TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اللہ تعالی کے حکم سے جادوکی تاثیر کا اور اس آدمی کی وعید کا بیان جو اُس کے حکم کے بغیر اس کی تصدیق کرتا ہو - اللہ تعالی کے حکم سے جادوکی تاثیر کا اور اس آدمی کی وعید کا بیان جو اُس کے حکم کے بغیر اس کی تصدیق کرتا ہو - جادو، کہانت اور نجومیت کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of جادو، کہانت اور نجومیت کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 7 · 8 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۶۸۰۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: سَحَرَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَہُوْدِیٌّ مِنْ یَہُوْدِ بَنِی زُرَیْقٍیُقَالُ لَہُ: لَبِیْدُ بْنُ الْأَعْصَمِ، حَتّٰی کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُخَیَّلُ إِلَیْہِ أَنَّہ یَفْعَلُ الشَّیْئَ وَمَا یَفْعَلُہُ، قَالَتْ: حَتّٰی إذا کَانَ ذَاتَ یَوْمٍ أَوْ ذَاتَ لَیْلَۃٍ دَعَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ دَعَا ثُمَّ قَالَ: ((یَا عَائِشَۃُ! شَعَرْتُ أَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَدْ أَفْتَانِی فِیْمَا اِسْتَفْتَیْتُہُ فِیْہِ، جَائَ نِی رَجُلَانِ فَجَلَسَ أَحَدُھُمَا عِنْدَ رَأْسِی وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَیَّ، فَقَالَ الَّذِیْ عِنْدَ رَأْسِیْ لِلَّذِیْ عِنْدَ رِجْلَیَّ أَوِ الَّذِیْ عِنْدَ رِجْلَیَّ لِلَّذِیْ عِنْدَ رَأْسِی: مَاوَجَعُ الرَّجُلِ؟ قَالَ: مَطْبُوْبٌ، قَالَ: مَنْ طَبَّہُ؟ قَالَ: لَبِیْدُ بْنُ الْأَعْصَمِ، قَالَ: فِیْ أَیِّ شَیْئٍ؟ قَالَ: فِیْ مُشْطٍ وَمُشَاطَۃٍ وَجُفِّ طَلْعَۃٍ ذَکَرٍ، قَالَ: وَاَیْنَ ھُوَ؟ قَالَ: فِیْ بِئْرِ أَرْوَانَ۔)) قَالَتْ: فَأَتَاھَا فِی نَاسٍ مِنْ اَصْحَابِہٖ (وَفِیْ لَفْظٍ: فَذَھَبَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَی الْبِئْرِ فَنَظَرَ إِلَیْہَا وَعَلَیْہَا نَخْلٌ) ثُمَّ جَائَ فَقَالَ: ((یَا عَائِشَۃُ! کَأَنَّ مَائَ ھَا نُقَاعَۃُ الْحِنَّائِ وَلَکَأَنَّ نَخْلَہَا رُؤُوْسُ الشَّیَاطِیْنَ۔)) قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَہَلَّا أَحْرَقْتَہ؟ (وَفِیْ لَفْظٍ: فَأَحْرِقْہُ) قَالَ: ((لَا، أَمَّا اَنَا فَقَدْ عَافَانِی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَکَرِھْتُ أَنْ أُثِیْرَ عَلَی النَّاسِ مِنْہُ شَرًّا۔)) قَالَتْ: فَأَمَرَ بِہَا فَدُفِنَتْ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۰۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: بنوزریق کے لَبِید بن اعصم نامی ایکیہودی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جادو کیا،یہاں تک کہ اس کا اتنا اثر ہو گیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ خیال آتا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کوئی کام کیا ہے ، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کیا نہیں ہوتا تھا، یہاں تک کہ ایک دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دعا کی، پھر دعا کی فرمایا: عائشہ! مجھے سمجھ آ گئی ہے کہ اللہ تعالی نے میری دعا قبول کر لی ہے، میرے پاس دو آدمی آئے، ان میں ایک میرے سر کے پاس بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پاؤں کے پاس، سر کے پاس بیٹھنے والے نے پاؤں کے پاس بیٹھنے والے سے یا پاؤں والے نے سر والے سے کہا: اس بندے کو کیا ہوا ہے؟ اس نے کہا: اس پر جادو ہوا ہوا ہے، اس نے کہا: کس نے اس پر جادو کیا ہے؟ اس نے کہا: لبید بن اعصم نے، اس نے کہا: کس چیز میں؟ اس نے کہا: کنگھی میں، کنگھی کرتے وقت گرنے والے بالوں میں اور نر کھجور کے شگوفے کے غلاف میں ہے، اس نے کہا: یہ عمل اب کہاں ہے؟ اس نے کہا: یہ اروان کے کنویں میں ہے۔ سیدہ کہتی ہیں: لوگ اس کنویں کی طرف گئے، ایک روایت میں ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود اس کنویں کی طرف تشریف لے گئے، اس کے پاس لگی ہوئی کھجوریں تھیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے واپس آ کر فرمایا: اے عائشہ! اس کا پانی ایسے لگ رہا تھا، جیسے اس میں مہندی بھگوئی گئی ہے، اور اس کی کھجوریں شیطانوں کے سروں کی مانند نظر آ رہی تھیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس (جادو والے عمل کو نکال کر) جلا کیوں نہیں دیا؟ ایک روایت میں ہے: آپ اس کو جلا دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، اللہ تعالی نے مجھے عافیت دے دی ہے اور اب میں ناپسند کرتا ہوں کہ لوگوں میں اس شرّ کو خواہ مخواہ پھیلائوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا اور اس عمل کو دفن کر دیا گیا۔
Takhreej
(۶۸۰۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۷۶۵، ۶۰۶۳، ومسلم: ۲۱۸۹(انظر: ۲۴۳۰۰)
6803
Sahih
۔ (۶۸۰۴)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: لَبِثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سِتَّۃَ أَشْہُرٍ یَرٰی أَنَّہ، یَأْتِی وَلَا یَأْتِی، فَأَتَاہُ مَلَکَانِ فَجَلَسَ أَحَدُھُمَا عِنْدَ رَأْسِہِ وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَیْہِ، فَقَالَ أَحَدُھُمَا لِلْآخَرَ: مَا بَالُہُ؟ قَالَ: مَطْبُوْبٌ، قَالَ: مَنْ طَبَّہ،؟ قَالَ: لَبِیْدُ بْنُ الْأَعْصَمِ، قَالَ: فِیْمَ؟ قَالَ: فِیْ مُشْطٍ وَمُشَاطَۃٍ فِیْ جُفِّ طَلْعَۃٍ ذَکَرٍ فِی بِئْرِ ذَرْوَانَ تَحْتَ راَعُوْفَۃٍ، فَاسْتَیْقَظَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ نَوْمِہِ فَقَالَ: ((أَیْ عَائِشَۃُ! اَلَمْ تَرٰی أَنَّ اللّٰہَ أَفْتَانِی فِیْمَا اسْتَفْتَیْتُہُ۔)) فَأَتَی الْبِئْرَ فَأَمَرَ بِہِ فَأُخْرِجَ فَقَالَ: ((ھٰذِہِ الْبِئْرُ الَّتِیْ أُرِیْتُہَا وَاللّٰہِ! کَأَنَّ مَائَ ھَا نُقَاعَۃُ الْحِنَّائِ وَکَأَنَّ رُؤُوْسَ نَخْلِہَا رُؤُوْسُ الشَّیَاطِیْنِ۔)) فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: لَوْ أَنَّکَ کَأَنَّہَا تَعْنِی أَنْ یَتَنَشَّرَ، قَالَ: ((أَمَا وَاللّٰہِ! قَدْ عَافَانِی اللّٰہُ وَأَنَا أَکْرَہُ أَنْ أُثِیْرَ عَلَی النَّاسِ مِنْہُ شَرًّا۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۵۱)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چھ ماہ تک اسی حالت میں رہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دیکھتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک کام کیا ہے، لیکن کیا نہیں ہوتا تھا، پس دو فرشتے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، ان میں سے ایک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر کے پاس اور دوسرا پاؤں کے پاس بیٹھ گیا، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ان کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا: آپ سحر زدہ ہیں، اس نے کہا: کس نے جادو کیا ہے؟ اس نے کہا: لبید بن اعصم نے۔ اس نے کہا: کس چیز میں کیا ہے؟ اس نے کہا: کنگھی میں اور کنگھی کرتے وقت گرنے والے بالوں میں کیا ہے اور یہ عمل ذروان کنویں میں پتھر کے نیچے نر کھجور کے شگوفے کے غلاف میں ہے، اتنے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نیند سے بیدار ہو گئے اور فرمایا: اے عائشہ!کیا تم دیکھتی نہیں ہو کہ اللہ تعالی نے میری دعا قبول کر لی ہے، پھر آپ کنوئیں کے پاس آئے اور حکم دیا، پس اس عمل کو نکالا گیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہی وہ کنواں ہے جو مجھے دکھایا گیا ،اللہ کی قسم! اس کا پانی اس طرح لگ رہا تھا، جیسا کہ اس میں مہندی بھگوئی ہوئی ہو اور اس کے کھجور کے درختوں کے سرے شیطانوں کے سروں کی مانند تھے۔ سیدہ نے کہا: اگر آپ اس سے دم کروا لیتے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے عافیت دے دی ہے، اور میں نہیں چاہتا یہ شرّ لوگوں پر پھیل جائے۔
Takhreej
(۶۸۰۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… ایک روایت میں چالیس دنوں کا ذکر ہے اور اِس میں چھ ماہ کا، حافظ ابن حجر نے کہا: ممکن ہے کہ کل چھ ماہ تک آپ a کے مزاج میں تغیر رہا ہو اور ان میں سے چالیس دنوں میں زیادہ اثر ہوا ہو۔
6804
Sahih
۔ (۶۸۰۵)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) بِنَحْوِہٖوَفِیْہِ قَالَ: فِیْ مُشْطٍ وَمُشَاطَۃٍ وَجُبِّ أَوْ جُفِّ طَلْعَۃٍ ذَکَرٍ، قَالَ: فَأَیْنَ ھُوَ؟ قَالَ: فِیْ ذِی أَرْوَانَ وَفِیْہِ قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَأَخَرَجْتَہُ لِلنَّاسِ؟ فَقَالَ: ((اَمَّا اَنَا فَقَدْ شَفَانِی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَکَرِھْتُ أَنْ أُثَوِّرَ عَلَی النَّاسِ مِنْہُ شَرًّا۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۵۲)
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے،البتہ اس میں ہے: وہ عمل کنگھی اور کنگھی کرتے وقت گرنے والے بالوں میں اور نرکھجور کے شگوفے کے غلاف میں ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: وہ کہاں ہے؟ انھوں نے کہا: ذی اروان میں ہے، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس عمل کو لوگوں کے لیے نکالا کیوں نہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے مجھے شفا دے دی ہے اور میں نہیں چاہتا کہ لوگوں میں شرّ کو بھڑکا دوں۔
Takhreej
(۶۸۰۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
6805
Sahih
۔ (۶۸۰۶)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: سَحَرَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ مِنَ الْیَہُوْدِ، قَالَ: فَاشْتَکٰی لِذَالِکَ أَیَّامًا، قَالَ: فَجَائَ جِبْرِیْلُ فَقَالَ: إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْیَہُوْدِ سَحَرَکَ عَقَدَ لَکَ عُقَدًا عُقَدًا فِیْ بِئْرٍ کَذَا وَکَذَا، فَأَرْسِلْ إِلَیْہَا مَنْ یَجِیْئُ بِہَا، فَبَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَاسْتَخْرَجَہَا فَجَائَ بِہَا فَحَلَّلَہَا، قَالَ: فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَأَنَّمَا نُشِطَ مِنْ عِقَالٍ، فَمَا ذَکَرَ لِذَالِکَ الْیَہُوْدِیِّ وَلَا رَآہ فِیْ وَجْہِہِ قَطُّ حَتّٰی مَاتَ۔ (مسند احمد: ۱۹۴۸۲)
