مسنداحمد

Musnad Ahmad

زنا کا اقرار کرنے کے بارے میں ابواب

بیوی کی لونڈی کو استعمال کر لینے والے شخص کا بیان

۔ (۶۷۲۶)۔ حَدَّثَنَا بَہْزٌ ثَنَا أَبَانُ بْنُ یَزِیْدَ وَھُوَ الْعَطَّارُ ثَنَا قَتَادَۃُ حَدَّثَنِیْ خَالِدُ بْنُ عُرْفُطَۃَ عَنْ حَبِیْبِ بْنِ سَالِمٍ عَنِ النُّعْمَانِِ بْنِ بَشِیْرٍ: اَنَّ رَجُلًا یُقَالُ لَہُ: عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ حُنَیْنٍ وَکَانَ یُنْبَزُ قُرْقُوْرًا وَقَعَ عَلٰی جَارِیَۃِ امْرَأَتِہِ، قَالَ: فَرُفِعَ إِلَی النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ الْأَنْصَارِیِّ فَقَالَ: لَأَقْضِیَنَّ فِیْکَ بِقَضَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، إِنْ کَانَتْ اَحَلَّتْہَا لَکَ جَلَدْتُکَ مِائَۃً، وَإِنْ لَمْ تَکُنْ أَحَلَّتْہَا لَکَ رَجَمْتُکَ بِالْحِجَارَۃِ، قَالَ: وَکَانَتْ قَدْ أَحَلَّتْہَا لَہُ فَجَلَدَہُ مِائَۃً، وَقَالَ: سَمِعْتُ أَبَاناً یَقُوْلُ: وَأَخْبَرَنَا قَتَادَۃُ أَنَّہُ کَتَبَ فِیْہِ إِلٰی حَبِیْبِ بْنِ سَالِمٍ وَ کَتَبَ إِلَیْہِ بِہٰذَا۔ (مسند احمد: ۱۸۶۱۵)

۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ عبد الرحمن بن حنین نامی ایک آدمی تھا، اس کو قرقور کے لقب سے پکارا جاتا تھا، اس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کر لیا، جب اس کا معاملہ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی عدالت میں لایا گیا تو انہوں نے کہا : میں تمہارے درمیان رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم والا فیصلہ کروں گا، اگر تیری بیوی نے تیرے لئے اس لونڈی کو حلال قرار دیا تھا تو پھر میں تجھے سو کوڑے ماروں گا اور اگر اس نے تیرے لئے حلال نہیں کیا تھا تو تجھے پتھروں سے رجم کروں گا۔ جب تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ اس کی بیوی نے اپنی لونڈی کو اس کے لئے حلال قرار دیا تھا، اس لیے انھوں نے اس کو سو کوڑے لگائے۔

۔ (۶۷۲۷)۔ حَدَّثَنَا ھُثَیْمٌ عَنْ اَبِیْ بِشْرٍ عَنْ حَبِیْبِ بْنِ سَالِمٍ عَنِ النُّعْمَانِِ بْنِ بَشِیْرٍ قَالَ: أَتَتْہُ امْرَأَۃٌ فَقَالَتْ: اِنَّ زَوْجَہَا وَقَعَ عَلٰی جَارِیَتِہَا، قَالَ: اَمَا إِنَّ عِنْدِیْ فِیْ ذَالِکَ خَبْرًا شَافِیًا أَخَذْتُہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، إن کُنْتِ أَذِنْتِ لَہُ ضَرَبْتُہُ مِائَۃً، وَاِنْ کُنْتِ لَمْ تَأْذَنِی لَہُ رَجَمْتُہُ، قَالَ: فَأَقْبَلَ النَّاسُ عَلَیْہَا فَقَالُوْا: زَوْجُکَ یُرْجَمُ؟ قُوْلِیْ إِنَّکِ قَدْ کُنْتِ أَذِنْتِ لَہُ، فقَالَتْ: قَدْ کُنْتُ أَذِنْتُ لَہُ، فَقَدَّمَہُ فَضَرَبَہُ مِائَۃً۔ (مسند احمد: ۱۸۶۳۷)

۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک عورت آئی اور کہا:میرے خاوند نے میری لونڈی سے زنا کیا ہے، انہوں نے کہا: اس بارے میں میرے پاس تسلی بخش حدیث ہے،میں نے اس کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے حاصل کیا ہے، اگر تو نے اسے اجازت دی تھی تو میں اسے سو کوڑے لگاؤں گا اور اگر تو نے اسے اجازت نہیں دی تھی تو میں اسے رجم کردوں گا، یہ سن کر لوگ اس عورت کی طرف آئے اور کہا: تیرا خاوند رجم کیا جانے لگا ہے،اس لیے تو نے یہ کہہ دینا ہے کہ میں نے اس کو اجازت دی تھی، پس اس نے کہا: میں نے اپنے خاوند کو اجازت دی تھی، پھر انھوںنے اس کو آگے کیا اور سو کوڑے لگائے۔

۔ (۶۷۲۹)۔ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الْمُحَبِّقِ اَنَّ رَجُلًا وَقَعَ عَلٰی جَارِیَۃِ امْرَأَتِہِ (وَفِیْ لَفْظٍ: اَنَّ رَجُلًا خَرَجَ فِیْ غَزَاۃٍ وَمَعَہُ جَارَیَۃٌ لِاِمْرَأَتِہِ فَوَقَعَ بِہَا) فَرُفِعَ ذَاکَ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اِنْ کَانَتْ طَاوَعَتْہُ فَہِیَ لَہُ وَعَلَیْہِ مِثْلُہَا لَھَا، وَاِنْ کَانَ اسْتَکْرَھَہَا فَہِیَ حُرَّۃٌ وَعَلَیْہِ مِثْلُہَا لَھَا۔)) (مسند احمد: ۲۰۳۱۹)

۔ سیدنا سلمہ بن محیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کر لیا، ایک روایت میں ہے: ایک آدمی کسی غزوہ میں گیا، اس کے ساتھ اس کی بیوی کی لونڈی بھی تھی، وہ اس پر واقع ہو گیا، جب اس کا معاملہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عدالت میں لایاگیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر اس لونڈی نے اس آدمی سے موافقت کی ہے تو یہ لونڈی اسی کی ہو جائے گی اور اس کو اسی طرح کی لونڈی اپنی بیوی کو دینا ہو گی، اور اگر اس نے لونڈی کو مجبور کیا ہے تو وہ آزاد ہو جائے گی، لیکن اس کو اسی طرح کی لونڈی اپنی بیوی کو دینا ہو گی۔

۔ (۶۷۳۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی رَجُلٍ وَطِیَ جَارِیَۃَ امْرَأَتِہِ إِنْ کَانَ اسْتَکْرَھَہَا فَہِیَ حُرَّۃٌ وَعَلَیْہِ لِسَیِّدَتِہَا مِثْلُہَا۔ (مسند احمد: ۲۰۳۲۸)

۔ (دوسری سند) جس آدمی نے اپنی بیوی کی لونڈی سے برائی کر لی تھی، اس کے بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ اگر اس نے اس لونڈی کو مجبور کیا تھا تو وہ آزاد ہو جائے گی، لیکن اس کے ذمہ ہے اس کی آقا کو اسی طرح کی لونڈی دے۔