مسنداحمد

Musnad Ahmad

جادو، کہانت اور نجومیت کے ابواب

اللہ تعالی کے حکم سے جادوکی تاثیر کا اور اس آدمی کی وعید کا بیان جو اُس کے حکم کے بغیر اس کی تصدیق کرتا ہو

۔ (۶۸۰۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: سَحَرَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَہُوْدِیٌّ مِنْ یَہُوْدِ بَنِی زُرَیْقٍیُقَالُ لَہُ: لَبِیْدُ بْنُ الْأَعْصَمِ، حَتّٰی کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُخَیَّلُ إِلَیْہِ أَنَّہ یَفْعَلُ الشَّیْئَ وَمَا یَفْعَلُہُ، قَالَتْ: حَتّٰی إذا کَانَ ذَاتَ یَوْمٍ أَوْ ذَاتَ لَیْلَۃٍ دَعَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ دَعَا ثُمَّ قَالَ: ((یَا عَائِشَۃُ! شَعَرْتُ أَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَدْ أَفْتَانِی فِیْمَا اِسْتَفْتَیْتُہُ فِیْہِ، جَائَ نِی رَجُلَانِ فَجَلَسَ أَحَدُھُمَا عِنْدَ رَأْسِی وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَیَّ، فَقَالَ الَّذِیْ عِنْدَ رَأْسِیْ لِلَّذِیْ عِنْدَ رِجْلَیَّ أَوِ الَّذِیْ عِنْدَ رِجْلَیَّ لِلَّذِیْ عِنْدَ رَأْسِی: مَاوَجَعُ الرَّجُلِ؟ قَالَ: مَطْبُوْبٌ، قَالَ: مَنْ طَبَّہُ؟ قَالَ: لَبِیْدُ بْنُ الْأَعْصَمِ، قَالَ: فِیْ أَیِّ شَیْئٍ؟ قَالَ: فِیْ مُشْطٍ وَمُشَاطَۃٍ وَجُفِّ طَلْعَۃٍ ذَکَرٍ، قَالَ: وَاَیْنَ ھُوَ؟ قَالَ: فِیْ بِئْرِ أَرْوَانَ۔)) قَالَتْ: فَأَتَاھَا فِی نَاسٍ مِنْ اَصْحَابِہٖ (وَفِیْ لَفْظٍ: فَذَھَبَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَی الْبِئْرِ فَنَظَرَ إِلَیْہَا وَعَلَیْہَا نَخْلٌ) ثُمَّ جَائَ فَقَالَ: ((یَا عَائِشَۃُ! کَأَنَّ مَائَ ھَا نُقَاعَۃُ الْحِنَّائِ وَلَکَأَنَّ نَخْلَہَا رُؤُوْسُ الشَّیَاطِیْنَ۔)) قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَہَلَّا أَحْرَقْتَہ؟ (وَفِیْ لَفْظٍ: فَأَحْرِقْہُ) قَالَ: ((لَا، أَمَّا اَنَا فَقَدْ عَافَانِی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَکَرِھْتُ أَنْ أُثِیْرَ عَلَی النَّاسِ مِنْہُ شَرًّا۔)) قَالَتْ: فَأَمَرَ بِہَا فَدُفِنَتْ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۰۴)

