مسنداحمد

Musnad Ahmad

میاں بیوی کے حقوق اور اچھی صحبت کا بیان

بیوی پر خاوند کے حقوق کا بیان

۔ (۷۱۰۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَصُوْمُ الْمَرْأَۃُ وَبَعْلُہَا شَاھِدٌ اِلَّا بِاِذْنِہِ، وَلَا تَأْذَنُ فِیْ بَیْتِہِ وَھُوَ شَاھِدٌ اِلَّا بِأِذْنِہِ، وَمَا أَنْفَقَتْ مِنْ کَسْبِہِ مِنْ غَیْرِ أَمْرِہِ، فَإِنَّ نِصْفَ أَجْرِہِ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۸۱۷۳)

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب خاوند موجود ہو تو اس کی بیوی اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھے اور خاوند کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر گھر میں کسی کو آنے کی اجازت نہ دے اور عورت اپنے خاوند کی کمائی سے اس کے حکم کے بغیر جو کچھ خرچ کرے گی ، اس کو آدھا اجر ملے گا۔

۔ (۷۱۰۲)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَہ اِلٰی فِرَاشِہِ فَأَبَتْ عَلَیْہِ فَبَاتَ وَھُوَ غَضْبَانُ (وَفِیْ لَفْظٍ: وھُوَ عَلَیْہَا سَاخِطٌ) لَعَنَتْہَا الْمَلَائِکَۃُ حَتّٰی تُصْبِحَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۲۳۰)

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنی بیوی کو بستر پر بلائے اور وہ انکار کر دے اوروہ اس پر غصہ کی حالت میں رات گزارے تو صبح تک فرشتے ایسی خاتون پر لعنت کریں گے۔

۔ (۷۱۰۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا بَاتَتِ الْمَرْأَۃُ ھَاجِرَۃً فِرَاشَ زَوْجِہَا، بَاتَتْ تَلْعَنُہَا الْمَلَائِکَۃُ حَتّٰی تَرْجِعَ۔)) (مسند احمد: ۷۴۶۵)

۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب عورت اس حال میں رات گزارے کہ اس نے اپنے خاوند کا بستر چھوڑ رکھا ہو تو فرشتے اس پر لعنت کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ وہ اس کے بستر کی طرف لوٹ آئے۔

۔ (۷۱۰۴)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ فِیْ نَفَرٍ مِنَ الْمُہَاجِرِیْنَ وَالْأَنْصَارِ فَجَائَ بَعِیْرٌ فَسَجَدَ لَہُ، فَقَالَ أَصَحَابُہُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ((تَسْجُدُ لَکَ الْبَہَائِمُ وَالشَّجَرُ فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَکَ۔)) فَقَالَ: ((اعْبُدُوْا رَبّکُمْ وَأَکْرِمُوْا أَخَاکُمْ، وَلَوْ کُنْتُ آمُرُ أَحَدًا أَنْ یَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَۃَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِہَا، وَلَوْ أَمَرَھَا أَنْ تَنْقُلَ مِنْ جَبَلٍ أَصْفَرَ اِلٰی جَبَلٍ أَسْوَدَ وَمِنْ جَبَلٍ أَسْوَدَ اِلٰی جَبَلٍ أَبْیَضَ کَانَ یَنْبَغِیْ لَھَا أَنْ تَفْعَلَہ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۷۵)

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مہاجرین اور انصار کے ایک گروہ میں تشریف فرما تھے، ایک اونٹ آیا اور آپ کے سامنے سجدہ ریز ہوگیا،یہ منظر دیکھ کر صحابہ کرامf نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر جانور اور درخت آپ کو سجدہ کرتے ہیں تو ہم آپ کو سجدہ کرنے کے زیادہ حقدار ہوں گے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے رب کی عبادت کرو اور اپنے بھائییعنی اپنے نبی کی عزت کرو، اگر میں نے کسی انسان کو دوسرے انسان کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دینا ہوتا تو میں بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے، خاوند کا بیوی پر اتنا حق ہے کہ اگر وہ حکم دے کہ اس کی بیوی زرد پہاڑ سے سیاہ پہاڑ کی طرف اور سیاہ پہاڑ سے سفید پہاڑ کی طرف پتھروں کو منتقل کرے، تو اس کے شایان شان یہی بات ہو گی کہ وہ ایسا ہی کر گزرے۔

