مسنداحمد

Musnad Ahmad

زنا کا اقرار کرنے کے بارے میں ابواب

اس چیز کے سنت ہونے کا بیان کہ گواہ خود سنگسار کرنے کی ابتداء کرے اور زانی کے اقرار کرنے کی صورت میں حکمران ابتداء کرے، نیز اس چیز کا بیان کہ شادی شدہ زانی کو کوڑے لگا کر رجم کیا جائے

۔ (۶۷۱۵)۔ عَنْ عَامِرٍ قَالَ: کَانَ لِشَرَاحَۃَ زَوْجٌ غَائِبٌ بِالشَّامِ وَأَنَّہَا حَمَلَتْ فَجَائَ بِہَا مَوْلَاھَا اِلٰی عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: اِنَّ ھٰذِہٖزَنَتْفَاعْتَرَفَتْفَجَلَدَھَایَوْمَ الْخَمِیْسِ مِائِۃً وَرَجَمَہَا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَحَفَرَ لَھَا اِلَی السُّرَّۃِ وَأَنَا شَاھِدٌ، ثُمَّ قَالَ: اِنَّ الرَّجْمَ سُنَّۃٌ سَنَّہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَوْ کَانَ شَہِدَ عَلٰی ھٰذِہٖأَحَدٌلَکَانَ أَوَّلُ مَنْ یَرْمِی الشَّاھِدَ، یَشْہَدُ ثُمَّ یُتْبِعُ شَہَادَتَہُ حَجَرَہُ وَلٰکِنَّہَا أَقَرَّتْ فَاَنَا أَوَّلُ مَنْ رَمَاھَا، فَرَمَاھَا بِحَجَرٍ ثُمَّ رَمَی النَّاسُ وَأَنَا فِیْہِمْ، قَالَ: فَکُنْتُ وَاللّٰہِ! فِیْمَنْ قَتَلَہَا۔ (مسند احمد: ۹۷۸)

۔ عامر شعبی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: شراحہ کا خاوند اس کے پاس سے غائب تھا اور وہ شام میں تھا، لیکن شراحہ حاملہ ہوگئی، اس کا سرپرست اسے سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس لے آیا اور کہا: اس نے زنا کیا ہے اور اس نے خود بھی اعتراف کر لیا، پس سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جمعرات کے دن اس کو سو کوڑے لگائے اور جمعہ کے دن اس کو رجم کیا ، اس کے لئے ناف تک گڑھا کھودا، میں بھی وہاں موجود تھا، پھر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بیشک رجم سنت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو نافذ کیا، اگر اس عورت پر کوئی گواہی دیتا تو وہی پہلا پتھر پھینکتا، پہلے گواہی دیتا، ساتھ ہی گواہی کے بعد پتھر مارتا۔ لیکن اس عورت نے اقرار کیا ہے، اس لیے میں پہلا ہوں جو اسے پتھر مارتا ہوں، پھر اس پر پتھر پھینکا ، بعد ازاں لوگوں نے پتھر مارے، عامر کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں ان میں سے ہوں، جنہوں نے اسے قتل کیا تھا۔

۔ (۶۷۱۶)۔ عَنِ الشَّعْبِیِّ اَنَّ شَرَاحَۃَ الْھَمْدَانِیَّۃَ أَتَتْ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَقَالَتْ: اِنِّیْ زَنَیْتُ، فَقَالَ: لَعَلَّکِ غَیْرٰی، لَعَلَّکِ رَاَیْتِ فِیْ مَنَامِکِ، لَعَلَّکِ اسْتُکْرِھْتِ؟ (وَفِیْ لَفْظٍ: لَعَلَّ زَوْجَکِ جَائَ کِ) فَکُلٌّ تَقُوْلُ: لَا، فَجَلَدَھَا یَوْمَ الْخَمِیْسِ وَرَجَمَہَا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، وَقَالَ: جَلَدْتُہَا بِکِتَابِ اللّٰہِ وَرَجَمْتُہَا بِسُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۱۸۵)

۔ شعبی سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: شراحہ ہمدانیہ، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئی اور کہا: میں نے زنا کیا ہے، انھوں نے کہا: شاید تیری غیرت پیدا ہو گئی ہو، یا خواب دیکھا ہو، یا تجھے مجبور کیا گیا ہو، ایک روایت میں ہے: شاید تیرا خاوند تیرے پاس آیا ہو، لیکن اس نے ہر سوال کے جواب میںکہا: نہیں، نہیں، پس سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسے جمعرات کو کوڑے لگائے اور جمعہ کے دن رجم کیا اور کہا: میں کتاب اللہ کی روشنی میں اس کو کوڑے لگائے ہیں اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت کی روشنی میں رجم کیا ہے۔