۔ سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بیشک آدمی کے لیے اپنی بیوی کو پانی پلانے میں اجر ہے۔ تو میں اپنی بیوی کے پاس گیا اور اس کو پانی پلایا اور پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث اس کو بیانکی۔
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، یہ ایک طویل حدیث ہے، اس میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! تمہارے لیے اپنی بیوی سے جماع کرنے میں اجر ہے۔ انھوں نے کہا: میں نے اپنی شہوت پوری کی، اس میں اجر کیسے ہو گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مجھے بتاؤ کہ اگر تمہارا بیٹا ہو، پھر وہ بالغ ہوجائے اور تم کو اس سے خیر کی امید بھی ہو، اتنے میں وہ فوت ہو جائے تو کیا تم ثواب کی نیت کے ساتھ صبر کرو گے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا یہ بتاؤ کہ کیا تم نے اس کو پیدا کیا تھا؟ انھوں نے کہا: جی نہیں،اللہ تعالیٰ نے اس کو پیدا کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اس کو ہدایت دی تھی؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ اللہ تعالی نے اس کو ہدایت دی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے اس کو رزق دیا ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں، بلکہ اللہ تعالی نے اس کو رزق دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح جماع کے ذریعے حلال کو تلاش کر اور حرام سے اجتناب کر، پس اگر اللہ تعالی نے چاہا تو اس کو زندہ رکھے گا اور چاہا تو اس کو فوت کر دے گا اور اس میں تیرے لیے اجر ہو گا۔
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر آنے کی اجازت طلب کی، ساتھ ہی انھوں نے سنا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بلند آواز میں بول رہی تھیں، پس انھوں نے اپنی بیٹی سے کہا: ام رومان کی بیٹی! کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اپنی آواز کو بلند کر رہی ہے؟پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا ابوبکر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما کے درمیان حائل ہو گئے، جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ باہر تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ کو راضی کرنے کے لیے فرمانے لگے: کیا تم دیکھتی نہیں ہو کہ میں تجھے بچانے کے لیے تیرے اور تیرے باپ کے درمیان حائل ہو گیا تھا۔ بعد ازاں جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ہنس رہے تھے، پس انھوں نے اجازت طلب کی اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اپنے صلح والے ماحول میں بھی داخل کرو، جیسا کہ آپ نے مجھے لڑائی کے ماحول میں داخل کیا تھا۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت پسلی کی مانند ہے، اگر تم اس کو سیدھا کرنے کی آرزو کرو گے تو اس کو توڑ دو گے اور اگر تم س کو چھوڑدو تو اس سے فائدہ اٹھاتے رہو گے اور اس میں ٹیڑھ پن موجود رہے گا۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت تمہارے لیے ایک ہی عادت اور خصلت پر سیدھا نہیں رہ سکتی،یہ پسلی کی مانند ہے، اگر تم اس پسلی کو سیدھا کرنا چاہو گے تواس کو توڑ دو گے اور اگر اس کو اس کے حال پر چھوڑ دو گے تو اس سے فائدہ اٹھاتے رہو گے اور اس میں ٹیڑھ پن موجود رہے گا۔
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے، اگر تم اس کو سیدھا کرنا چاہو گے تو اس کو توڑ ڈالو گے، اس لیے اس کے ساتھ لطف و نرمی والا سلوک کرو، تاکہ تم اس کے ساتھ زندگی گزارتے رہو۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت پسلی کی مانند ہے، اگر تم اس کو بالکل سیدھا کرنا چاہو گے تو اس کو توڑ دو گے، اس سے اس ٹیڑھ پن کے باوجود فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