۔ (۷۱۰۵)۔ عَنْ اَبِیْ ظِبْیَانَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّہ، لَمَّا رَجَعَ مِنَ الْیَمَنِ قَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! رَاَیْتُ رِجَالًا بِالْیَمَنِیَسْجُدُ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ أَفَـلَا نَسْجُدُ لَکَ؟ قَالَ: ((لَوْ کُنْتُ آمُرُ بَشَرًا یَسْجُدُ لِبَشَرٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَۃَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِہَا)) (مسند احمد: ۲۲۳۳۵)

۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب میںیمن سے واپس آیا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے یمن میں دیکھا ہے کہ وہاں لوگ ایک دوسرے کو سجدہ کرتے ہیں، تو کیا ہم بھی آپ کو سجدہ نہ کیا کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میں نے بشر کو بشر کے لئے سجدہ کی اجازت دینا ہوتی تو میں بیوی کو حکم دیتا کہ وہ خاوند کو سجدہ کرے۔

۔ (۷۱۰۶)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَصْلُحُ لِبَشَرٍ اَنْ یَسْجُدَ لِبَشَرٍ وَلَوْ صَلَحَ لِبَشَرٍ أَنْ یَسْجُدَ لِبَشَرٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَۃَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِہَا مِنْ عِظَمِ حَقِّہِ عَلَیْہَا، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَوْ کَانَ مِنْ قَدَمِہِ اِلٰی مَفْرِقِ رَأْسِہِ قُرْحَۃً تَنْبَجِسُ بِالْقَیْحِ وَالصَّدِیْدِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَتْہُ فَلَحَسَتْہُ مَا أَدَّتْ حَقَّہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۴۱)

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی بشر کے لئے اجازت نہیں کہ وہ دوسرے بشر کو سجدہ کرے، اگر ایک انسان کا دوسرے انسان کو سجدہ کرنا مناسب ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے، کیونکہ اس پر اس کے خاوند کا بہت بڑا حق ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر خاوند کو پائوں سے لے کر سر کی مانگ تک پھوڑا نکل آئے اور اس سے لہو اور پیپ بہنا شروع ہو جائے اور اس کی بیوی آ کر اس کو چاٹنا شروع کر دے تو پھر بھی وہ اپنے خاوند کا حق ادا نہیں کر سکے گی۔

۔ (۷۱۰۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ أَوْفٰی قَالَ: قَدِمَ مُعَاذٌ الْیَمَنَ اَوْ قَالَ: الشَّامَ، فَرَأَی النَّصَارٰی تَسْجُدُ لِبَطَارِقَتِہَا وَأَسَاقِفَتِہَا فَرَوَّأَ (أَیْ فَکَّرَ) فِیْ نَفْسِہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَحَقُّ أَنْ یُعَظَّمَ، فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! رَاَیْتُ النَّصَارٰی تَسْجُدُ لِبَطَارِقَتِہَا وَاَسَاقِفَتِہَا فَرَوَّأْتُ فِیْ نَفْسِیْ أَنَّکَ أَحَقُّ أَنْ تُعَظَّمَ، فَقَالَ: ((لَوْ کُنْتُ آمُرُ أَحَدًا أَنْ یَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَۃَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِہَا، وَلَا تُؤَدِّی الْمَرْأَۃُ حَقَّ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْہَا کُلَّہُ حَتّٰی تُؤَدِّیَ حَقَّ زَوْجِہَا عَلَیْہَا کُلَّہُ، حَتّٰی لَوْسَأَلَھَا نَفْسَہَا وَھِیَ عَلٰی ظَہْرِ قَتَبٍ لَاَعْطَتْہُ اِیَّاہُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۲۳)

