۔
۔ ابو عشراء کے باپ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا جانور کو صرف گرد ن کے گڑھے میں ذبح کیا جاتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو اس کی ران میں بھی نیزہ مارے گا تو کفایت کرے گا۔
Takhreej
(۷۶۱۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ ابی العشراء أخرجہ الترمذی: ۱۴۸۱، وابن ماجہ: ۳۱۸۴، والنسائی: ۷/ ۲۲۸ (انظر: ۱۸۹۴۷)
Explanation
فوائد:… یہ روایت ضعیف ہے، لیکن یہ فقہی مسئلہ ضرور ہے کہ ہر ممکنہ حد تک جانور کو گردن میں ہی ذبح کیا جائے گا، ہاں اگر ایسا کرنا نا ممکن ہو جائے، جیسے جانور بدک جائے،یا وہ واضح طور پر مرنے کے اسباب کے قریب ہو جائے، لیکن اس کی گردن تک نہ پہنچا جا سکتا ہو تو پھر کوئی اور ممکنہ طریقہ استعمال کیا جائے گا، مثلا تیر چلانا، فائر کرنا، تلوار چلانا۔
7615
Zaeef