۔
۔ یحییٰ بن غسان تیمی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے ابا جان اس وفد میں تھے، جو عبد قیس میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تھا، آپ نے انہیں ان چار برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا تھا، وہ کہتے ہیں: ہم نے ان برتنوں کا استعمال چھوڑ دیا تھا، لیکن ہم وبا زدہ ہو گئے تھے، جب ہم آئندہ سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ان برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا ہے اور ہمارا علاقہ وبائی ہے، ہم وباء زدہ ہو گئے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب جس برتن میں چاہو نبیذ بنا سکتے ہو، بس نشہ آور چیز نہ پینا،
Takhreej
(۷۵۲۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف یحیی بن عبد اللہ التیمی(انظر: ۱۵۹۴۹)
Explanation
فوائد:… آخری جملے کا معنی و مفہوم یہ ہے کہ اگر وہ مشروب نشہ آور ہو چکا ہے تو تم نے اس کا منہ باندھ کر معصیت کا ارتکاب کیا ہے۔
7527
Zaeef