۔ سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنامعاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یمنیا شام میں آئے اور عیسائیوں کو دیکھا کہ وہ اپنے لیڈروں اور پادریوں کو سجدہ کرتے ہیں، انھوں نے اپنے دل میں سوچا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس تعظیم کے زیادہ مستحق ہیں، پھر جب وہ واپس آئے تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے عیسائیوں کو دیکھا ہے کہ وہ اپنے پادریوں اور لیڈروں کو سجدہ کرتے ہیں اور مجھے اپنے دل میں خیال آیا کہ کہ آپ اس تعظیم کے زیادہ مستحق ہیں؟ لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میں نے کسی کو اللہ تعالی کے علاوہ کسی کے لئے سجدہ کرنے کا حکم دینا ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے، بیوی اس وقت تک اللہ تعالی کے حقوق ادا نہیں کر سکتی، جب تک کہ وہ اپنے خاوند کے کما حقہ حقوق ادا نہ کرے، اگر خاوند عورت کو وظیفہ زوجیت کے لئے طلب کرے اور وہ (کسی سواری کے) پالان کے اوپر بیٹھی ہو تو اس عورت کو خاوند کا مطالبہ پورا کرنا پڑے گا۔

۔ (۷۱۰۸)۔ عَنْ عَائِذِاللّٰہِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ اَنَّ مُعَاذًا قَدِمَ عَلَی الْیَمَنِ فَلَقِیَتْہُ امْرَأَۃٌ مِنْ خَوْلَانَ مَعَہَا بَنُوْنَ لَھَا اِثْنَا عَشَرَ فَتَرَکَتْ أَبَاھُمْ فِیْ بَیْتِہَا، أَصْغَرُھُمُ الَّذِیْ قَدِ اجْتَمَعَتْ لِحْیَتُہُ فَقَامَتْ فَسَلَّمَتْ عَلٰی مُعَاذٍ وَرُجَلانِ مِنْ بَنِیْہَایُمْسِکَانِ بِضَبْعَیْہَا فَقَالَتْ: مَنْ أَرْسَلْکَ أَیُّہَا الرَّجُلُ؟ قَالَ لَھَا مُعَاذٌ: أَرْسَلَنِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتِ الْمَرْأَۃُ: أَرْسَلَکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنْتَ رَسُوْلُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ أَفَـلَا تُخْبِرُنِیْیَا رَسُوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِِ a؟ فَقَالَ لَھَا مُعَاذٌ: سَلِیْنِیْ عَمَّا شِئْتِ، قَالَتْ: حَدِّثْنِیْ مَا حَقُّ الْمَرْئِ عَلٰی زَوْجَتِہِ؟ قَالَ لَھَا مُعَاذٌ: تَتَّقِی اللّٰہَ ماَ اسْتَطَاعَتْ وَتَسْمَعُ وَتُطِیْعُ، قَالَتْ: أَقْسَمْتُ بِاللّٰہِ عَلَیْکَ لَتُحَدِّثَنِّیْ مَا حَقُّ الرَّجُلِ عَلٰی زَوْجَتِہِ؟ قَالَ لَھَا مُعَاذٌ: اَوَمَا رَضِیْتِ أَنْ تَسْمَعِیْ وَتُطِیْعِیْ وَتَتَّقِی اللّٰہَ؟ قَالَتْ: بَلیٰ وَلٰکِنْ حَدِّثْنِیْ مَا حَقُّ الْمَرْئِ عَلٰی زَوْجَتِہِ، فَاِنِّیْ تَرَکْتُ أَبَا ھٰؤُلَائِ شَیْخًا کَبِیْرًا فِی الْبَیْتِ، فَقَالَ لَھَا مُعَاذٌ: والَّذِیْ نَفْسُ مُعَاذٍ فِیْیَدَیْہِ! لَوْ أَنَّکِ تَرْجِعِیْنَ اِذَا رَجَعْتِ اِلَیْہِ فَوَجَدْتِ الْجُذَامَ قَدْ خَرَقَ لَحْمَہُ وَخَرَقَ مَنْخِرَیْہِ، فَوَجَدْتِ مَنْخِرَیْہِیَسِیْلَانِ قَیْحًا وَدَمًا ثُمَّ أَلْقَمْتِیْہِمَا فَاکِ لِکَیْ مَا تَبْلُغِیْ حَقَّہُ مَا بَلَغْتِ ذَالِکَ أَبَدًا۔ (مسند احمد: ۲۲۴۲۸)

