TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بیوی کے ساتھ حسن معاشرت و حسن اخلاق سے پیش آنے کی فضیلت کا بیان - بیوی کے ساتھ حسن معاشرت و حسن اخلاق سے پیش آنے کی فضیلت کا بیان - میاں بیوی کے حقوق اور اچھی صحبت کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of میاں بیوی کے حقوق اور اچھی صحبت کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 7 · 12 Hadith
۔ (۷۱۲۵)۔ عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ الرَّجُلَ اِذَا سَقٰی امْرَأَتَہُ مِنَ الْمَائِ أُجِرَ۔))، قَالَ: فَأَتَیْتُہَا فَسَقَیْتُہَا، وَحَدَّثْتُہَا بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۷۲۸۷)
۔ سیدنا عرباض بن ساریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بیشک آدمی کے لیے اپنی بیوی کو پانی پلانے میں اجر ہے۔ تو میں اپنی بیوی کے پاس گیا اور اس کو پانی پلایا اور پھر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہوئی حدیث اس کو بیانکی۔
Takhreej
(۷۱۲۵) تخریج: صحیح بالشواہد، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۸/ ۶۴۶، والبخاری فی التاریخ الکبیر : ۳/ ۱۷۸ (انظر: ۱۷۱۵۵)
7125
Sahih
۔ (۷۱۲۶)۔ عَنْ اَبِی ذَرٍّ فِیْ حَدِیْثٍ طَوِیْلٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((وَلَکَ فِی جِمَاعِ زَوْجَتِکَ أَجْرٌ۔))، فَقَالَ أَبُوْ ذَرٍّ: وَکَیْفَیَکُوْن لِیْ أَجْرٌ فِیْ شَہْوَتِیْ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَرَاَیْتَ لَوْکَانَ لَکَ وَلَدٌ فَأَدْرَکَ وَرَجَوْتَ خَیْرَہُ فَمَاتَ أَ کُنْتَ تَحْتَسِبُ بِہِ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَاَنْتَ خَلَقْتَہُ؟)) قَالَ: بَلِ اللّٰہُ خَلَقَہُ، قَالَ: ((فَأَنْتَ ھَدَیْتَہُ؟)) قَالَ: بَلِ اللّٰہُ ھَدَاہ‘، قَالَ: ((فَأَنْتَ تَرْزُقُہُ؟)) قَالَ: بَلِ اللّٰہُ کَانَ یَرْزُقُہُ، قَالَ: ((کَذَالِکَ فَضَعْہُ فِیْ حَلَالِہِ وَجَنِّبْہُ حَرَامَہُ، فَاِنْ شَائَ اللّٰہُ أَحْیَاہُ وَاِنْ شَائَ أَمَاتَہُ وَلَکَ أَجْرٌ۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۱۶)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، یہ ایک طویل حدیث ہے، اس میں ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! تمہارے لیے اپنی بیوی سے جماع کرنے میں اجر ہے۔ انھوں نے کہا: میں نے اپنی شہوت پوری کی، اس میں اجر کیسے ہو گا؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم مجھے بتاؤ کہ اگر تمہارا بیٹا ہو، پھر وہ بالغ ہوجائے اور تم کو اس سے خیر کی امید بھی ہو، اتنے میں وہ فوت ہو جائے تو کیا تم ثواب کی نیت کے ساتھ صبر کرو گے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا یہ بتاؤ کہ کیا تم نے اس کو پیدا کیا تھا؟ انھوں نے کہا: جی نہیں،اللہ تعالیٰ نے اس کو پیدا کیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اس کو ہدایت دی تھی؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ اللہ تعالی نے اس کو ہدایت دی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو نے اس کو رزق دیا ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں، بلکہ اللہ تعالی نے اس کو رزق دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسی طرح جماع کے ذریعے حلال کو تلاش کر اور حرام سے اجتناب کر، پس اگر اللہ تعالی نے چاہا تو اس کو زندہ رکھے گا اور چاہا تو اس کو فوت کر دے گا اور اس میں تیرے لیے اجر ہو گا۔
Takhreej
