TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ناجائز دم اور تمیمہ کا بیان - ناجائز دم اور تمیمہ کا بیان - نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو دوائیں اور چیزوں کے خواص بیان کیے ہیں، ان کے بارے میں ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 11 of نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو دوائیں اور چیزوں کے خواص بیان کیے ہیں، ان کے بارے میں ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 11 of 19 · 7 Hadith
۔
۔ حصین بن عبدالرحمن کہتے ہیں: میں سیدنا سعید بن جبیر کے پاس تھا، انہوں نے کہا: تم میں سے کس نے وہ ستارا دیکھا ہے، جو کل ٹوٹا تھا، میں نے کہا: جی میں نے دیکھا تھا، پھر میں نے کہا: یہ میں نے اس لئے نہیں دیکھا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا، یہ اس وجہ سے کہ مجھے کسی زہریلی چیز نے ڈس لیا تھا (اور میں جاگ رہا تھا)، سیدنا سعید نے کہا: پھر تم نے کیا کیا تھا، میں نے کہا: میں نے دم کیا تھا، انھوں نے کہا: ایسے کیوں کیا تھا؟ میں نے کہا: ایک حدیث کی وجہ سے جو ہم سے شعبی نے بیان کی ہے، انہوں نے سیدنا بریدہ اسلمی سے سنی کہ دم نہیں ہے، مگر نظر بد سے یا زہریلی چیز کے ڈسنے سے۔ سعید بن حبیر نے کہا: وہ شخص بہت اچھا کرتا ہے جو اسی پر اکتفا کرتا ہے جو اس نے سنا ہے اس میں اضافہ نہیں کرتا۔پھر انھوں نے کہا: ہم سے سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے سامنے امتیں پیش کی گئی ہیں، میں نے دیکھا ایک نبی ہے اور اس کے ساتھ ایک گروہ ہے، ایک نبی ہے اس کے ساتھ ایک دو آدمی ہیں، ایک نبی ہے اور اس کے ساتھ کوئی بھی نہیں ہے، اچانک میرے سامنے ایک بہت بڑی جماعت پیش کی گئی، میں نے سمجھا کہ یہ میری امت ہو گی، لیکن اتنے میں مجھے کہا گیا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم ہیں، اب آپ ذرا کناروں کی جانب دیکھیں، میں نے دیکھا تو ایک بہت بڑی جماعت تھی، پھر مجھ سے کہا گیا دوسری جانب دیکھیں، اُدھر بھی بہت بڑی جماعت تھی، پھر مجھ سے کہا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے اور ان کے ساتھ ستر ہزار ایسے افراد ہیں جو بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ لوگوں نے کہا: شاید یہ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صحابیت کا شرف پایا ہے، بعض نے کہا: شاید یہ وہ لوگ ہیں، جو اسلام میں پیدا ہوئے اور اللہ تعالی کے ساتھ شرک نہیں کیا اور بھی کئی اقوال بیان کیے، اتنے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے پاس تشریف لے آئے اور پوچھا: یہ کیا ہے جس میں تم مگن ہو؟ انہوں نے اپنی تفصیل بیان کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ وہ خوش نصیب ہیں جو نہ تو داغ لگواتے ہیں، نہ ہی دم کرواتے ہیں،نہ بدشگونی لیتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسا کرتے ہیں۔ سیدنا عکاشہ بن محصن اسدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں ان میں سے ہوں؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو ان میں شامل ہے۔ ایک اور صاحب کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں بھی ان میں شامل ہوں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عکاشہ تم سے بازی لے گیا ہے۔
Takhreej
(۷۷۳۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۵۴۱، ومسلم: ۲۲۰ (انظر: ۲۴۴۸)
Explanation