۔ عائذ بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یمن میں آئے، انہیں خولان قبیلہ کی ایک عورت ملی، اس کے ساتھ اس کے بارہ بیٹے بھی تھے، وہ ان کے باپ کو گھر میں چھوڑآئی تھی، ان میں سے جو سب سے چھوٹا بیٹا تھا، وہ مکمل باریش تھا، وہ کھڑی ہوئی اوراس کے دو بیٹوں نے اسے تھام رکھا تھا، اس نے سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سلام کہا اور کہا: اے آدمی! تجھے کس نے یہاں بھیجا ہے؟ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یہاں بھیجا ہے۔اس نے کہا: کیا واقعی آپ کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھیجا ہے،اچھا اگر آپ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قاصد ہیں مجھے کچھ بتاتے کیوں نہیں؟ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جو ضرورت ہے پوچھو، اس نے کہا: مجھے بتائو کہ آدمی کا اپنی بیوی پر کیا حق ہے؟انھوں نے اسے بتایا کہ تم اللہ تعالیٰ سے مقدور بھر ڈرتی رہو اور سنو اور اطاعت کرو، اس نے کہا: میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر کہتی ہوں، مجھے بتائو آدمی کا اپنی بیوی پر کیا حق ہے؟انھوں نے کہا: کیا تم اس پر راضی نہیں ہوئی کہ تم خاوند کی بات سنو اور اس کی اطاعت کریں اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو؟ اس نے کہا: جی ضرور راضی ہوں، لیکن پھر بھی آپ مجھے بتائیں کہ آدمی کا اپنی بیوی پر کیا حق ہے؟ کیونکہ میں ان کے باپ کو گھر میں چھوڑ آئی ہوں، وہ بہت زیادہ بوڑھا ہو چکا ہے؟ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے دونوں ہاتھوں میں معاذ کی جان ہے! فرض کرو جب تم اس کے پاس لوٹ کر جاؤ اور اس کو اس حال میں پاؤ کہ کوڑھ نے اس کا گوشت چھلنی کردیا ہو اور اس کے دونوں نتھنے پھٹ چکے ہوں اور اس کے نتھنوں سے پیپ اور خون بہہ رہا ہوں اور تم اس کے دونوں نتھنوں کو منہ میں ڈال لو، تاکہ تم اس کا حق ادا کر دو، تو پھر بھی تم اس کا حق ادا نہیں کر سکو گی۔

۔ (۷۱۰۹)۔ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا صَلَّتِ الْمَرْأَۃُ خَمْسَہَا وَصَامَتْ شَہْرَھَا وَحَفِظَتْ فَرْجَہَا وَاَطَاعَتْ زَوْجَہَا، قِیْلَ لَھَا: ادْخُلِیْ الْجَنَّۃَ مِنْ أَیِّ اَبْوَابِ الْجَنَّۃِ شِئْتِ)) (مسند احمد: ۱۶۶۱)

۔ سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب عورت پانچ نمازیں پڑھتی ہو، ماہ رمضان کے روزے رکھتی ہو، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرتی ہو اور اپنے خاوند کی اطاعت کرتی ہو، تو اس سے کہا جائے گا کہ جنت میں جس دروازے سے چاہتی ہے، داخل ہو جا۔

۔ (۷۱۱۰)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تُؤْذِی امْرَأَۃٌ زَوْجَہَا فِی الدُّنْیَا اِلَّا قَالَتْ زَوْجَتُہُ مِنَ الْحُوْرِ الْعِیْنِ: لَا تُؤْذِیْہِ، قَاتَلَکِ اللّٰہُ فَاِنَّمَا ھُوَ عِنْدَکِ دَخِیْلٌیُوْشِکُ أَنْ یُفَارِقَکِاِلَیْنَا۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۵۲)

۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب دنیا والی کوئی عورت اپنے خاوند کو تکلیف دیتی ہے تو جنت کی سفید سرخ رنگ والی موٹی موٹی آنکھوں والی عورتوں میں سے اس کی بیوی اس کو مخاطب ہو کر کہتی ہے: اللہ تعالیٰ تجھے ہلاک کرے، یہ تو تیرے پاس چند دن کا مہمان ہے، قریب ہے کہ یہ تجھ سے جدا ہو کر ہمارے پاس آ جائے۔

۔ (۷۱۱۱)۔ عَنِ الْحُصَیْنِ بْنِ مِحْصَنٍ أَنَّ عَمَّۃً لَہُ أَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَاجَۃٍ فَفَرَغَتْ مِنْ حَاجَتِہَا، فَقَالَ لَھَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَ ذَاتُ زَوْجٍ أَنْتِ؟)) قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: ((کَیْفَ اَنْتِ لَہُ؟)) قَالَتْ: مَا آلُوْہُ اِلَّا مَاعَجَزْتُ عَنْہُ، قَالَ: ((انْظُرِیْ اَیْنَ اَنْتِ مِنْہُ فَاِنَّمَا ھُوَ جَنَّتُکِ وَنَارُکِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۲۱۲)