(۷۱۲۶) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ النسائی فی الکبری : ۹۰۲۷، ورواہ مختصرا ابن حبان: ۳۳۷۷(انظر: ۲۱۴۸۴)
7126
Sahih
۔ (۷۱۲۷)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ قَالَ: جَائَ أَبُوْبَکْرٍ یَسْتَأْذِنُ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَمِعَ عَائِشَۃَ وَھِیَ رَافِعَۃٌ صَوْتَہَا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَذِنَ لَہُ فَدَخَل، فَقَالَ: یَا ابْنَۃَ أُمِّ رُوْمَانَ وَتَنَاوَلَھَا أَتَرْفَعِیْنَ صَوْتَکِ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: فَحَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَہُ وَبَیْنَہَا، قَالَ: فَلَمَّا خَرَجَ أَبُوْبَکْرٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَعَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ لَھَا یَتَرَضَّاھَا: ((أَنْ تَرَیْنَ أَنِّیْ قَدْ حُلْتُ بَیْنَ الرَّجُلِ وَبَیْنَکِ۔)) قَالَ: ثُمَّ جَائَ أَبُوْبَکْرٍ فَاسْتَأْذَنَ عَلَیْہِ فَوَجَدَہ، یُضَاحِکُھَا، قَالَ: فَأَذِنَ لَہُ فَدَخَلَ فَقَالَ لَہُ أَبُوْبَکْرٍ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَشْرِکَانِیْ فِیْ سِلْمِکُمَا کَمَا اَشْرَکْتُمَانِیْ فِیْ حَرْبِکُمَا۔ (مسند احمد: ۱۸۵۸۴)
۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر آنے کی اجازت طلب کی، ساتھ ہی انھوں نے سنا کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ بلند آواز میں بول رہی تھیں، پس انھوں نے اپنی بیٹی سے کہا: ام رومان کی بیٹی! کیا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر اپنی آواز کو بلند کر رہی ہے؟پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا ابوبکر اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے درمیان حائل ہو گئے، جب سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ باہر تشریف لے گئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ کو راضی کرنے کے لیے فرمانے لگے: کیا تم دیکھتی نہیں ہو کہ میں تجھے بچانے کے لیے تیرے اور تیرے باپ کے درمیان حائل ہو گیا تھا۔ بعد ازاں جب سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ ہنس رہے تھے، پس انھوں نے اجازت طلب کی اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اپنے صلح والے ماحول میں بھی داخل کرو، جیسا کہ آپ نے مجھے لڑائی کے ماحول میں داخل کیا تھا۔
Takhreej
(۷۱۲۷) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابوداود: ۴۹۹۹ (انظر: ۱۸۳۹۴)
Explanation
فوائد:… غور کریں کہ سید الانبیاء ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی بیوی کو راضی کر رہے ہیں، اور ایسے کرنے سے بیوی کی بڑی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور اس میں فرمانبرداری کا جذبہ بڑھ جاتا ہے۔ سیدہ ام رومان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ،سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اہلیہ تھیں، ان کانام زینبیا دعد تھا۔
7127
Sahih
۔ (۷۱۲۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: ((الْمَرْأَۃُ کَالْضِلَعِ فَاِنْ تَحْرِصْ عَلٰی اِقَامَتِہِ تَکْسِرْہُ وَاِنْ تَتْرُکْہُ تَسْتَمْتِعْ بِہِ وَفِیْہِ عِوَجٌ۔)) (مسند احمد: ۹۵۲۰)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عورت پسلی کی مانند ہے، اگر تم اس کو سیدھا کرنے کی آرزو کرو گے تو اس کو توڑ دو گے اور اگر تم س کو چھوڑدو تو اس سے فائدہ اٹھاتے رہو گے اور اس میں ٹیڑھ پن موجود رہے گا۔
