عَقْلِہِ شَیْئًا؟)) قَالُوْا: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! مَانَرٰی بِہِ بَأْسًا وَمَا نُنْکِرُ مِنْ عَقْلِہِ شَیْئًا، ثُمَّ عَادَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الثَّالِثَۃَ فَاعْتَرَفَ عِنْدَہُ بِالزِّنَا اَیْضًا فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! طَہِّرْنِی، فَأَرْسَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلٰی قَوْمِہِ اَیْضًا فَسَأَلَھُمْ عَنْہُ فَقَالُوْا لَہُ کَمَا قَالُوْا لَہُ الْمَرَّۃَ الْأُوْلٰی: مَا نَرٰی بِہِ بَأْسًا وَمَا نُنْکِرُ مِنْ عَقْلِہِ شَیْئًا، ثُمَّ رَجَعَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الرَّابِعَۃَ اَیْضًا فَاعْتَرَفَ عِنْدَہُ بِالزِّنَا، فَأَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَفَرْنَا لَہُ حُفْرَۃً، فَجُعِلَ فِیْہَا اِلَی صَدْرِہِ ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ یَرْجُمُوْہُ، وَقَالَ بُرَیْدَۃُ: کُنَّا نَتَحَدَّثُ اَصْحَابَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَنَا، اَنَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِکٍ لَوْ جَلَسَ فِیْ رَحْلِہِ بَعْدَ اِعْتِرَافِہِ ثَلَاثَ مِرَارٍ لَمْ یَطْلُبْہُ وَاِنَّمَا رَجَمَہُ عِنْدَ الرَّابِعَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۳۳۳۰)

۔ سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ماعز بن مالک نامی آدمی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں نے زنا کیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے پاک کردیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: واپس چلا جا۔ وہ دوسرے دن پھر آگیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس زنا کا اعتراف کیا،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: واپس چلا جا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں لوگوں سے پوچھا اور فرمایا: تم لوگ ماعز بن مالک اسلمی کے بارے میں کیا جانتے ہو، کیا وہ تمہارے خیال کے مطابق ایسا ویسا ہے، یا تمہیں اس کی عقل پر کوئی اعتراض ہے؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم اس میں کوئی ایسی ویسی چیز محسوس نہیں کرتے اور نہ ہی ہمیں اس کی عقل پر کوئی اعتراض ہے، اُدھر وہ تیسری مرتبہ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لوٹ آیا اور زنا کرنے کا اعتراف کیا اور کہا: اے اللہ کے نبی! آپ مجھے پاک کریں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر اس کی قوم کو بلا بھیجا اور اس کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے وہی پہلے والا جواب دیا ہمارے خیال میں کوئی ایسی ویسی بات نہیں ہے اور نہ ہی اس کی عقل میں کوئی خرابی ہے، اُدھر ماعز چوتھی بار نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لوٹ کر آیا اور زنا کا اعتراف کیا۔ اب کی بار نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا اور ہم نے اس کے لیے ایک گڑھا کھودا اور اسے سینہ تک اس میں گاڑھ دیا، پھر لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اسے رجم کر دیں۔ سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:ہم لوگ آپس میں باتیں کیا کرتے تھے کہ اگر ماعز تین بار زنا کا اعتراف کرنے کے بعد اپنے گھر میں بیٹھ جاتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو طلب نہ کرتے، لیکن جب اس نے چوتھی مرتبہ اعتراف کیا تھا تو آپ نے اسے رجم کر نے کا حکم دے دیا۔

۔ (۶۷۰۳)۔ عَنْ جَابِرَ بْنِ سَمُرَۃَ اَنَّ مَاعِزًا جَائَ فَاَقَرَّ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَأَمَرَ بِرَجْمِہِ۔ (مسند احمد: ۲۱۱۴۴)

۔ سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ماعز آیا اور اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس چار مرتبہ زنا کا اقرار کیا، تب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو رجم کر نے کا حکم دیا۔

۔ (۶۷۰۴)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ اَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ جَائَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا فَأَعْرَضَ عَنْہُ ثُمَّ اعْتَرَفَ فَاَعْرَضَ عَنْہُ، ثُمَّ اعْتَرَفَ فَأَعْرَضَ عَنْہُ، حَتّٰی شَہِدَ عَلٰی نَفْسِہِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَبِکَ جُنُوْنٌ؟)) قَالَ: لَا، قَالَ: ((أَحْصَنْتَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، فَاَمَرَ بِہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرُجِمَ بِالْمُصَلّٰی فَلَمَّا اَذْلَقَتْہُ الْحِجَارَۃُ فَرَّ فَأَدْرَکَ فَرُجِمَ حَتّٰی مَاتَ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَیْرًا وَلَمْ یُصَّلِ عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۴۵۱۶)

