۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنی ایک سیاہ فام لونڈی کی طرف بھیجا، اس نے زنا کیا تھا، جب میں نے اسے نفاس کے خون میں پایا تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لوٹ آیا اور آپ پر حقیقت ِ حال واضح کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب وہ نفاس کے خون سے پاک صاف ہو جائے تو اس کو پچاس کوڑے لگانے ہیں، ایک روایت میں ہے: اس کو یہ حد لگانی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حدیں قائم کیا کرو۔
۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یحنس اور صفیہ مال غنیمت کے خُمُس کے قیدیوں میں سے تھے، صفیہ نے خُمُس کے آدمی سے زنا کیا اور بچہ بھی جنم دیا، زانی اور یحنس دونوں نے اس بچے کا دعویٰ کر دیا اور اپنا جھگڑا لے کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے، انہوں نے ان کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف بھیج دیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان کے بارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کروں گا اور وہ یہ ہے کہ بچہ اسے ملے گا جس کے بستر پر پیدا ہوا ہے اورزانی کے لیے پتھر ہوں گے، پھر انھوں نے ان دونوں کو پچاس پچاس کوڑے لگائے۔