۔ نعیم بن قعنب ریاحی کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، لیکن میں نے ان کو نہ پایا اور ان کی بیوی سے پوچھا، اس نے کہا: وہ اُدھر اپنی جائداد میں ہیں، اتنے میں وہ آگئے دو اونٹوں کو ہانک کر لا رہے تھے، ان میں سے ایک کو دوسرے کے پچھلے حصہ میں باندھ رکھا تھا اور ان میں سے ہر ایک کی گردن پر ایک مشک تھی، پس انھوں مشکوں کو نیچے اتار ا اور میں نے کہا: اے ابو ذر! مجھے لوگوں میں سے سب سے زیادہ آپ سے ملاقات کرنے کی چاہت تھی اور سب سے زیادہ ناپسندیدہ بھی آپ کی ملاقات ہی تھی، انہوں نے کہا: اس کی کیا وجہ ہے؟ تیرے باپ کی عمر دراز ہو۔اس نے کہا : جاہلیت میں میں نے بچیاں زندہ درگور کی ہیں، مجھے آپ سے ملاقات کی تمنا اس امید پر تھی کہ آپ مجھے بتائیں کہ کیا میرے لئے کوئی توبہ یا نکلنے کی راہ ہے یا نہیں ہے، اور آپ سے ملاقات میں مجھے ڈر یہ تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہہ دیں کہ میرے لئے توبہ ہی نہیں۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ زندہ درگو ر دفن کرنا جاہلیت میں تھا؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: جو پہلے گزر چکا ہے، اسے اللہ تعالیٰ نے معاف کر دیا، پھر انھوں نے اپنی بیوی کی طرف سر سے اشارہ کیا کہ وہ میرے لئے کھانا لائے، لیکن اس نے توجہ نہ کی، پھر انھوں نے اس کو حکم دیا، لیکن اس نے پھر توجہ نہ کی،یہاں تک کہ ان کے جھگڑنے کی آوازیں بلند ہونے لگیں،انھوں نے بیوی سے کہا: خاموش ہو جائو اور یہاں سے چلی جائو، تم اس بات سے قطعاً تجاوز نہیں کر سکتیں، جو تمہارے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمادیا ہے، نعیم کہتے ہیں: میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان عورتوں کے بارے میں کیا فرمایا تھا، سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت ایک پسلی کی مانند ہے، اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو اس کو توڑ دو گے اور اگر اس کے ٹیڑھا پن کو اس کی حالت پر چھوڑ دو گے تو فائدہ حاصل کرتے رہو گے۔ پھر سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کی بیوی چلی گئی اور کچھ دیر کے بعد ثرید لے آئی، اس کی لذت ایسی تھی جیسا کہ قطاۃ (کبوتر یا بٹیر کے برابر ایک پرندہ) کے گوشت کی ہوتی ہے، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: کھائو اور اپنے ساتھ میرے نہ کھانے سے پریشان نہ ہونا، کیونکہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے، پھر وہ خود کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے اور رکوع وغیرہ بہت ہلکے کئے، میرے خیال میں جب انہوں نے اندازہ لگالیا کہ میں سیر ہونے کے قریب ہوں تو وہ آئے اور میرے ساتھ بیٹھ کر کھانا شروع کر دیا، میں نے اناللہ وانا الیہ راجعون کہہ کر افسوس کا اظہار کیا، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ہوا؟ میں نے کہا اگر کوئی عام آدمی جھوٹ کہتا تو مجھے افسوس نہ ہوتا، مگر آپ سے جھوٹ کا سرزد ہونا تو میرے وہم و گمان میں نہ تھا، انھوں نے کہا: تو نے کیا خوب بات کی ہے، جب سے تیری اور میری ملاقات ہوئی ہے میں نے کوئی جھوٹ بولا ہو؟ میں نے کہا: ابھی کچھ دیر پہلے آپ نے کہا تھا کہ آپ روزہ سے ہوں اور اب میں دیکھتا ہوں آپ نے کھانا شروع کر دیا ہے، اس نے کہا: ضرور ضرور، وجہ یہ ہے کہ میں نے اس ماہ کے تین روزے رکھ لئے ہیں، ایک نیکی دس گنا ہے، لہٰذا ایک ماہ کا اجر ثابت ہوچکا ہے اور تیرے ساتھ کھانا میرے لئے جائز تھا۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایمانداروں میں سے سب سے زیادہ کامل ایمان والاوہ ہے، جس کے اخلاق سب سے بہتر ہیں اور ان میں بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے لئے بہترین ہیں۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سے کامل ترین ایمان والے وہ ہیں جو بہترین اخلاق والے اور اپنی بیویوں پر لطف و کرم کرنے والے ہیں۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے حجرے کے دروازے پر دیکھا، جبکہ حبشی جنگی ہتھیاروں کے ساتھ کھیل رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے لئے اپنی چادر سے پر دہ کر رہے تھے، تاکہ میں ان کے کھیل کو دیکھ سکوں، پھر آپ کھڑے رہتے تھے، یہاں تک کہ میں خود پھرتی تھی۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:میں اپنی گڑیوں کے ساتھ کھیلتی تھی اور میری سہیلیاں بھی آکر میرے ساتھ مل کر کھیلتی تھیں، جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھتیں تو چلی جاتیں، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود ان کو میرے پاس بھیجتے، پس وہ میرے پاس آ کر کھیلتی تھیں۔