۔ سیدنا حصین بن محصن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی پھوپھی کسی کام کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور جب وہ اپنے کام سے فارغ ہوگئی تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے کہا: کیا تم شادی شدہ ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم خاوند کے لئے کیسی ثابت ہو رہی ہو؟ اس نے کہا: میں اس کی خدمت میں کوئی کمی نہیں کرتی، مگر وہ کام جس سے میں عاجز آ جاؤں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ذرا غور کرلینا کہ تو اس کے ساتھ کیسا معاملہ کرتی ہے، وہی تیری جنت ہے اور وہی تیری جہنم ہے۔

۔ (۷۱۱۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ٍیَقُوْلُ: ((اَیُّمَا امْرَأَۃٍ نَزَعَتْ ثِیَابَہَا فِیْ غَیْرِ بَیْتِ زَوْجِہَا ھَتَکَتْ سِتْرَ مَا بَیْنَہَا وَبَیْنَ رَبِّہَا۔)) (مسند احمد: ۲۴۶۴۱)

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس عورت نے اپنے خاوند کے گھر کے علاوہ اپنا لباس اتار ا، اس نے اپنے اور اپنے رب کے درمیان والا پردہ چاک کر دیا۔

۔ (۷۱۱۳)۔ عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ یَزِیْدَ إِحْدٰی نِسَائِ بَنِیْ عَبْدِ الْأَشْہَلِ قَالَتْ: مَرَّ بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَحْنُ فِیْ نِسْوَۃٍ، فَسَلَّمَ عَلَیْنَا وَقَالَ: ((اِیَّاکُنَّ وَکُفْرَ الْمُنَعَّمِیْنَ۔)) فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَا کُفْرُ الْمُنَعَّمِیْنَ؟ قَالَ: ((لَعَلَّ اِحْدَا کُنَّ أَنْ تَطُوْلَ أَیْمَتُہَا بَیْنَ أَبَوَیْہَا وَتَعْنُسَ فَیَرْزُقَہَا اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ زَوْجَہَا وَیَرْزُقَہَا مِنْہُ مَالًا وَوَلَدًا فَتَغْضَبُ الْغَضْبَۃَ فَتَقُوْلُ: مَا رَاَیْتُ مِنْہُ یَوْمًا خَیْرًا قَطُّ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((مَا رَاَیْتُ مِنْہُ خَیْرًا قَطُّ۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۱۳)

۔ سیدہ اسما بنت یزید انصاریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس سے گزرے اور ہم کچھ خواتین بیٹھی ہوئی تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں سلام کہا اور پھر فرمایا: خوشحال لوگوں کی طرح ناشکر ی کرنے سے بچنا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! خوشحال لوگوں کی ناشکری کیا ہوتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ممکن ہے کہ تم عرصہ دراز تک اپنے والدین کے پاس بے شوہر کی زندگی گزارتی رہو، پھر اللہ تعالیٰ تمھیں خاوند عطا کرے اور (اس کے ذریعے) اولاد کی نعمت بھی دے، لیکن تم کسی دن غصے میں آکر (خاوند کو) یہ کہہ دو کہ میں نے تو تیرے پاس کوئی خیر و بھلائیدیکھی ہی نہیں۔

۔ (۷۱۱۴)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖاَنَّالنَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ یَوْمَ الْفَتْحِ: ((لَا یَجُوْزُ لِمَرْأَۃٍ عَطِیَّۃٌ اِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِہَا۔)) (مسند احمد: ۶۷۲۷)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا: کسی عورت کے لئے اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر عطیہ دینا حلال نہیںہے۔

۔ (۷۱۱۵)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَایَجُوْزُ لِلْمَرْأَۃِ أَمْرٌ فِیْ مَالِھَا اِذَا مَلَکَ زَوْجُہَا عِصْمَتَہَا۔)) (مسند احمد: ۷۰۵۸)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب عورت کی عصمت کا مالک اس کا خاوند بن جائے،تو عورت کے لیے اپنے مال میں تصرف کرنا جائز نہیں رہتا۔

