مسنداحمد

Musnad Ahmad

جادو، کہانت اور نجومیت کے ابواب

فال پکڑنے، زمیں میں خط لگانے اور بدشگونی کا بیان

۔ (۶۸۲۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَانَ نَبِیٌّ مِنَ الْأَنْبِیَائِیَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ عِلْمَہُ فَہُوَ عِلْمُہُ)) (مسند احمد: ۹۱۰۶)

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک نبی لکیریں لگاتا تھا، پس جس شخص کا علم اس کے موافق ہو جائے، وہ علم درست ہو گا۔

۔ (۶۸۲۳)۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا عَوْفٌ عَنْ حَیَّانَ حَدَّثَنِیْ قَطَنُ بْنُ قَبِیْصَۃَ عَنْ اَبِیْہِ أَنَّہ، سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ الْعِیَافَۃَ وَالطُّرُقَ وَالطِّیَرَۃَ مِنَ الْجِبْتِ۔)) قَالَ عَوْفٌ: اَلْعَیَافَۃُ: زَجْرُ الطَّیْرِ، وَالطُّرُقُ: اَلْخَطُّ یَخُطُّ فِیْ الأَرْضِ، وَالْجِبْتُ، قَالَ الْحَسَنُ: إِنَّہُ الشَّیْطَانُ۔ (مسند احمد: ۲۰۸۸۰)

۔ سیدنا قبیصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فال پکڑنے کے لئے پرندوں کو اڑانا،زمین پر لکیریں لگانا اور بدشگونی لینا شیطانی کام ہیں۔ عوف نے کہا: العیافۃ سے مراد پرندوں کو اڑانا، الطرق سے مراد زمین پر لکیریں لگانا اور الجبت سے مراد شیطان ہے، آخری معنی حسن نے بیان کیا ہے۔