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: بنوزریق کے لَبِید بن اعصم نامی ایکیہودی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جادو کیا،یہاں تک کہ اس کا اتنا اثر ہو گیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ خیال آتا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کوئی کام کیا ہے ، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کیا نہیں ہوتا تھا، یہاں تک کہ ایک دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دعا کی، پھر دعا کی فرمایا: عائشہ! مجھے سمجھ آ گئی ہے کہ اللہ تعالی نے میری دعا قبول کر لی ہے، میرے پاس دو آدمی آئے، ان میں ایک میرے سر کے پاس بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پاؤں کے پاس، سر کے پاس بیٹھنے والے نے پاؤں کے پاس بیٹھنے والے سے یا پاؤں والے نے سر والے سے کہا: اس بندے کو کیا ہوا ہے؟ اس نے کہا: اس پر جادو ہوا ہوا ہے، اس نے کہا: کس نے اس پر جادو کیا ہے؟ اس نے کہا: لبید بن اعصم نے، اس نے کہا: کس چیز میں؟ اس نے کہا: کنگھی میں، کنگھی کرتے وقت گرنے والے بالوں میں اور نر کھجور کے شگوفے کے غلاف میں ہے، اس نے کہا: یہ عمل اب کہاں ہے؟ اس نے کہا: یہ اروان کے کنویں میں ہے۔ سیدہ کہتی ہیں: لوگ اس کنویں کی طرف گئے، ایک روایت میں ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود اس کنویں کی طرف تشریف لے گئے، اس کے پاس لگی ہوئی کھجوریں تھیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے واپس آ کر فرمایا: اے عائشہ! اس کا پانی ایسے لگ رہا تھا، جیسے اس میں مہندی بھگوئی گئی ہے، اور اس کی کھجوریں شیطانوں کے سروں کی مانند نظر آ رہی تھیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس (جادو والے عمل کو نکال کر) جلا کیوں نہیں دیا؟ ایک روایت میں ہے: آپ اس کو جلا دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، اللہ تعالی نے مجھے عافیت دے دی ہے اور اب میں ناپسند کرتا ہوں کہ لوگوں میں اس شرّ کو خواہ مخواہ پھیلائوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا اور اس عمل کو دفن کر دیا گیا۔

۔ (۶۸۰۴)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: لَبِثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سِتَّۃَ أَشْہُرٍ یَرٰی أَنَّہ، یَأْتِی وَلَا یَأْتِی، فَأَتَاہُ مَلَکَانِ فَجَلَسَ أَحَدُھُمَا عِنْدَ رَأْسِہِ وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَیْہِ، فَقَالَ أَحَدُھُمَا لِلْآخَرَ: مَا بَالُہُ؟ قَالَ: مَطْبُوْبٌ، قَالَ: مَنْ طَبَّہ،؟ قَالَ: لَبِیْدُ بْنُ الْأَعْصَمِ، قَالَ: فِیْمَ؟ قَالَ: فِیْ مُشْطٍ وَمُشَاطَۃٍ فِیْ جُفِّ طَلْعَۃٍ ذَکَرٍ فِی بِئْرِ ذَرْوَانَ تَحْتَ راَعُوْفَۃٍ، فَاسْتَیْقَظَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ نَوْمِہِ فَقَالَ: ((أَیْ عَائِشَۃُ! اَلَمْ تَرٰی أَنَّ اللّٰہَ أَفْتَانِی فِیْمَا اسْتَفْتَیْتُہُ۔)) فَأَتَی الْبِئْرَ فَأَمَرَ بِہِ فَأُخْرِجَ فَقَالَ: ((ھٰذِہِ الْبِئْرُ الَّتِیْ أُرِیْتُہَا وَاللّٰہِ! کَأَنَّ مَائَ ھَا نُقَاعَۃُ الْحِنَّائِ وَکَأَنَّ رُؤُوْسَ نَخْلِہَا رُؤُوْسُ الشَّیَاطِیْنِ۔)) فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: لَوْ أَنَّکَ کَأَنَّہَا تَعْنِی أَنْ یَتَنَشَّرَ، قَالَ: ((أَمَا وَاللّٰہِ! قَدْ عَافَانِی اللّٰہُ وَأَنَا أَکْرَہُ أَنْ أُثِیْرَ عَلَی النَّاسِ مِنْہُ شَرًّا۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۵۱)

۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چھ ماہ تک اسی حالت میں رہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دیکھتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک کام کیا ہے، لیکن کیا نہیں ہوتا تھا، پس دو فرشتے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، ان میں سے ایک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر کے پاس اور دوسرا پاؤں کے پاس بیٹھ گیا، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ان کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا: آپ سحر زدہ ہیں، اس نے کہا: کس نے جادو کیا ہے؟ اس نے کہا: لبید بن اعصم نے۔ اس نے کہا: کس چیز میں کیا ہے؟ اس نے کہا: کنگھی میں اور کنگھی کرتے وقت گرنے والے بالوں میں کیا ہے اور یہ عمل ذروان کنویں میں پتھر کے نیچے نر کھجور کے شگوفے کے غلاف میں ہے، اتنے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نیند سے بیدار ہو گئے اور فرمایا: اے عائشہ!کیا تم دیکھتی نہیں ہو کہ اللہ تعالی نے میری دعا قبول کر لی ہے، پھر آپ کنوئیں کے پاس آئے اور حکم دیا، پس اس عمل کو نکالا گیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہی وہ کنواں ہے جو مجھے دکھایا گیا ،اللہ کی قسم! اس کا پانی اس طرح لگ رہا تھا، جیسا کہ اس میں مہندی بھگوئی ہوئی ہو اور اس کے کھجور کے درختوں کے سرے شیطانوں کے سروں کی مانند تھے۔ سیدہ نے کہا: اگر آپ اس سے دم کروا لیتے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے عافیت دے دی ہے، اور میں نہیں چاہتا یہ شرّ لوگوں پر پھیل جائے۔