۔ (۷۱۱۶)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: جَائَتِ امْرَأَۃُ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَحْنُ عِنْدَہُ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ زَوْجِیْ صَفْوَانَ بْنَ الْمُعَطَّلِ یَضْرِبُنِیْ اِذَا صَلَّیْتُ، وَیُفَطِّرُنِیْ اِذَا صُمْتُ، وَلَا یُصَلِّیْ صَلَاۃَ الْفَجْرِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ، قَالَ: وَصَفْوَانُ عِنْدَہُ قَالَ: فَسَأَلَہُ عَمَّا قَالَتْ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَمَّا قَوْلُھَا یَضْرِبُنِیْ اِذَا صَلَّیْتُ، فَاِنَّہَا تَقْرَأُ بِسُوْرَتَیْنِ فَقَدْ نَہَیْتُہَا عَنْہُمَا، قَالَ: فَقَالَ: ((لَوْ کَانَتْ سُوْرَۃٌ وَاحِدَۃٌ لَکَفَتِ النَّاسَ۔))، وَأَمَّا قَوْلُہَا: یُفَطِّرُنِیْ، فَاِنَّہَا تَصُوْمُ وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ فَـلَا أَصْبِرُ، قَالَ: فقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَئِذٍ: ((لَا تَصُوْمَنَّ امْرَأَۃٌ اِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِہَا۔)) قَالَ: وَأَمَّا قَوْلُہَا بِأَنِّی لَا أُصَلِّیْ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِنَّا أَھْلُ بَیْتٍ قَدْ عُرِفَ لَنَاَ ذَاکَ لَا نَکَادُ نَسْتَیْقِظُ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ، قَالَ: ((فاِذَا اسْتَیْقَظْتَ فَصَلِّ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَأَمَّا قَوْلُہَا اِنِّیْ لَا أُصَلِّیْ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَاِنِّیْ ثَقِیْلُ الرَّأْسِ وَأَنَا مِنْ أَھْلِ بَیْتٍیُعْرَفُوْنَ بِذَاکَ بِثِقَلِ الرُّؤُوْسِ، قَالَ: ((فَاِذَا قُمْتَ فَصَلِّ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۸۱)

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا صفوان بن معطل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے شوہر سیدنا صفوان بن معطل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی صورتحال یہ ہے کہ جب میں نماز پڑھتی ہوں تو وہ مجھے مارتا ہے، جب میں روزہ رکھتی ہوں تو میرا روزہ افطار کروا دیتا ہے اور وہ طلوع آفتاب کے بعد نمازِ فجر ادا کرتا ہے، اس وقت سیدنا صفوان بھی وہاں موجود تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے ان کی بیوی کے اعتراضات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا یہ کہنا کہ جب وہ نماز پڑھتی ہے تو میں اس کو مارتا ہوں، تو باتیہ ہے کہ یہ دو طویل سورتیں پڑھتی ہے، جبکہ میں نے اس کو ان سے منع کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر ایک سورت بھی پڑھ لی جائے تو وہ لوگوں کے لئے کافی ہے۔ اس نے پھر کہا: اس کا یہ کہنا کہ جب وہ روزہ رکھتی ہے تو میں اس کو افطار کروا دیتا ہوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نوجوان آدمی ہوں اور میں خود پر قابو نہیں رکھ سکتا، یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس دن فرمایا تھا کہ کوئی عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر ہر گز (نفلی) روزہ نہ رکھے۔ ا ور اس کا یہ کہنا کہ میں نماز فجر طلوع آفتاب کے بعد پڑھتا ہوں، تو گزارش یہ ہے کہ ہم اس قبیلے کے لوگ ہیں کہ ہم سورج طلوع ہونے سے پہلے بیدار ہی نہیں ہو سکتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو بیدار ہو اسی وقت نماز پڑھ لیا کرو۔ ایک روایت میں ہے: سیدنا صفوان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: پس بیشک میرا سر بوجھل رہتا ہے اور ہمارا سارا کنبہ ہی ایسا ہے کہ ہمارے بارے میں یہ معروف ہے کہ ہمارے سر بوجھل رہتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو بیدار ہو تو اسی وقت نماز پڑھ لیا کرو۔