مسنداحمد

Musnad Ahmad

زنا کا اقرار کرنے کے بارے میں ابواب

آقا کا اپنے غلام پر حد نافذ کرنے کا بیان

۔ (۶۷۴۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا زَنَتْ أَمَۃُ أَحَدِکُمْ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ: فَتَبَیَّنَ زِنَاھَا) فَلْیَجْلِدْھَا وَلَا یُعَیِّرْھَا، فَاِنْ عَادَتْ فَلْیَجْلِدْھَا وَلَا یُعَیِّرْھَا، فَاِنْ عَادَتْ فَلْیَجْلِدْھَا وَلَا یُعَیِّرْھَا، فَاِنْ عَادَتْ فِی الرَّابِعَۃِ فَلْیَبِعْہَا وَلَوْ بِحَبْلٍ مِنْ شَعْرٍ أَوْ ضَفِیْرٍ مِنْ شَعْرٍ۔)) (مسند احمد: ۸۸۷۳)

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے اوراس کا زنا ظاہر ہو جائے تو وہ اپنی لونڈی کو حد لگائے اور اسے عار نہ دلائے،پھر اگر وہ اسی جرم کا ارتکاب کرے تو اس کو کوڑے لگائے ، لیکن عار نہ دلائے، اگر وہ پھر زنا کرے تو اس کو حدّ لگائے اور اسے عار نہ دلائے، اگر وہ چوتھی مرتبہ زنا کی مرتکب ہو جائے تووہ اس لونڈی کو فروخت کر دے، اگرچہ بالوں کی رسییا چند بٹے ہوئے بالوں کے عوض فروخت کرنا پڑے۔

۔ (۶۷۴۳)۔ عَنْ اَبِی عَبْدِ الرَّحْمٰنِ السُّلَمِیِّ قَالَ: خَطَبَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: یَا اَیُّہَا النَّاسُ! أَقِیْمُوْا عَلٰی أَرِقَّائِکُمُ الْحُدُوْدَ، مَنْ أُحْصِنَ مِنْہُمْ وَمَنْ لَمْ یُحْصَنْ، فَاِنَّ أَمَۃً لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زَنَتْ فأَمَرَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ أُقِیْمَ عَلَیْہَا الْحَدَّ فَأَتَیْتُہَا فَاِذَا ھِیَ حَدِیْثُ عَہْدٍ بِنِفَاسٍ فَخَشِیْتُ إِنْ اَنَا جَلَدْتُہَا أَنْ تَمُوْتَ فَأَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرْتُ ذَالِکَ لَہُ فَقَالَ: ((أَحْسَنْتَ۔)) (مسند احمد: ۱۳۴۱)

۔ ابو عبد الرحمن سلمی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے خطاب کیا اور کہا: لوگو! اپنے لونڈیوں اور غلاموں پر حدیں قائم کیا کرو، وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ ، کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک لونڈی نے زنا کیا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اس پر حد قائم کروں، لیکن جب میں اس کے پاس آیا تو میں نے اس کو اس حالت میں پایا کہ ابھی ابھی اس کا نفاس کا خون شروع ہوا تھا، پس میں ڈر گیا کہ اگر اس کو کوڑے لگائے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ مر جائے، پس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ تفصیل بتائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے اچھا کیا ہے۔

۔ (۶۷۴۴)۔ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ وَزَیْدِ بْنِ خَالِدٍ وَشَبْلٍ قَالُوْا: سُئِلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْأَمَۃِ تَزْنِی قَبْلَ أَنْ تُحْصَنَ؟ قَالَ: ((اجْلِدُوْھَا، فَاِنْ عَادَتْ فَاجْلِدُوْھَا، فَاِنْ عَادَتْ فَاجْلِدُوْھَا، فَاِنْ عَادَتْ فَبِیْعُوْھَا وَلَوْ بِضَفِیْرٍ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۶۹)

۔ سیدنا ابوہریرہ، سیدنا زید بن خالد اور سیدنا شبل f سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس لونڈی کے متعلق دریافت کیا گیا جو شادی سے پہلے زنا کرتی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے حد لگائو ،اگر وہ دوبارہ برائی کرے تو پھر حد لگائو، اگر تیسری باری جرم کرے تو پھر حد لگائو اور اگر وہ اس کے بعد پھر زنا کرے تو اس کو بیچ دو، اگرچہ ایک رسی کے عوض ہو۔

۔ (۶۷۴۵)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا زَنَتِ الْأَمَۃُ فَاجْلِدُوْھَا، وَاِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوْھَا، وَاِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوْھَا ثُمَّ بِیْعُوْھَا وَلَوْ بِضَفِیْرٍ۔)) وَالضَّفِیْرُ الْحَبْلُ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۶۵)

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب لونڈی زنا کرے تو اسے کوڑے مارو،اگر وہ دوسری بار زنا کرے تو پھر اس کو کوڑے لگاؤ اور اگر وہ پھر اس جرم میں مبتلا ہو جائے تو اسے کوڑے لگاؤ اور فروخت کردو، اگرچہ ایک رسی کے عوض فروخت کرنا پڑے۔ ضَفِیْر کا معنی رسی ہے۔

۔ (۶۷۴۶)۔ حَدَّثَنَا یَعْقُوْبُ ثَنَا ابْنُ أَخِی ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَمِّہِ قَالَ: أَخْبَرَنِی عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ اَنَّ شِبْلَ بْنَ حَامِدٍ الْمُزَنِیَّ أَخْبَرَہُ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مَالِکٍ الْأَوْسِیَّ أَخْبَرَہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِلْوَلِیْدَۃِ: ((إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوْھَا، ثُمَّ اِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوْھَا، ثُمَّ اِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوْھا، ثُمَّ اِنْ زَنَتْ فَبِیْعُوْھَا وَلَوْ بِضَفِیْرٍ (وَالضَّفِیْرُ الْحَبْلُ) فِی الثَّالِثَۃِ أَوْ فِی الرَّابِعَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۲۲۶)

۔ سیدنا عبد اللہ بن مالک اوسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لونڈی کے بارے میں فرمایا: اگروہ زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ، اگر وہ پھر زنا کرے تو پھر اسے کوڑے لگاؤ، اگر وہ تیسری بار زنا کرے تو پھر اسے حدّ لگاؤ، اگر وہ اس کے بعد بھی زنا کرے تو اسے فروخت کر دو، اگرچہ ایک رسی کے عوض بیچنا پڑے۔ بیچنے کی بات تیسرییا چوتھی مرتبہ کی تھی۔