۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہواتھا ،غامد قبیلہ کی ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے اور میں چاہتی ہوں کہ آپ مجھے پاک کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: واپس لوٹ جا۔ وہ اگلے دن پھر آ گئی اور آپ کے پاس زنا کا اعتراف کیا کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے اور میں چاہتی ہوں کہ آپ مجھے پاک کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو واپس چلی جا۔ اگلے دن وہ پھر آ گئی اور آپ کے پاس زنا کا اعتراف کیا اور کہا: اے اللہ کے نبی! آپ مجھے پاک کریں، شاید آپ مجھے واپس لوٹانا چاہتے ہیں جس طرح آپ نے ماعز بن مالک کو واپس لوٹایا تھا، اللہ کی قسم! میں زنا کی وجہ سے حاملہ بھی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو واپس چلی جا، یہاں تک کہ بچے کو جنم دے۔ پس جب اس نے بچہ جنم دیا تو بچہ اٹھائے ہوئے آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے نبی!میں نے بچہ جنم دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو واپس چلیجا، اسے دودھ پلا، یہاں تک کہ تو اس کا دودھ چھڑا دے۔ جب اس نے دودھ چھڑالیا تو بچہ کو اٹھا کر لائی، جبکہ اس کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا اور کہنے لگی: اے اللہ کے نبی! میں نے اس کا دودھ چھڑا دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچے کے متعلق حکم دیا کہ اسے ایک مسلمان آدمی کے سپرد کیا گیا اور اس عورت کے متعلق حکم دیا کہ اس کے لئے ایک گڑھا کھودا جائے اور سینے تک اس میں گاڑدی جائے، پھر لوگوں کو حکم دیا کہ اس کو سنگسار کر دو، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ایک پتھر لے کر آئے اور اس کے سر پرمارا، جب اس سے ان کے رخسار پر خون کے چھینٹے پڑے تو انہوں نے اسے برا بھلا کہا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ وہ برا بھلا کہہ رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خالد! باز آ جاؤ، اسے گالی نہ دو، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس نے ایسی توبہ کی ہے اگر ٹیکس لینے والا بھی ایسی توبہ کرے تو اسے بھی بخش دیا جائے گا۔ پھر آپ نے اس کے متعلق حکم دیا پھر ا سپر نماز جنازہ پڑھی پھر اسے دفن کر دیا گیا۔
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حہینہ قبیلہ کی ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس زنا کا اعتراف کیا اور اس نے کہا: میں حاملہ ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سرپرست کو بلایا اورفرمایا: اس سے حسن سلوک کرنا اور جب یہ بچہ جنم دے تو مجھے بتانا۔ اس نے ایسا ہی کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کے بارے میں حکم دیا، پس اس پر اس کے کپڑے کس دیئے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے رجم کر نے کا حکم دیا اور اس کو رجم کر دیا گیا، پھر آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول!اسے آپ نے رجم کیا ہے اور پھر اب اس کی نمازِ جنازہ بھی پڑھ رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اہل مدینہ کے ستر آدمیوں کے درمیان اس کو تقسیم کیا جائے تو یہ ان کو بھی بخشوا دے گی، بھلا کیا تم نے اس سے بھی کوئی چیز افضل پائی ہے کہ اس عورت نے اللہ تعالیٰ کے لئے اپنی جان قربان کر دی ہے۔
۔ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پا س موجود تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خچر پر سوار تھے، وہ خچر کھڑا تھا، لوگ ایک حاملہ عورت لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پاس آئے، اس عورت نے کہا: میں نے زنا کیا ہے، مجھے رجم کیجئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: اللہ تعالی کی پردہ پوشی کے ساتھ اپنے آپ پر پردہ کر۔ سو وہ واپس چلی گئی، لیکن پھر آ گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خچر پر ہی سوار تھے،اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! مجھے رجم کیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کی پردہ پوشی کے ساتھ اپنے آپ پر پردہ کر۔ سو وہ لوٹ گئی، لیکن پھر تیسری مرتبہ آ گئی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے تھے،اس بار اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خچر کی لگام تھام لی اور کہنے لگی: میں آپ کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر کہتی ہوں کہ مجھے رجم کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جائو اور بچہ جنم دینے کے بعد آنا۔ پس وہ بچہ جنم کر دوبارہ آئی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بات چیت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چلی جا اورخون سے پاک ہو کر آنا۔ پس وہ چلی گئی اور بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: میں پاک ہو چکی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کو اس کی جانب بھیجا کہ وہ اس کے خون کے صاف ہونے کا جائزہ لیں۔ انہوں نے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گواہی دی کہ وہ واقعی پاک ہو چکی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سینہ تک گڑھا کھودنے کا حکم دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور دوسرے مسلمان بھی آ گئے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چنا کے برابر کنکری لی اور اس عورت کو ماری، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک طرف ہٹ گئے اور مسلمانوں سے کہا: اس پر سنگباری کر دو اور اس کا چہرہ بچاؤ۔ پس جب وہ فوت ہوگئی تو آپ نے اسے گڑھے سے باہر نکالنے کا حکم دیا اور پھر اس کی نماز جنازہ پڑھی اور فرمایا: اگر اس کے اجر کو اہل حجاز پر تقسیم کر دیا جائے تو ان کے لیے بھییہ کافی ہو جائے گا۔
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ان کی ایک لونڈی نے زنا کیا اور اس کی وجہ سے وہ حاملہ ہوگئی، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے وضع حمل تک چھوڑ دو، پھر اسے حد لگانا۔
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس طرح بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک لونڈی نے زنا کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اس پر حد قائم کروں، لیکن جب میں اس کے پاس آیا تو اس کو اس حال میں پایا کہ ابھی اس کا نفاس کا خون خشک نہیں ہوا تھا، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس آ گیااورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صورتحال پر مطلع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اس کا خون خشک ہو جائے تو پھر اس کو حد لگانا،اپنے غلاموں پر بھی حدیں قائم کیا کرو۔