فوائد:… دم سے متعلقہ حدیث سے معلوم ہوا کہ نظر بد اور زہریلی چیز کے ڈسنے سے دم کروانا چاہیے۔
7736
Sahih
۔
۔ سیدہ زنیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا جو کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اہلیہ تھیں، سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب باہر کا کام ختم کرکے گھر آتے تو دروازے تک پہنچ کر کھنکارتے، تاکہ گھر والے کسی ناپسندیدہ حالت پر نہ ہوں،ایک دن وہ آئے تو کھنکارا، میرے پاس ایک بڑھیا تھی، جو مجھے ورم کا دم کررہی تھی، میں نے اسے چار پائی کے نیچے بٹھا دیا، سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ داخل ہوئے اور میرے ایک پہلو میں بیٹھ گئے، جب انھوں میری گردن میں ایک دھاگا دیکھا تو کہا: یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: یہ دھاگا ہے، میرے لئے دم کیا گیا ہے، وہ باندھا ہوا ہے،ا نھوں نے اسے پکڑا اور کاٹ ڈالا اور کہا: عبداللہ کی آل اس شرک سے بے پرواہ ہے، میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک جھاڑ پھونک، تعویذات اور محبت کے اعمال سب شرک ہیں۔ میں نے کہا: آپ ایسا نہ کہیں، میری آنکھ پھڑکتی تھی، میں فلاں یہودی کے پاس گئی، جو دم کرتا تھا، جب وہ دم کرتا تھا تو آنکھ پر سکون طاری ہو جاتا تھا، انھوں نے کہا: یہ شیطانی عمل تھا، وہ شیطان اپنے ہاتھ کے ساتھ مارتا تھا تو آنکھ پھڑکنے لگ جاتی تھی، جب تو دم کرواتی تو وہ شیطان ہاتھ روک لیتا تھا، تجھے وہ دعا کافی ہے، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پڑھا کرتے تھے: أَذْہِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِی لَا شِفَائَ إِلَّا شِفَاؤُکَ شِفَائً لَا یُغَادِرُ سَقَمًا۔ (تکلیف دور کردے اے لوگوں کے رب! شفاء دے تو ہی شفاء دینے والا ہے، نہیں ہے کوئی شفائ، مگر تیری شفائ،ایسی شفاء دے جو بیماری باقی نہ چھوڑے۔)
Takhreej
(۷۷۳۷) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ بطولہ ابوداود: ۳۸۸۳، وابن ماجہ: ۳۵۳۰ (انظر: ۳۶۱۵)
Explanation
فوائد: شارح ابوداود علامہ عظیم آبادیl نے کہا: خطابی کہتے ہیں کہ وہ دم منع ہے، جو غیر عربی زبان میں ہو اور اس چیز کا علم نہ ہو کہ وہ کیا ہے۔ رہا مسئلہ اس دم کا کہ جس کی عبارت کا مفہوم سمجھا جا سکے اور وہ اللہ تعالی کے ذکر پر مشتمل ہو تو وہ مستحب ہو گا اور اس سے برکت حاصل کی جائے گی۔ تمیمہ کی جمع تمائم ہے، ان سے مراد وہ تعویذ ہیں، جو بچوں پر لٹکائے جاتے ہیں اور ان میں اللہ تعالی کے نام ہوتے ہیں نہ کہ اس کی آیات اور نہ منقول دعائیں۔ نہایہ میں کہا: تمائم سے مراد وہ منکے، دانے اور نگینے ہیں، جو عرب لوگ اپنے بچوں پر لٹکاتے تھے، تاکہ وہ نظرِ بد سے بچ سکیں، لیکن اسلام نے ان کے اس خیال کو باطل قرار دیا۔ تِوَلہ کی وضاحت کرتے ہوئے خطابی کہتے ہیں: یہ جادو کی ایک قسم ہے۔ اصمعی نے کہا: اس سے مراد وہ عمل ہے جو عورت کو اس کے خاوند کا محبوب بنا دیتا ہے۔ جبکہ ملا علی قاری نے کہا: یہ جادو کی ایک قسم ہے یا دھاگہ ہے، جس پر جادو والی عبارتیں پڑھی جاتی ہے یا ورق ہے، جس میں جادو کی عبارتیں لکھی جاتی ہیں، مقصد محبت وغیرہ کا حصول ہوتا ہے۔
7737
Sahih
۔
۔ سیدنا عمران بن حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کے بازو پر پیتل کا کڑا دیکھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو ہلاک ہو جائے، یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: یہ واہنہ کی وجہ سے ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تیری اس بیماری میں اور اضافہ کرے گا، پھینک دے اس کو، اگر تو اس حال میں مرا کہ یہ تجھ پر ہوگا تو تو کبھی کامیاب نہیں ہو گا۔