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ بنو اسلم قبیلے کا ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اورزنا کا اعتراف کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا، اس نے پھر اعتراف کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی اس سے اعراض کر لیا، اس نے پھر اعتراف کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی اپنا رخ پھیر لیا،یہاں تک کہ جب اس نے اپنے خلاف چار مرتبہ گواہی دی تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تجھے جنون کی بیماری تو نہیں ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو شادی شدہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا اور اس کو عید گاہ میں رجم کیا گیا، جب اس کو پتھر لگے تو وہ بھاگا، لیکن پھر اس کو پا لیا گیا اور پتھر مارے گئے، یہاں تک کہ وہ فوت ہو گیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے خیر و بھلائی کی باتیں کیں، لیکن اس کی نمازِ جنازہ ادا نہ کی۔

۔ (۶۷۰۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَقِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَاعِزَ بْنَ مَالِکٍ فَقَالَ: ((أَحَقٌّ مَا بَلَغَنِیْ عَنْکَ؟)) قَالَ: وَمَا یَبْلُغُکَ عَنِّی؟ قَالَ: ((بَلَغَنِی أَنَّکَ فَجَرْتَ بِأَمَۃِ آلِ فُلَانٍ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَرَدَّہُ حَتّٰی شَہِدَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَمَرَ بِہِ فَرُجِمَ۔ (مسند احمد: ۲۲۰۲)

۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ،ماعز بن مالک کو ملے اور اس سے پوچھا: اے ماعز! جو بات مجھ تک پہنچی ہے، کیا وہ سچ ہے؟ اس نے کہا: کون سی بات آپ کو میرے بارے میں معلوم ہوئی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ تو نے فلاں کی لونڈی کے ساتھ زنا کیا ہے۔ اس نے کہا: جی ہاں، ایسے ہوا ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو لوٹا دیا،یہاں تک کہ اس نے چار بار گواہی دی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا اور اس کو رجم کیا گیا۔

۔ (۶۷۰۶)۔عَنْ اَبِی ذَرٍّ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ فَاَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ: اِنَّ الْأَخِرَ قَدْ زَنٰی فَاَعْرَضَ عَنْہُ، ثُمَّ ثَلَّثَ ثُمَّ رَبَّعَ فَنَزَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَقَالَ مَرَّۃً فَاَقَرَّ عِنْدَہُ بِالزِّنَا فَرَدَّدَہُ أَرْبَعًا ثُمَّ نَزَلَ فَاَمَرَنَا فَحَفَرْنَا لَہُ حَفِیْرَۃً لَیْسَتْ بِالطَّوِیْلَۃِ فَرُجِمَ فَارْتَحَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَئِیْبًا حَزِیْنًا فَسِرْنَا حَتّٰی نَزَلَ مَنْزِلًا فَسُرِّیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لِی: ((یَا أَبَا ذَرٍّ! اَ لَمْ تَرَ اِلٰی صَاحِبِکُمْ غُفِرَلَہُ وَأُدْخِلَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۸۷)

۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، ایک آدمی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا : اس بد نصیب نے زنا کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے رخ موڑ لیا، پھر اس نے دوسری، تیسری، حتیٰ کہ چوتھی مرتبہ اقرار کرلیا، تب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سواری سے نیچے اترے۔ ایک روایت میں ہے: اس آدمی نے ایک مرتبہ اقرار کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو ردّ کر دیا،یہاں تک کہ اس نے چار بار اقرار کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نیچے اترے اور ہمیں حکم دیا، پس ہم نے اس کے لئے ایک چھوٹا سا گڑھا کھودا، وہ کوئی زیادہ گہرا نہ تھا اور اسے سنگسار کر دیا گیا،پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غم و حزن کے عالم میں سفر کو جاری کیا، ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چلے، یہاں تک کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک مقام پر اترے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وہ کیفیت چھٹ گئی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابو ذر! کیا تم نے اپنے ساتھ کی طرف نہیں دیکھا، اس کو بخش دیا گیا ہے اور جنت میں داخل کر دیا گیا ہے۔