۔ سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: میں اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے ایک حد کو پہنچا ہوں، لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ کی حد کو مجھ پر قائم کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اپنا رخ پھیرلیا، پھر اس نے دوسری بار آ کر اقرار کیا، لیکن اس بار بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا چہرہ پھیر لیا، پھر اس نے تیسری بار آ کر اعتراف کیا، لیکن اس بار بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اپنا رخ موڑ لیا، اتنے میں نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی، جب اس نے نماز ادا کرلی تو وہ چوتھی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : میں اللہ تعالی کی حدود میں سے ایک حد کو پہنچا ہوں، آپ اللہ کی اس حد کو مجھ پر نافذ کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: کیا تو نے ابھی ابھی اچھی طرح وضو کر کے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی؟ اس نے کہا: جی کیوں نہیں،یہ عمل کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو چلا جا، یہ عمل تیرا کفارہ ہے۔
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، پھر سابقہ حدیث سے ملتی جلتی حدیث بیان کی، البتہ اس میں ہے: کیا اس طرح ہوا کہ تو اپنے گھر سے نکلا، وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا اور ہمارے ساتھ نماز پڑھی؟ اس آدمی نے کہا: جی کیوں نہیں، ایسے ہی کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے تیرا گناہ یا تیری حد کو معاف کر دیا ہے۔