مسنداحمد

Musnad Ahmad

وضو کے ابواب

وسوسے کی مذمت اور وضو کے پانی میں اسراف کی کراہت کا بیان

۔ (۶۰۸)۔عَنْ أُبیٍّ بْنِ کَعْبٍؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لِلْوُضُوئِ شَیْطَانٌ یُقَالُ لَہُ الْوَلَہَانُ، فَاتَّقُوہُ، أَو قَالَ: فَاحْذَرُوہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۵۵۸)

سیدنا ابی بن کعبؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وضو کا ایک شیطان ہے، اس کو وَلَہَان کہتے ہیں، پس اس سے بچ کر رہو۔

۔ (۶۰۹)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ بِسَعْدٍ وَہُوَ یَتَوَضَّأُ، فَقَالَ: ((مَا ھٰذَا السَّرَفُ یَا سَعْدُ؟)) قَالَ: أَفِی الْوُضُوئِ سَرَفٌ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، وَاِنْ کُنْتَ عَلٰی نَہْرٍ جَارٍ)) (مسند أحمد:۷۰۶۵)

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سیدنا سعدؓ کے پاس سے گزرے اور وہ وضو کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: سعد! یہ کیا اسراف کر رہے ہو؟ انھوں نے کہا: کیا وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، اور اگرچہ تو جاری نہر پر ہو۔