Takhreej
(۷۱۲۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۱۸۴، ومسلم: ۱۴۶۸(انظر: ۹۵۲۴)
7128
Sahih
۔ (۷۱۲۹)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَسْتَقِیْمُ لَکَ الْمَرْأَۃُ عَلٰی خَلِیْقَۃٍ وَاحِدَۃٍ، اِنَّمَا ھِیَ کَالضِّلَعِ، إِنْ تُقِمْہَا تَکْسِرْھَا وَاِنْ تَتْرُکْہَا تَسْتَمْتِعْ بِہَا وَفِیْہَا عِوَجٌ۔)) (مسند احمد: ۱۰۸۶۸)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عورت تمہارے لیے ایک ہی عادت اور خصلت پر سیدھا نہیں رہ سکتی،یہ پسلی کی مانند ہے، اگر تم اس پسلی کو سیدھا کرنا چاہو گے تواس کو توڑ دو گے اور اگر اس کو اس کے حال پر چھوڑ دو گے تو اس سے فائدہ اٹھاتے رہو گے اور اس میں ٹیڑھ پن موجود رہے گا۔
Takhreej
(۷۱۲۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… عورت کو پسلی سے تشبیہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے اخلاق میں بھی پسلی کی طرح ایسا ٹیڑھ پن ہوتا ہے، جو کوشش کے باوجود سیدھا نہیں ہوتا، اس لیے اگر خواتین میں مثبت پہلو غالب ہو تو ان کے منفی پہلو کو نظر انداز کر دینا چاہیے، البتہ اچھے انداز میں سمجھانا ضروری ہے
7129
Sahih
۔ (۷۱۳۰)۔ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ الْمَرْأَۃَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ، وَاِنَّکَ اِنْ تُرِدْ اِقَامَۃَ الضِّلْعِ تَکْسِرْھَا فَدَارِھَا تَعِشْ بِہَا۔)) (مسند احمد: ۲۰۳۵۳)
۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے، اگر تم اس کو سیدھا کرنا چاہو گے تو اس کو توڑ ڈالو گے، اس لیے اس کے ساتھ لطف و نرمی والا سلوک کرو، تاکہ تم اس کے ساتھ زندگی گزارتے رہو۔
Takhreej
(۷۱۳۰) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۵/ ۲۷۵، والبزار: ۱۱۷۶، وابن حبان: ۴۱۷۸ (انظر: ۲۰۰۹۳)
Explanation
فوائد:… یہ آدمی کا پورا نہ ہونے والا خواب ہو گا کہ اس کی بیوی سو فیصد اس کی خواہشات کی تکمیل کرے، کیونکہ اللہ تعالی نے خواتین میں اتنی اہلیت ہی نہیں رکھی، الا ما شاء اللہ، کسی علاقے میں ایک دو مثالیں ہو بھی سکتی ہیں۔ لہذا خاوند کو عورت کی اس فطرت کو سامنے رکھ کر کچھ صبر کا مظاہرہ بھی کرنا چاہیے۔ حافظ ابن حجر نے کہا: اس حدیث سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ سیدہ حواء علیہا السلام، آدم علیہ السلام کی بائیں پسلی سے پیدا ہوئی تھیں۔
7130
Sahih
۔ (۷۱۳۱)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الْمَرْأَۃُ کَالضِّلَعِِ اِنْ أَقَمْتَہَا کَسَرْتَہَا وَھِیَیُسْتَمْتَعُ بِہَا عَلٰی عِوَجٍ فِیْہَا۔)) (مسند احمد: ۲۶۹۱۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عورت پسلی کی مانند ہے، اگر تم اس کو بالکل سیدھا کرنا چاہو گے تو اس کو توڑ دو گے، اس سے اس ٹیڑھ پن کے باوجود فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
Takhreej
(۷۱۳۱) حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ البزار: ۱۴۷۹، والطبرانی فی الاوسط : ۹۷۲ (انظر: ۲۶۳۸۴)
7131
Sahih