۔ (۶۸۰۵)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) بِنَحْوِہٖوَفِیْہِ قَالَ: فِیْ مُشْطٍ وَمُشَاطَۃٍ وَجُبِّ أَوْ جُفِّ طَلْعَۃٍ ذَکَرٍ، قَالَ: فَأَیْنَ ھُوَ؟ قَالَ: فِیْ ذِی أَرْوَانَ وَفِیْہِ قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَأَخَرَجْتَہُ لِلنَّاسِ؟ فَقَالَ: ((اَمَّا اَنَا فَقَدْ شَفَانِی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَکَرِھْتُ أَنْ أُثَوِّرَ عَلَی النَّاسِ مِنْہُ شَرًّا۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۵۲)

۔ (تیسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے،البتہ اس میں ہے: وہ عمل کنگھی اور کنگھی کرتے وقت گرنے والے بالوں میں اور نرکھجور کے شگوفے کے غلاف میں ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: وہ کہاں ہے؟ انھوں نے کہا: ذی اروان میں ہے، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس عمل کو لوگوں کے لیے نکالا کیوں نہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے مجھے شفا دے دی ہے اور میں نہیں چاہتا کہ لوگوں میں شرّ کو بھڑکا دوں۔

۔ (۶۸۰۶)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: سَحَرَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ مِنَ الْیَہُوْدِ، قَالَ: فَاشْتَکٰی لِذَالِکَ أَیَّامًا، قَالَ: فَجَائَ جِبْرِیْلُ فَقَالَ: إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْیَہُوْدِ سَحَرَکَ عَقَدَ لَکَ عُقَدًا عُقَدًا فِیْ بِئْرٍ کَذَا وَکَذَا، فَأَرْسِلْ إِلَیْہَا مَنْ یَجِیْئُ بِہَا، فَبَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَاسْتَخْرَجَہَا فَجَائَ بِہَا فَحَلَّلَہَا، قَالَ: فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَأَنَّمَا نُشِطَ مِنْ عِقَالٍ، فَمَا ذَکَرَ لِذَالِکَ الْیَہُوْدِیِّ وَلَا رَآہ فِیْ وَجْہِہِ قَطُّ حَتّٰی مَاتَ۔ (مسند احمد: ۱۹۴۸۲)

۔ سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ یہودیوں میں سے ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جادو کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس وجہ سے کئی دن بیمار رہے، بالآخر جناب جبریل علیہ السلام نے آ کر کہا : یہودیوں میں سے ایک آدمی نے آپ پر جادو کیا ہے اور اس مقصد کے لیے جادو کی گرہیں لگائی ہیں، جادوں کایہ عمل فلاں کنویں میں پڑا ہے، آپ کسی آدمی کو بھیجیں جو اس عمل کو نکال کر لے آئے، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بھیجا، وہ اس کو نکال کر لے آئے اور ان گرہوںکو کھول دیا،یوں لگا جیسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو رسی سے کھول دیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس چیز کا نہ اس یہودی سے ذکر کیااور نہ اس کے چہرے کی طرف دیکھا،یہاں تک کہ وہ مر گیا۔

۔ (۶۸۰۷)۔ عَنْ عَمْرَۃَ قَالَ: اِشْتَکَتْ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَطَالَ شَکَوْاھَا، فَقَدِمَ اِنْسَانٌ الْمَدِیْنَۃَیَتَطَبَّبُ فَذَھَبَ بَنُو أَخِیْہَایَسْأَلُوْنَہُ عَنْ وَجَعِہَا فَقَالَ: وَاللّٰہِ! إِنَّکُمْ تَنْعَتُوْنَ نَعْتَ امْرَأَۃٍ مَطْبُوْبَۃٍ، قَالَ: ھٰذِہِ امْرَأَۃٌ مَسْحُوْرَۃٌ سَحَرَتْہَا جَارِیَۃٌ لَھَا، قَالَتْ: نَعَمْ، أَرَدْتُ أَنْ تَمُوْتِی فَأُعْتَقَ، قَالَتْ: وَکَانَتْ مُدَبَّرَۃً، قَالَتْ: بِیْعُوْھَا فِی أَشَدِّ الْعَرَبِ مَلَکَۃً وَاجْعَلُوْا ثَمَنَہَا فِیْ مِثْلِہَا۔ (مسند احمد: ۲۴۶۲۷)

