مسنداحمد

Musnad Ahmad

زنا کا اقرار کرنے کے بارے میں ابواب

زنا کا اقرار کرنے والے سے مزید استفسار کرنا اور ایسی وضاحت طلب کرنا کہ جس میں کوئی تردد نہ ہو

۔ (۶۷۰۷)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِکٍ حِیْنَ أَتَاہُ فَاَقَرَّ عِنْدَہُ بِالزِّنَا: ((لَعَلَّکَ قَبَّلْتَ أَوْ لَمَسْتَ؟)) قَالَ: لَا، قَالَ: ((فَنِکْتَہَا؟)) قَالَ: نَعَمْ، فَاَمَرَ بِہِ فَرُجِمَ۔ (مسند احمد: ۲۱۲۹)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب ماعز بن مالک ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور زنا کا اقرار کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شاید تو نے بوسہ لیا ہو یا ویسے ہاتھ لگایا ہو؟ اس نے کہا: نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تونے دخول کیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا اور اس کو رجم کر دیا گیا۔

۔ (۶۷۰۸)۔(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِمَاعِزٍ حِیْنَ قَالَ: زَنَیْتُ، :((لَعَلَّکَ غَمَزْتَ أَوْ قَبَّلْتَ اَوْ نَظَرْتَ اِلَیْہَا۔)) قَالَ: کَأَنَّہُ یَخَافُ اَنْ لَا یَدْرِیْ مَا الزِّنَا۔ (مسند احمد: ۳۰۰۰)

۔ (دوسری سند) جب ماعز نے کہا کہ اس نے زنا کیا ہے، تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شاید تونے آنکھ سے اشارہ کیا ہو (یا مطلب یہ ہے کہ تونے ہاتھ کے ساتھ چھیر چھار کی ہو) یا بوسہ لیا ہو یا دیکھا ہو؟ راوی کہتا ہے: ایسے لگتا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ ڈر تھا کہ ممکن ہے کہ یہ شخص زنا کی تعریف سے ناآشنا ہو۔