۔ (۷۱۳۲)۔ عَنْ نُعَیْمِ بْنِ قَعْنَبِ نِ الرِّیَاحِیِّ قَالَ: أَتَیْتُ أَبَاذَرٍّ فَلَمْ أَجِدْہُ وَرَاَیْتُ الْمَرْأَۃَ فَسَأَلْتُہَا فَقَالَتْ: ھُوَ ذَاکَ فِیْ ضَیْعَۃٍ لَہُ فَجَائَ یَقُوْدُ أَوْ یَسُوْقُ بَعِیْرَیْنِ قَاطِرًا أَحَدَھُمَا فِیْ عَجُزِ صَاحِبِہِ، فِیْ عُنُقِ کُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا قِرْبَۃٌ فَوَضَعَ الْقِرْبَتَیْنِ، قُلْتُ: یَا أَبَاذَرٍّ! مَا کَانَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَحَبَّ اِلٰی أَنْ اَلْقَاہُ مِنْکَ، وَلَا أَبْغَضَ أَنْ اَلْقَاہُ مِنْکَ، قَالَ: لِلّٰہِ أَبُوْکَ وَمَا یَجْمَعُ ھٰذَا؟ قَالَ: قُلْتُ: اِنِّیْ کُنْتُ وَأَدْتُّ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ وَکُنْتُ أَرْجُوْ فِیْ لِقَائِکَ أَنْ تُخْبِرَنِیْ اَنَّ لِیْ تَوْبَۃً وَمَخْرَجًا وَکُنْتُ أَخْشٰی فِیْ لِقَائِکَ اَنْ تُخْبِرَنِیْ اِنَّہُ لَا تَوْبَۃَ لِیْ، فَقَالَ: أَفِیْ الْجَاھِلِیَّۃِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: عَفَا اللّٰہُ عَمَّا سَلَفَ، ثُمَّ عَاجَ بِرَأْسِہِ اِلَی الْمَرْأَۃِ، فَأَمَرَ لِیْ بِطَعَامٍ، فَالْتَوَتْ عَلَیْہِ ثُمَّ أَمَرَھَا فَالْتَوَتْ عَلَیْہِ حَتَّی ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُہُمَا قَالَ: إِیْہَا دَعِیْنَا عَنْکِ فَاِنَّکُنَّ لَنْ تَعْدُوْنَ مَا قَالَ: لَنَا فِیْکُنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قُلْتُ: وَمَا قَالَ لَکُمْ فِیْہِّنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: ((الْمَرْأَۃُ ضِلَعٌ فَاِنْ تَذْھَبْ تُقَوِّمُہَا تَکْسِرْھَا، وَاِنْ تَدَعْہَا فَفِیْہَا أَوَدٌ وَبُلْغَۃٌ۔)) فَوَلَّتْ فَجَائَتْ بِثَرِیْدَۃٍ کَاَنَّہَا قَطَاۃٌ، فَقَالَ: کُلْ وَلَا أَھُولَنَّکَ اِنِّیْ صَائِمٌ، ثُمَّ قَامَیُصَلِّیْ، فَجَعَلَ یُہَذِّبُ الرُّکُوْعَ وَیُخَفِّفُہُ وَرَأَیْتُہُیَتْحَرّٰی أَنْ أَشْبَعَ أَوْ أُقَارِبَ، ثُمَّ جَائَ فَوَضَعَ یَدَہُ مَعِیَ فَقُلْتُ: إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، فَقَالَ: مَا لَکَ؟ فَقُلْتُ: مَنْ کُنْتُ أَخْشٰی مِنَ النَّاسِ أَنْ یَکْذِبَنِیْ فَمَا کُنْتُ أَخْشٰی اَنْ تَکْذِبَنِیْ، قَالَ: لِلّٰہِ أَبُوْکَ، إِنْ کَذَبْتُکَ کِذْبَۃً مُنْذُ لَقِیْتَنِیْ، فَقَالَ: اَلَمْ تُخْبِرْنِیْ أَنَّکَ صَائِمٌ ثُمَّ أَرَاکَ تَأْکُلُ؟ قَالَ: بَلٰی اِنِّیْ صُمْتُ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ مِنْ ھٰذَا الشَّہْرِ فَوَجَبَ أَجْرُہُ وَحَلَّ لِیَ الطَّعَامُ مَعَکَ۔ (مسند احمد: ۲۱۶۶۵)
۔ نعیم بن قعنب ریاحی کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا، لیکن میں نے ان کو نہ پایا اور ان کی بیوی سے پوچھا، اس نے کہا: وہ اُدھر اپنی جائداد میں ہیں، اتنے میں وہ آگئے دو اونٹوں کو ہانک کر لا رہے تھے، ان میں سے ایک کو دوسرے کے پچھلے حصہ میں باندھ رکھا تھا اور ان میں سے ہر ایک کی گردن پر ایک مشک تھی، پس انھوں مشکوں کو نیچے اتار ا اور میں نے کہا: اے ابو ذر! مجھے لوگوں میں سے سب سے زیادہ آپ سے ملاقات کرنے کی چاہت تھی اور سب سے زیادہ ناپسندیدہ بھی آپ کی ملاقات ہی تھی، انہوں نے کہا: اس کی کیا وجہ ہے؟ تیرے باپ کی عمر دراز ہو۔اس نے کہا : جاہلیت میں میں نے بچیاں زندہ درگور کی ہیں، مجھے آپ سے ملاقات کی تمنا اس امید پر تھی کہ آپ مجھے بتائیں کہ کیا میرے لئے کوئی توبہ یا نکلنے کی راہ ہے یا نہیں ہے، اور آپ سے ملاقات میں مجھے ڈر یہ تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہہ دیں کہ میرے لئے توبہ ہی نہیں۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ زندہ درگو ر دفن کرنا جاہلیت میں تھا؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: جو پہلے گزر چکا ہے، اسے اللہ تعالیٰ نے معاف کر دیا، پھر انھوں نے اپنی بیوی کی طرف سر سے اشارہ کیا کہ وہ میرے لئے کھانا لائے، لیکن اس نے توجہ نہ کی، پھر انھوں نے اس کو حکم دیا، لیکن اس نے پھر توجہ نہ کی،یہاں تک کہ ان کے جھگڑنے کی آوازیں بلند ہونے لگیں،انھوں نے بیوی سے کہا: خاموش ہو جائو اور یہاں سے چلی جائو، تم اس بات سے قطعاً تجاوز نہیں کر سکتیں، جو تمہارے بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمادیا ہے، نعیم کہتے ہیں: میں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان عورتوں کے بارے میں کیا فرمایا تھا، سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عورت ایک پسلی کی مانند ہے، اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو اس کو توڑ دو گے اور اگر اس کے ٹیڑھا پن کو اس کی حالت پر چھوڑ دو گے تو فائدہ حاصل کرتے رہو گے۔ پھر سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی چلی گئی اور کچھ دیر کے بعد ثرید لے آئی، اس کی لذت ایسی تھی جیسا کہ قطاۃ (کبوتر یا بٹیر کے برابر ایک پرندہ) کے گوشت کی ہوتی ہے، سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے کہا: کھائو اور اپنے ساتھ میرے نہ کھانے سے پریشان نہ ہونا، کیونکہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے، پھر وہ خود کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے اور رکوع وغیرہ بہت ہلکے کئے، میرے خیال میں جب انہوں نے اندازہ لگالیا کہ میں سیر ہونے کے قریب ہوں تو وہ آئے اور میرے ساتھ بیٹھ کر کھانا شروع کر دیا، میں نے اناللہ وانا الیہ راجعون کہہ کر افسوس کا اظہار کیا، سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا ہوا؟ میں نے کہا اگر کوئی عام آدمی جھوٹ کہتا تو مجھے افسوس نہ ہوتا، مگر آپ سے جھوٹ کا سرزد ہونا تو میرے وہم و گمان میں نہ تھا، انھوں نے کہا: تو نے کیا خوب بات کی ہے، جب سے تیری اور میری ملاقات ہوئی ہے میں نے کوئی جھوٹ بولا ہو؟ میں نے کہا: ابھی کچھ دیر پہلے آپ نے کہا تھا کہ آپ روزہ سے ہوں اور اب میں دیکھتا ہوں آپ نے کھانا شروع کر دیا ہے، اس نے کہا: ضرور ضرور، وجہ یہ ہے کہ میں نے اس ماہ کے تین روزے رکھ لئے ہیں، ایک نیکی دس گنا ہے، لہٰذا ایک ماہ کا اجر ثابت ہوچکا ہے اور تیرے ساتھ کھانا میرے لئے جائز تھا۔
Takhreej
(۷۱۳۲) تخریج: رجالہ ثقات رجال الصحیح غیر نُعیم بن قعنب، فقد روی لہ البخاری فی الادب والنسائی، ولم یوثقہ غیر ابن حبان، وروی عنہ ھذا الحدیث ثلاثۃ اختلف علیھم، لکن تشھد لقصۃ المرأۃ کالضلع ولقصۃ صیام ثلاثۃ ایام من الشھر احادیث اخری، أخرجہ مختصرا بالمرفوع منہ فقط النسائی فی الکبری : ۹۱۵۲(انظر: ۲۱۳۳۹)
7132
Sahih
۔ (۷۱۳۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مِنْ اَکْمَلِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِیْمَانًا أَحْسَنَہُمْ خُلُقًا وَخِیَارُھُمْ لِنَسائِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۷۳۹۶)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایمانداروں میں سے سب سے زیادہ کامل ایمان والاوہ ہے، جس کے اخلاق سب سے بہتر ہیں اور ان میں بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے لئے بہترین ہیں۔
Takhreej
(۷۱۳۳) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ۴۶۸۲ (انظر: ۷۴۰۲)
7133
Sahih
۔ (۷۱۳۴)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مِنْ اَکْمَلِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِیْمَانًا أَحْسَنَہُمْ خُلُقًا وَاَلْطَفَہُمْ بِاَھْلِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۰۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سے کامل ترین ایمان والے وہ ہیں جو بہترین اخلاق والے اور اپنی بیویوں پر لطف و کرم کرنے والے ہیں۔