۔ عمرہ کہتی ہیں کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیمار ہو گئیں اور ان کی بیماری طول پکڑ گئی، ایک آدمی مدینہ منورہ میں آیا، وہ طب اور حکمت کا کام کرتا تھا، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے بھتیجے اس حکیم کے پاس آئے اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی تکلیف کے متعلق دریافت کیا، اس نے کہا: اللہ کی قسم! تم لوگ جو کچھ بتارہے ہو، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس خاتون پر جادو ہوا ہے اور اس کی لونڈی نے اس پر جادو کیا ہے، جب اس لونڈی سے پوچھا گیا تو اس نے کہا: ہاں! میں نے جادو کیا ہے، میں چاہتی تھی کہ تو جلدی مر جائے، تاکہ میں آزاد ہو جائوں، دراصل وہ لونڈی مدبرہ تھی، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا : اسے اس آدمی کے ہاں فروخت کرو جو عرب میں لونڈیوں کے معاملے میں سخت ترین ہو اور اس کی قیمت سے اس جیسی ایک اور لونڈی خرید لو۔

۔ (۶۸۰۸)۔ عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ صَاحِبُ خَمْسٍ مُدْمِنُ خَمْرٍ، وَلَا مُؤْمِنٌ بِسِحْرٍ، وَلَا قَاطِعُ رَحِمٍ، وَلَا کَاھِنٌ، وَلَا مَنَّانٌ۔)) (مسند احمد: ۱۱۸۰۳)

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پانچ خصلتوں والا آدمی جنت میں داخل نہیں ہو گا: شراب نوشی پر ہمیشگی اختیار کرنے والا، جادو کی تصدیق کرنے والا، قطع رحمی کرنے والا، کہانت کرنے والااور احسان جتانے والا۔

۔ (۶۸۰۹)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ثَلَاثَۃٌ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ، مُدْمِنُ خَمْرٍ، وَقَاطِعُ رَحِمٍ، وَمُصَدِّقٌ بِالسِّحْرِ وَمَنْ مَاتَ مُدْمِنًا لِلْخَمْرِ سَقَاہُ اللّٰہُ مِنْ نَہْرِ الْغُوْطَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۹۸)

۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین آدمی جنت میں داخل نہیں ہوں گے:شراب نوشی پر ہمیشگی اختیار کرنے والا،قطع رحمی کرنیوالااور جادو کی تصدیق کرنے والا اور جو آدمی اس حال میں مرے کہ وہ شراب نوشی پر ہمیشگی کرتا ہو اس کو تو اللہ تعالیٰ غوطہ کی نہر سے پلائے گا۔

۔ (۶۸۱۰)۔ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ اَبِی الْعَاصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((کَانَ لِدَاوُدَ نَبِیِّ اللّٰہِ مِنَ اللَّیْلِ سَاعَۃٌیُوْقِظُ فِیْہَا أَھْلَہُ فَیَقُوْلُ: یَا آلَ دَاوُدَ! قُوْمُوْا فَصَلُّوْا فَاِنَّ ھٰذِہٖسَاعَۃٌیَسْتَجِیْبُ اللّٰہُ فِیْہَا الدُّعَائَ اِلَّا لِسَاحِرٍ وَعَشَّارٍ۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۹۰)

۔ سیدناعثمان بن ابی العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نبی دائود علیہ السلام نے رات کو ایک وقت کا تعین کر رکھا تھا، جس میں وہ اپنے اہل وعیال کو بیدا کرتے اور فرماتے :اے آل دائود! اٹھو اور نماز پڑھو، یہ ایسی گھڑی ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ دعا قبول کرتے ہیں،ما سوائے جادو گر اور ٹیکس وصول کنندہ کی دعا کے۔