مسنداحمد

Musnad Ahmad

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو دوائیں اور چیزوں کے خواص بیان کیے ہیں، ان کے بارے میں ابواب

زخموں اور جسم پر نکل آنے والے دانوں کے علاج کا بیان

۔

۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا گیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زخموں کا علاج کس چیز سے کیا گیا تھا، انھوں نے کہا: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنے ڈھال میں پانی لاتے تھے اور سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرۂ انور سے خون دھوتی تھیں اور ایک چٹائی لے کر اسے جلا کر اس کی راکھ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا زخم بھرا گیا۔

۔

۔ (دوسری سند) سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیٹی سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو احد کے دن دیکھا کہ انہوں نے چٹائی کا ایک ٹکڑا لیا، اسے جلا کر اس کی راکھ سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے مبارک کے زخم بھرے اور ڈھال میں پانی لایا گیا تھا، اس سے انھوں نے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے خون صاف کیا تھا۔

۔

۔ صحابی رسول سیدنا ایاس بن بکیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیٹی مریم، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کسی زوجہ محترمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے بیان کرتی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: کیا ذریرہ خوشبو ہے۔ میں نے کہا: جی ہاں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ منگوائی اور اسے پائوں کی انگلیوں کے درمیان نکلنے والے چھالے پر لگا کر یہ دعا پڑھی: اَللّٰھُمَّ مُطْفِیئَ الْکَبِیرِ وَمُکَبِّرَ الصَّغِیرِ أَطْفِہَا عَنِّی (اے اللہ! بڑے کو بجھانے والے اور چھوٹے کو بڑا کرنے والے، اسے بجھا دے۔) پس وہ چھالہ وہیں بجھ گیا۔