Takhreej
(۷۱۳۴) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ الترمذی: ۲۶۱۲(انظر: ۲۴۲۰۴)
Explanation
فوائد:… کسی آدمی کے حسن اخلاق کا سب سے زیادہ علم اس کی بیوی کو ہوتا ہے، آج کل لوگ باہر کے دوستوں اور یاروںسے وفا کرنے میں ہی مصروف رہتے ہیں، دوست ایک آدمی کی بڑی تعریف کر رہے ہوتے ہیں، لیکن اگر اس کی بیوی سے اس کے بارے میں پوچھا جائے تو وہ اس کے حق میں ایک جملہ کہنے کے لیے تیار نہیں ہوتی،یہ اچھے لوگوں کا رویہ نہیں ہے، کسی آدمی کے اخلاق کے اچھایا برا ہونے کی شہادت اس کی بیوی دے گی۔ عملی طور پر بعض لوگوں کو دیکھا کہ وہ شام کا کھانا کھا کر اپنے دوستوں کی طرف نکل جاتے ہیں اور رات ایک دو بجے واپس آتے ہیں، اس وقت بیوی بچے گہری نیند سوچکے ہوتے ہیں، پھر جب صبح کے وقت بیوی بچے اٹھتے ہیں اور بیوی بچوں کو تیار کر کے تعلیمی اداروں میں بھیجتی ہے تو اس وقت گھر کا سربراہ سویا ہوا ہوتا ہے، یہ راہِ اعتدال سے منحرف رویہ ہے اور اس طرح سے گھر کے افراد کی اچھی تربیت نہیں ہوتی۔
7134
Sahih
۔ (۷۱۳۵)۔ وَعَنْھَا اَیْضًا قَالَتْ: لَقَدْ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی بَابِ حُجْرَتِیْ وَالْحَبَشَۃُیَلْعَبُوْنَ بِحِرَابِہِمْ یَسْتُرُنِیْ بِرِدَائِہِ لِکَیْ أَنْظُرَ اِلٰی لَعِبِہِمْ ثَمَّ یَقُوْمُ حَتّٰی أَکُوْنَ اَنَا الَّتِیْ أَنْصَرِفُ۔ (مسند احمد: ۲۶۶۳۰)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنے حجرے کے دروازے پر دیکھا، جبکہ حبشی جنگی ہتھیاروں کے ساتھ کھیل رہے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے لئے اپنی چادر سے پر دہ کر رہے تھے، تاکہ میں ان کے کھیل کو دیکھ سکوں، پھر آپ کھڑے رہتے تھے، یہاں تک کہ میں خود پھرتی تھی۔
Takhreej
(۷۱۳۵) تخریج: أخرجہ البخاری:۵۱۹۰، ومسلم: ۸۹۲ (انظر: ۲۶۱۰۱)
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس طرح بھی اپنی بیویوں کا دل بہلانے کی کوشش کرتے تھے۔
7135
Sahih
۔ (۷۱۳۶)۔ وَعَنْھَا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کُنْتُ اَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ وَیَجِیْئُ صَوَاحِبِیْ فَیَلْعَبْنَ مَعِیَ فاِذَا رَأَیْنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِنْقَمَعْنَ وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُدْخِلُہُنَّ عَلَیَّ فَیَلْعَبْنَ مَعِیَ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۰۲)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:میں اپنی گڑیوں کے ساتھ کھیلتی تھی اور میری سہیلیاں بھی آکر میرے ساتھ مل کر کھیلتی تھیں، جب وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھتیں تو چلی جاتیں، لیکن پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود ان کو میرے پاس بھیجتے، پس وہ میرے پاس آ کر کھیلتی تھیں۔
Takhreej
(۷۱۳۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۱۳۰، ومسلم: ۲۴۴۰(انظر: ۲۴۲۹۸)
Explanation
فوائد:… سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی نو برس میں شادی ہوئی تھی، انھوں نے کل دس سال نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صحبت میں گزارے، چونکہ وہ نوعمر تھیں، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو عمر کے تقاضے پورے کرنے کا موقع دیتے تھے۔
7136
Sahih