TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اس چیز کا بیان کہ اس شخص کو حد نہیں لگائی جائے گی، جو کسی حد کا اقرار تو کرے اور اس کا نام نہ لے - اس چیز کا بیان کہ اس شخص کو حد نہیں لگائی جائے گی، جو کسی حد کا اقرار تو کرے اور اس کا نام نہ لے - زنا کا اقرار کرنے کے بارے میں ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of زنا کا اقرار کرنے کے بارے میں ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 13 · 2 Hadith
۔ (۶۷۰۹)۔ عَنْ وَاثِلَۃَ بْنِ الْاَسْقَعِ قَالَ: شَہِدْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ یَوْمٍ وَاَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی اَصَبْتُ حَدًّا مِنْ حُدُوْدِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَاَقِمْ فِیَّ حَدَّ اللّٰہِ فَأَعْرَضَ عَنْہُ، اَتَاہُ الثَانِیَۃَ فَاَعْرَضَ عَنْہُ ثُمَّ قَالَھَا الثَّالِثَۃَ فَأَعْرَضَ عَنْہُ، ثُمَّ اُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ فَلَمَّا قَضَی الصَّلَاۃَ اَتَاہُ الرَّابِعَۃَ فَقَالَ: اِنِّی اَصَبْتُ حَدًّا مِنْ حُدُوْدِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَأَقِمْ فِیَّ حَدَّّ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، قَالَ: فَدَعَاہُ فَقَالَ: ((اَلَمْ تُحْسِنِ الطُّہُوْرَ أَوِ الْوُضُوْئَ ثُمَّ شَہِدْتَ الصَّلَاۃَ مَعَنَا اٰنِفًا؟)) قَالَ: بَلٰی، قَالَ: ((فَاذْھَبْ فَہِیَ کَفَّارَتُکَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۱۰)
۔ سیدنا واثلہ بن اسقع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھا، آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: میں اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے ایک حد کو پہنچا ہوں، لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ کی حد کو مجھ پر قائم کر دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے اپنا رخ پھیرلیا، پھر اس نے دوسری بار آ کر اقرار کیا، لیکن اس بار بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا چہرہ پھیر لیا، پھر اس نے تیسری بار آ کر اعتراف کیا، لیکن اس بار بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے اپنا رخ موڑ لیا، اتنے میں نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی، جب اس نے نماز ادا کرلی تو وہ چوتھی مرتبہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا : میں اللہ تعالی کی حدود میں سے ایک حد کو پہنچا ہوں، آپ اللہ کی اس حد کو مجھ پر نافذ کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: کیا تو نے ابھی ابھی اچھی طرح وضو کر کے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی؟ اس نے کہا: جی کیوں نہیں،یہ عمل کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تو چلا جا، یہ عمل تیرا کفارہ ہے۔
Takhreej
(۶۷۰۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف لیث بن ابی سلیم۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۲/ ۱۹۱، والنسائی فی ’’الکبری‘‘: ۷۳۱۲ (انظر: ۱۶۰۱۴)
6709
Zaeef