۔ سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ یہودیوں میں سے ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جادو کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس وجہ سے کئی دن بیمار رہے، بالآخر جناب جبریل علیہ السلام نے آ کر کہا : یہودیوں میں سے ایک آدمی نے آپ پر جادو کیا ہے اور اس مقصد کے لیے جادو کی گرہیں لگائی ہیں، جادوں کایہ عمل فلاں کنویں میں پڑا ہے، آپ کسی آدمی کو بھیجیں جو اس عمل کو نکال کر لے آئے، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بھیجا، وہ اس کو نکال کر لے آئے اور ان گرہوںکو کھول دیا،یوں لگا جیسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو رسی سے کھول دیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس چیز کا نہ اس یہودی سے ذکر کیااور نہ اس کے چہرے کی طرف دیکھا،یہاں تک کہ وہ مر گیا۔
Takhreej
(۶۸۰۶) تخریج: حدیث صحیح بغیر ھذہ السیاقۃ، وھذا اسناد فیہ تدلیس الاعمش، وسیاقہ الصحیح تقدم برقم (۶۸۰۳)، أخرجہ النسائی: ۷/ ۱۱۲(انظر: ۱۹۲۶۷)
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی کے حکم سے جادو کا اثر ہو سکتا ہے اور یہ اثر نبی کریمa پر بھی ہو گیا تھا۔ ارشادِ باری تعالی ہے: {وَمَا ھُمْ بِضَارِّیْنَ بِہٖمِنْاَحَدٍاِلَّابِاِذْنِاللّٰہِ} … ’’اور وہ جادو گر کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، مگر اللہ تعالی کی مرضی کے ساتھ۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۱۰۲) اس آیت کے مطابق اللہ تعالی کی مشیت کے مطابق کسی کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے، اللہ تعالی نے کسی کی بھی تخصیص نہیں کی۔ بعض بدعتی لوگوں نے ان احادیث کا انکار کر دیا ہے، جن میں نبی کریمa پر جادو کے اثر انداز ہو جانے کا بیان ہے، ان کا نظریہیہ ہے کہ یہ چیز منصب ِ نبوت کے لائق نہیں ہے، اس سے تشکیک کی راہ کھلتی ہے اور شریعت کو نا قابل اعتبار ٹھہراتی ہے۔ لیکنیہ سارے خیالات مردود ہیں، ہم دلائل و براہین کے محتاج ہیں، جب اللہ تعالی اور اس کے رسول کے ارشادات و فرمودات میں نبی کریمa کی عصمت، صداقت اور حقانیت بیان کی گئی تو ہم نے تسلیم کیا اور جب ان ہی دلائل میں ان عوارض کو بیان کیا گیا، جو نبی کریمa کو لاحق ہو سکتے ہیں تو ہمیں ان کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا۔ دراصل بات یہ ہے کہ جیسے انبیاء و رسل کو دیگر انسانی عوارض لاحق ہوتے ہیں،یا ہو سکتے ہیں، اسی طرح وہ جادو سے بھی متأثر ہو سکتے ہیں، جیسا کہ فرعون کے دربار میں موسیg پر جادو کا اثر ہو گیا تھا، ارشادِ باری تعالی ہے: {قَالَ بَلْ اَلْقُوْا فَاِذَا حِبَالُھُمْ وَعِصِیُّھُمْیُخَیَّلُ اِلَیْہِ مِنْ سِحْرِھِمْ اَنَّھَا تَسْعٰی (۶۶) فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِہٖخِیْفَۃً مُّوْسٰی} (۶۷) ’’موسیg نے کہا: نہیں، تم ہی پہلے ڈالو، اب تو موسیg کو یہ خیال گزرنے لگا کہ ان کی رسیاں اور لکڑیاں ان کے جادو کے زور سے دوڑ بھاگ رہی ہیں۔ پس موسی (g) نے اپنے دل ہی دل میں ڈر محسوس کیا۔‘‘(سورۂ طہ: ۶۶) اسی طرح یہودی لوگوں نے آپ a پر جادو کیا، جس کے کچھ اثرات آپ a نے محسوس کیے، اس سے بھی منصب ِ نبوت پر کوئی حرف نہیں آیا، کیونکہ اس سے کارِ نبوت متاثر نہیں ہوا، اللہ تعالی نے اپنے نبی کی حفاظت فرمائی اور جادو سے وحییا فریضۂ رسالت کی ادائیگی متاثر نہیں ہونے دی۔ جیسے دشمنوں نے غزوۂ احد کے موقع پر آپ a کو خاصا جسمانی نقصان پہنچایا، اسی طرح آپ a کا مالی نقصان بھی ہو جاتا ہے، آپ a بیمار بھی ہو جاتے تھے، ایک دفعہ گھوڑے سے گرنے کی وجہ سے زخمی ہو گئے، آپa کو زہر دیا گیا اور اس سے آپ a کو تکلیف ہوئی، لوگوں کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے آپ a پریشان ہو جاتے تھے، اسی طرح جادو سے بھی آپ a کچھ متأثر ہو گئے تھے۔ بہرحال ہم قرآن حکیم اور احادیث ِ صحیحہ کے محتاج ہیں اور ان پر ہی اپنے نظریات کی بنیاد رکھتے ہیں۔ بعض روایات میں ہے کہ آپ a نے جادو کا عمل نکالنے کے لیے سیدنا علیb کو بھیجا تھا اور بعض میں ہے کہ آپ a خود تشریف لے گئے تھے، ان روایات میں جمع و تطبیق کییہ صورت ممکن ہے کہ پہلے آپ a نے سیدنا علیb کو بھیجا ہو اور پھر آپ a خود ان کے پیچھے روانہ ہو گئے ہوں، اس طرح سیدنا علیb نے وہ عمل کنویں سے نکالا ہو اور آپ a نے اس کا مشاہدہ کر کے اس کو ختم کیا ہو اور پھر سیدنا علیb کو یہ حکم دیا ہو کہ وہ اس کو دفنا دیں۔ آپa نے لبید بن عاصم سے انتقام نہیں لیایا اس کو سزا نہیں دی، ممکن ہے کہ فتنہ سے بچنے کے لیے اس کو سزا نہ دی گئی ہو، کیونکہیہ شخص بنو زریق قبیلے سے تھا، جو کہ خزرج قبیلے کی ایک شاخ تھی اور اسلام سے پہلے بہت زیادہ انصاریوں اور یہودیوں کے درمیان معاہدے کیے گئے تھے، اس لیے انتقامی کاروائی کرنے سے کوئی شرّ پھیل سکتا تھا، یہ ایسے ہی ہے، جیسے آپ a نے منافقوں کو قتل نہ کرنے کییہ وجہ بیان کی تھی: ((لَایَتَحَدَّثُ النَّاسُ اَنَّ مُحَمَّدًا یَقْتُلُ اَصْحَابَہٗ۔)) …’’کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ ایسی باتیں کرنا شروع کر دیں کہ محمد (a) تو اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کر دیتا ہے۔‘‘ دوسری وجہ یہ ہے کہ آپ a اپنی ذات کی خاطر انتقام نہیں لیا کرتے تھے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس وقت تک جادو گر کے بارے میں کوئی خاص سزا نازل نہ ہوئی ہو۔
6806
Sahih
۔ (۶۸۰۷)۔ عَنْ عَمْرَۃَ قَالَ: اِشْتَکَتْ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَطَالَ شَکَوْاھَا، فَقَدِمَ اِنْسَانٌ الْمَدِیْنَۃَیَتَطَبَّبُ فَذَھَبَ بَنُو أَخِیْہَایَسْأَلُوْنَہُ عَنْ وَجَعِہَا فَقَالَ: وَاللّٰہِ! إِنَّکُمْ تَنْعَتُوْنَ نَعْتَ امْرَأَۃٍ مَطْبُوْبَۃٍ، قَالَ: ھٰذِہِ امْرَأَۃٌ مَسْحُوْرَۃٌ سَحَرَتْہَا جَارِیَۃٌ لَھَا، قَالَتْ: نَعَمْ، أَرَدْتُ أَنْ تَمُوْتِی فَأُعْتَقَ، قَالَتْ: وَکَانَتْ مُدَبَّرَۃً، قَالَتْ: بِیْعُوْھَا فِی أَشَدِّ الْعَرَبِ مَلَکَۃً وَاجْعَلُوْا ثَمَنَہَا فِیْ مِثْلِہَا۔ (مسند احمد: ۲۴۶۲۷)
۔ عمرہ کہتی ہیں کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیمار ہو گئیں اور ان کی بیماری طول پکڑ گئی، ایک آدمی مدینہ منورہ میں آیا، وہ طب اور حکمت کا کام کرتا تھا، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے بھتیجے اس حکیم کے پاس آئے اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی تکلیف کے متعلق دریافت کیا، اس نے کہا: اللہ کی قسم! تم لوگ جو کچھ بتارہے ہو، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس خاتون پر جادو ہوا ہے اور اس کی لونڈی نے اس پر جادو کیا ہے، جب اس لونڈی سے پوچھا گیا تو اس نے کہا: ہاں! میں نے جادو کیا ہے، میں چاہتی تھی کہ تو جلدی مر جائے، تاکہ میں آزاد ہو جائوں، دراصل وہ لونڈی مدبرہ تھی، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا : اسے اس آدمی کے ہاں فروخت کرو جو عرب میں لونڈیوں کے معاملے میں سخت ترین ہو اور اس کی قیمت سے اس جیسی ایک اور لونڈی خرید لو۔
Takhreej
(۶۸۰۷) ھذا الاثر صحیح، أخرجہ مالک فی ’’المؤطا‘‘: ۲۷۸۲، وعبد الرزاق: ۱۸۷۴۹(انظر: ۲۴۱۲۶)
