سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی وضو کرتا ہے اور اچھا اور مکمل وضو کرتا ہے اور پھر وہ صرف نماز کے ارادے سے مسجد میں آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس طرح خوش ہوتا ہے، جیسے لوگ اس آدمی کے ظہور کے وقت خوش ہوتے ہیں، جو پہلے غائب ہوتا ہے۔
سیدنا ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں ایسے اعمال پر تمہاری رہنمائی نہ کر دوں کہ جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹاتا ہے اور نیکیوں میں اضافہ کرتاہے؟ لوگوں نے کہا: جی کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ناپسندیوں کے باوجود وضو مکمل کرنا، مسجدوں کی طرف زیادہ چل کر جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔
سیدنا ابوہریرہؓ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی طرح کی ایک حدیث روایت کی ہے، البتہ اس میں یہ زیادتی ہے: یہی رِباط ہے۔
سیدنا عقبہ بن عامر ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب بندہ وضو کر کے مسجد میں آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلے دس نیکیاں لکھتے ہیں، پھر جب وہ مسجد میں نماز پڑھ کر وہیں بیٹھ جاتا ہے تووہ روزہ رکھنے والے اور قیام کرنے والے کی طرح ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ لوٹ آتا ہے۔
سیدنا کعب بن عجرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی وضو کرتا ہے اور اچھا وضو کرتا ہے اور پھر نماز کے قصد سے نکل پڑتا ہے تو وہ اپنے ہاتھوں میں تشبیک نہ ڈالا کرے، کیونکہ وہ نماز میں ہوتا ہے۔
سیدنا عثمان بن عفان ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے وضو کیا اور مکمل وضو کیا، پھر فرضی نماز ادا کرنے کے لیے مسجد کی طرف گیا اور وہ نماز ادا کی تو اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔
سیدنا عثمان بن عفانؓ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مجلس میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اور اچھا وضو کیا اور پھر فرمایا: جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا، پھر مسجد میں آیا اور دو رکعتیں ادا کیں، اس کے سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے۔ پھر انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس دھوکہ نہ کھا جانا۔