۔ (۶۷۱۰)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَحْوِہٖ (وَفِیْہِ) فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَرَجْتَ مِنْ مَنْزِلِکَ تَوَضَّأْتَ فَاَحْسَنْتَ الْوُضُوْئَ وَصَلَّیْتَ مَعَنَا؟)) قَالَ الرَّجُلُ: بَلٰی، قَالَ: ((فَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَدْ غَفَرَلَکَ حَدَّکَ أَوْ ذَنْبَکَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۱۶)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ، پھر سابقہ حدیث سے ملتی جلتی حدیث بیان کی، البتہ اس میں ہے: کیا اس طرح ہوا کہ تو اپنے گھر سے نکلا، وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا اور ہمارے ساتھ نماز پڑھی؟ اس آدمی نے کہا: جی کیوں نہیں، ایسے ہی کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے تیرا گناہ یا تیری حد کو معاف کر دیا ہے۔
Takhreej
(۶۷۱۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۶۵ (انظر: ۲۲۱۶۳)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ کا صحیح مسلم میں پورا متن درج ذیل ہے: سیدنا ابو امامہ b سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بَیْنَمَا رَسُولُ اللّٰہِV فِی الْمَسْجِدِ وَنَحْنُ قُعُودٌ مَعَہُ إِذْ جَاء َ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْہُ عَلَیَّ فَسَکَتَ عَنْہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَعَادَ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْہُ عَلَیَّ فَسَکَتَ عَنْہُ وَأُقِیمَتِ الصَّلَاۃُ فَلَمَّا انْصَرَفَ نَبِیُّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو أُمَامَۃَ: فَاتَّبَعَ الرَّجُلُ رَسُولَ اللّٰہِV حِینَ انْصَرَفَ وَاتَّبَعْتُ رَسُولَ اللَّہِV أَنْظُرُ مَا یَرُدُّ عَلَی الرَّجُلِ، فَلَحِقَ الرَّجُلُ رَسُولَ اللّٰہِV فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْہُ عَلَیَّ، قَالَ أَبُو أُمَامَۃَ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((أَرَأَیْتَ حِینَ خَرَجْتَ مِنْ بَیْتِکَ أَلَیْسَ قَدْ تَوَضَّأْتَ فَأَحْسَنْتَ الْوُضُوئَ؟)) قَالَ: بَلٰییَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: ((ثُمَّ شَہِدْتَ الصَّلَاۃَ مَعَنَا؟)) فَقَالَ: نَعَمْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((فَإِنَّ اللّٰہَ قَدْ غَفَرَ لَکَ حَدَّکَ أَوْ قَالَ ذَنْبَکَ۔))… رسول اللہ a مسجد میں تشریف فرما تھے، ہم بھی آپ a کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے حدّ والے جرم کا ارتکاب کیا ہے، لہذا آپ مجھ پر وہ حد قائم کریں، رسول اللہa خاموش رہے، اس نے پھر وہی بات دوہرائی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں حدّ کو پہنچا ہوں، لہذا آپ اس کو مجھ پر قائم کریں، لیکن آپ a پھر خاموش رہے، اتنے میں نماز کھڑی کر دی گئی، جب آپ a نماز سے فارغ ہو کر چلے تو وہ آدمی، آپ a کے پیچھے چل پڑا، میں (ابو امامہ) بھی آپ a کے پیچھے چل دیا، تاکہ دیکھ سکوں کہ آپ a اس کو کیا جواب دیتے ہیں، پس وہ آدمی آپ a کو جا ملا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے حدّ والے گناہ کا ارتکاب کیا ہے، لہذا آپ اس حدّ کو مجھ پر نافذ کریں، رسول اللہ a نے اس سے فرمایا: ’’اس بارے میں بتلا کہ جب تو گھر سے نکلا ہے تو کیا تو نے اچھے انداز میں وضو نہیں کیا تھا؟‘‘ اس نے کہا: جی کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپa نے فرمایا: ’’پھر تو نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی ہے؟