مسنداحمد

Musnad Ahmad

وضو کے ابواب

وضواور غسل کے پانی کی مقدار کا بیان

۔ (۶۱۰)۔عَنْ عُبَیْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِی یَزِیْدَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: کَمْ یَکْفِیْنِی مِنَ الْوُضُوئِ؟ قَالَ: مُدٌّ، قَالَ: کَمْ یَکْفِینِیْ لِلْغُسْلِ؟ قَالَ: صَاعٌ، قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ: لَا یَکْفِینِیْ، قَالَ: لَا أُمَّ لَکَ، قَدْ کَفٰی مَنْ ہُوَ خَیْرٌ مِنْکَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۲۶۲۸)

سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ان سے کہا: وضو کے لیے مجھے کتنا پانی کفایت کرے گا؟ انھوں نے کہا: ایک مُدّ۔ اس نے کہا: اور غَسَلَ کے لیے مجھے کتنا پانی کفایت کرے گا؟ انھوں نے کہا: ایک صاع۔ اس آدمی نے کہا: یہ پانی مجھے تو کفایت نہیں کرتا، انھوں نے کہا: تیری ماں نہ رہے۔ یہ مقدار اس ہستی کے لیے تو کافی تھی، جو تجھ سے بہتر تھی، ان کی مرادرسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تھے۔

۔ (۶۱۱)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُجْزِیئُ فِی الْوُضُوئِ رِطْلَانِ مِنْ مَّائٍ)) (مسند أحمد: ۱۲۸۷۰)

سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وضو کے لیے دو رطل پانی کفایت کرتا ہے۔

۔ (۶۱۲)۔وَعَنہُ أَیْضًا ؓ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأُ بِاِنَائٍ یَکُونُ رِطْلَیْنِ وَیَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ۔ (مسند أحمد: ۱۲۸۷۴)

سیدنا انس بن مالکؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک ایسے برتن سے وضو کر لیتے تھے، جس میں دو رطل پانی آتا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک صاع پانی سے غسل کر لیتے تھے۔

۔ (۶۱۳)۔وَعَنْہُ أَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((یَکْفِیْ أَحَدَکُمْ مُدٌّ فِی الْوُضُوئِ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۸۲۴)

سیدنا انسؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وضو کے لیے تم کو ایک مُدّ پانی کافی ہے۔