6807
Sahih
۔ (۶۸۰۸)۔ عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ صَاحِبُ خَمْسٍ مُدْمِنُ خَمْرٍ، وَلَا مُؤْمِنٌ بِسِحْرٍ، وَلَا قَاطِعُ رَحِمٍ، وَلَا کَاھِنٌ، وَلَا مَنَّانٌ۔)) (مسند احمد: ۱۱۸۰۳)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پانچ خصلتوں والا آدمی جنت میں داخل نہیں ہو گا: شراب نوشی پر ہمیشگی اختیار کرنے والا، جادو کی تصدیق کرنے والا، قطع رحمی کرنے والا، کہانت کرنے والااور احسان جتانے والا۔
Takhreej
(۶۸۰۸) تخریج: حدیث حسن لغیرہ، أخرجہ البزار: ۲۹۳۲ (انظر: ۱۱۷۸۱/۱)
6808
Sahih
۔ (۶۸۰۹)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ثَلَاثَۃٌ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ، مُدْمِنُ خَمْرٍ، وَقَاطِعُ رَحِمٍ، وَمُصَدِّقٌ بِالسِّحْرِ وَمَنْ مَاتَ مُدْمِنًا لِلْخَمْرِ سَقَاہُ اللّٰہُ مِنْ نَہْرِ الْغُوْطَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۹۸)
۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین آدمی جنت میں داخل نہیں ہوں گے:شراب نوشی پر ہمیشگی اختیار کرنے والا،قطع رحمی کرنیوالااور جادو کی تصدیق کرنے والا اور جو آدمی اس حال میں مرے کہ وہ شراب نوشی پر ہمیشگی کرتا ہو اس کو تو اللہ تعالیٰ غوطہ کی نہر سے پلائے گا۔
Takhreej
(۶۸۰۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابی حریز، وقولہ منہ: ’’ثلاثۃ لا یدخلون الجنۃ: مدمن خمر، وقاطع رحم، ومصدق بالسحر‘‘ حسن لغیرہ بشاہدہ من حدیث ابی سعید الخدریB، أخرجہ ابن حبان: ۵۳۴۶، وابویعلی: ۷۲۴۸، وابن حبان: ۶۱۳۷، والحاکم: ۴/ ۱۴۶ (انظر: ۱۹۵۶۹)
Explanation
فوائد:… امام نووی نے کہا: جادو کا عمل حرام ہے اور یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے، اس بات پر مسلمانوں کا اجماع و اتفاق ہے، بسا اوقات یہ کفر ہوتا ہے اور بعض اوقات معصیت، اگر اس میں کہا جانے والا قول یا کیا جانے والا فعل کفر ہو تو جادو گر کافر ہو جائے گا اور اگر وہ عمل کفریہ نہ ہو تو وہ فاسق اور نافرمان ٹھہرے گا، بہرحال اس کی تعلیم دینا اور اس کی تعلیم حاصل کرنا دونوں حرام ہیں۔ حدیث نمبر (۶۸۰۹) یہاں اختصار کے ساتھ روایت کی گئی ہے، مکمل روایت ’’کتاب الاشربۃ‘‘ میں آئے گی، اس میں غوطہ کی نہر کی وضاحت کی گئی ہے۔
6809
Zaeef
۔ (۶۸۱۰)۔ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ اَبِی الْعَاصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((کَانَ لِدَاوُدَ نَبِیِّ اللّٰہِ مِنَ اللَّیْلِ سَاعَۃٌیُوْقِظُ فِیْہَا أَھْلَہُ فَیَقُوْلُ: یَا آلَ دَاوُدَ! قُوْمُوْا فَصَلُّوْا فَاِنَّ ھٰذِہٖسَاعَۃٌیَسْتَجِیْبُ اللّٰہُ فِیْہَا الدُّعَائَ اِلَّا لِسَاحِرٍ وَعَشَّارٍ۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۹۰)
۔ سیدناعثمان بن ابی العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نبی دائود علیہ السلام نے رات کو ایک وقت کا تعین کر رکھا تھا، جس میں وہ اپنے اہل وعیال کو بیدا کرتے اور فرماتے :اے آل دائود! اٹھو اور نماز پڑھو، یہ ایسی گھڑی ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ دعا قبول کرتے ہیں،ما سوائے جادو گر اور ٹیکس وصول کنندہ کی دعا کے۔
Takhreej
(۶۸۱۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف علی بن زید بن جدعان، ولاختلاف فی سماع الحسن من عثمان، أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۸۳۷۴ (انظر: ۱۶۲۸۱)
6810
Zaeef