‘‘ اس نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپa نے فرمایا: ’’پس بیشک اللہ تعالی نے تیری حدّ یا تیرے گناہ کو معاف کر دیا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم: ۴۹۶۶) جب کوئی آدمی نبی کریمa کے سامنے اپنے جرم اور گناہ کا اظہار کرتے تو آپa اس سے استفساراً جو سوال کرتے، وہ اس کے ذکر کردہ جرم سے کم گناہ والے امور سے متعلقہ ہوتے، مثلا: پچھلے باب میں مذکورہ احادیث کے مطابق جب آدمی نے آپ a کے سامنے زنا کا اعتراف کیا تو آپa نے اس سے فرمایا: ’’شاید تونے آنکھ سے اشارہ کیا ہو، یا بوسہ لیا ہو، یا دیکھا ہو۔‘‘ غور کریں کہ ایک آدمی اپنے بارے میں زنا کا اقرار کرتا ہے، لیکن آپa اس کو کم گناہ والے امور کی طرف لاتے ہیں۔ بالکلیہی معاملہ یہاں ہے کہ اس آدمی نے حدّ کا تو ذکر کیا، لیکن حدّ کے سبب کی تفصیل بیان نہیں کی اور آپa نے اس سبب کے بارے میں دریافت نہ کرنے کو ترجیح دی، تاکہ اس کے جرم پر پردہ پڑا رہے اور اس تاویل کی بھی گنجائش ہے کہ معلوم نہیں اس آدمی نے کون سا گناہ کیا ہے اور کیا اس پر حدّ بھی لگتی ہے یا نہیں، لیکن اگر تفصیل پوچھی جائے تو پردہ پوشی کے منافی ہے، سو خاموشی کو ترجیح دی گئی۔ آج کل مربی ّ لوگوں کا انداز آپ a کے اس انداز سے بالکل مختلف ہے، سب سے بڑی کمییہ ہے کہ ان کا اپنا نیکی و تقوی کا معیار بہت کم ہوتا ہے، ان کا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے ماتحت افراد امورِ خیر کا مجسمہ بن کر نظر آئیں،لیکن اگر وہ خود عمل نہ بھی کریں تو خیر ہے، ایک سرپرست یہ چاہتا تھا کہ اس کے شاگردوں میںیہ جذبہ پیدا ہو جائے کہ وہ اذان کے فوراً بعد نماز کی تیاری میں لگ جائیں اور سنتوں اور نفلوں کا بھی اہتمام کریں اور فجر کی نماز کے لیے جلدی بیدار ہو جائیں، لیکن وہ خود دفتر میں بیٹھا رہتا، جب اقامت ہونے لگتی تو وضو کرنے کے لیے گھر چلا جاتا اور جماعت کی تیسری چوتھی رکعت میں آ کر ملتا، اسی طرح اس کی اپنی فجر کی کئی نمازیں نیند کی نظر ہو جاتیں، لیکن طلبہ کی سستی پر ان پر خوب برستا تھا،پھر جب اِن تربیت کرنے والے افراد کو کسی کے ہلکے سے جرم کا پتہ چلتا ہے تو یہ مجرم کے سامنے بڑے بڑے گناہوں کا ذکر کر کے اس سے کسی بڑے گناہ کا اعتراف کروانے کے چکر میں پڑ جاتے ہیں۔
6710
Sahih

Chapters

13
01
چار مرتبہ زنا کا اقرار تکرار کرانے کا اعتبار
8 Hadith
02
زنا کا اقرار کرنے والے سے مزید استفسار کرنا اور ایسی وضاحت طلب کرنا کہ جس میں کوئی تردد نہ ہو
2 Hadith
03
اس چیز کا بیان کہ اس شخص کو حد نہیں لگائی جائے گی، جو کسی حد کا اقرار تو کرے اور اس کا نام نہ لے
2 Hadith
04
زنا کا اقرار کر لینے کے بعد دوبارہ اس کا انکاری ہو جانے کا بیان، اسی طرح اس شخص کا بیان کہ وہ تو ایک عورت سے زنا کرنے کا اقرار کرے، لیکن وہ عورت انکار کر دے
4 Hadith
05
اس چیز کے سنت ہونے کا بیان کہ گواہ خود سنگسار کرنے کی ابتداء کرے اور زانی کے اقرار کرنے کی صورت میں حکمران ابتداء کرے، نیز اس چیز کا بیان کہ شادی شدہ زانی کو کوڑے لگا کر رجم کیا جائے
2 Hadith
06
وضع حمل تک حاملہ عورت سے حد کو مؤخر کر دینے کا بیان
5 Hadith
07
مریض پر حد قائم کرنے کا بیان
1 Hadith
08
سنگسار ہونے والے کے لئے گڑھا کھودنے کا بیان
3 Hadith
09
بیوی کی لونڈی کو استعمال کر لینے والے شخص کا بیان
5 Hadith
10
اس شخص کا بیان جو مَحرم عورت سے منہ کالا کرے یا کسی چوپائے سے برائی کرے یا قومِ لوط والا عمل کر بیٹھے
4 Hadith
11
اہل کتاب کے شادی شدہ زانی کو رجم کرنے اور اس معاملے میں اسلام کے شرط نہ ہونے کا بیان
5 Hadith
12
زانی غلام کی پچاس کوڑے حد ہونے کا بیان
2 Hadith
13
آقا کا اپنے غلام پر حد نافذ کرنے کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.