۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اونٹوں کے پیشاب اور دودھ میں پیٹ کی بیماری کا علاج ہے۔
۔ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ میرے بھائی کو دست آرہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے شہد پلاؤ۔ اس نے اسے شہد پلایا اور آ کر کہا: میں نے اسے شہد پلایا، لیکن اس وجہ سے اسہال میں اضافہ ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو شہد پلاؤ۔ پس وہ گیا، لیکن پھر اس نے آ کر کہا: جی میں نے اس کو شہد پلایا ہے، لیکن اسہال میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو اور شہد پلاؤ۔ وہ گیا اور سہ بار اس نے آ کر کہا: میں نے اس کو شہد پلایا ہے، لیکن اسہال میں اضافہ ہی ہوا جا رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چوتھی بار اس سے فرمایا: اسے شہد پلاؤ۔ اس بار جب اس نے اس کو شہد پلایا تو وہ شفایاب ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سچا ہے اور تیرے بھائی کا پیٹ جھٹلا رہا ہے، (یعنی تیرے بھائی کا پیٹ شفا قبول کرنے کے لیے تیار ہی نہیں تھا)۔
۔ ربیعہ بنت عیاض کلاَبِیْہِ بیان کرتی ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا: انار اس کی جھلی سمیت کھائو، یہ معدہ کے لئے ایسے ہی ہے جس طرح چمڑا رنگنے سے محفوظ ہوجاتا ہے۔
۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا ہے وہ نمونیا بیماری کا علاج عود ہندی اور زیتون کے تیل کے ذریعہ کریں۔
۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمونیا بیماری کے لیے زیتون کے تیل اور ورس بوٹی تجویز کیا کرتے تھے۔ امام قتادہ نے کہا: منہ کی اس جانب سے ان کے قطرے ڈالے جائیں جس جانب بیماری کی شکایت ہے۔
۔ سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ کی بہن سیدہ ام قیس بنت محصن اسدیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ میں اپنے ایک بیٹے کو لائی جس کے حلق میں دوائی لگا کر زخمی کردیا گیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انگلیاں مار کر بچوں کے حلق زخمی نہ کیا کرو ،یہ عود ہندی استعمال کیا کرو، اس میں سات بیماریوں کا علاج ہے، ان میں سے ایک بیماری نمونیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچے کو پکڑ کر اسے گود میں بٹھا لیا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پیشاب کردیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوایا اور اسے چھڑکا، بچہ ابھی کھانا کھانے کی عمر کو نہ پہنچا تھا۔امام زہری کہتے ہیں: یہی طریقہ رائج ہے کہ بچے کے پیشاب کرنے سے پانی چھڑکا جائے اور بچی کے پیشاب کرنے سے اسے دھویا جائے، حلق میں خرابی کے لئے ناک میں قطرے ڈالے جائیں اور نمونیا بیماری کے لئے منہ میں قطرے ڈالے جائیں۔
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا (اور ایک راوی کی روایت کے مطابق) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، ان کے پاس ایک بچہ تھا، جس کے نتھنوں سے خون بہہ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اسے کیا ہو گیا ہے؟ بتایا گیا کہ اس کے حلق میں تکلیف ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی اولاد کو تکلیف میں کیوں مبتلا کرتے ہوئے؟ اتنا ہی کافی ہے کہ عود ہندی لو اور اسے پانی میں سات مرتبہ تر کر لو اور اسے حلق میں ڈال دو، ابن ابی عتبہ راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے ناک میں ڈالو۔ پس انہوں نے ایسا ہی کیا اور وہ بچہ صحت یاب ہوگیا۔