Takhreej
(۷۷۳۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، الحسن البصری لم یسمع من عمران، والذی فی ھذا الحدیث من تصریح الحسن بسماعہ من عمران خطأ من مبارک، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۰۳۱(انظر: ۲۰۰۰۰)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث درج سیاق کے ساتھ صحیح ہے:
7738
Zaeef
۔
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو تمیمہ لٹکائے ، اللہ تعالی اس کی مراد پوری نہ کرے اور جو سفید منکے لٹکاتا ہے، اللہ تعالی اس کو سکون نہ دے۔
Takhreej
(۷۷۳۹) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ ابویعلی: ۱۷۵۹، وابن حبان: ۶۰۸۶، والطبرانی فی الکبیر : ۱۷/ ۸۲۰، وابن حبان: ۶۰۸۶(انظر: ۱۷۴۰۴)
Explanation
فوائد:… تمیمہ کی وضاحت پہلے ہو چکی ہے۔
7739
Sahih
۔
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک گروہ آیا، آپ نے ان میں سے نو آدمیوں سے بیعت لے لی اور ایک سے ہاتھ روک لیا، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے نوآدمیوں سے بیعت لے لی ہے اور اس ایک کو چھوڑ دیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے تمیمہ لٹکایا ہوا ہے۔ پس اس بندے نے اپنا ہاتھ داخل کیا اور اس تعویذ کو کاٹ دیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے بیعت ے لی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے بھی تمیمہ لٹکایا، اس نے شرک کیا۔
Takhreej
(۷۷۴۰) تخریج: اسنادہ قوی، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۷/ ۸۸۵، والحاکم: ۴/ ۲۱۹ (انظر: ۱۷۴۲۲)
7740
Sahih
۔
۔ عیسیٰ بن عبدالرحمن کہتے ہیں: ہم سیدنا عبداللہ بن عکیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے، وہ بیمار تھے، ہم ان کی تیمارداری کے لئے گئے اور ان سے کہا: اگر تم شفاء حاصل کرنے کے لئے گلے میں کوئی تعویذ لٹکا لو، انھوں نے کہا: میں کچھ لٹکا لوں، جبکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کچھ لٹکایا وہ اسی کے حوالے کردیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۷۷۴۱) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الترمذی: ۲۰۷۲(انظر: ۱۸۷۸۱)
7741
Sahih
۔
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نشرہ کے متعلق سوال کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ شیطانی عمل ہے۔
Takhreej
(۷۷۴۲) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابوداود: ۳۸۶۸ (انظر: ۱۴۱۳۵)
Explanation
فوائد:… نشرہ۔ یہ ایک طریقہ علاج تھا یا دم تھا، جس کے ذریعے اس آدمی کا علاج کیا جاتا تھا، جس کو جن لگ جاتے تھے، اس سے وہ صحت یاب ہوجاتا تھا، یہ جادو کے ذریعہ بھی کیا جاتا تھا یا غیر واضح پوشیدہ سا کلام ہوتا تھا ، اس لئے اسے آپ نے شیطانی منتر قرار دیا ہے، اگر اس بیماری کا علاج کتاب و سنت کے وظائف سے کیا جائے تو جائز ہے۔
7742
Sahih

Chapters

19
01
عجوہ کھجور، کھمبی اور کلونجی اور ان کے فوائد کا بیان
16 Hadith
02
پیٹ کی بیماریوں، اندرونی ورم اور بچوں کی حلق کی تکلیف کا عودِ ہندی کے ساتھ علاج کرنے کا بیان
7 Hadith
03
اس چیز کا بیان جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرق نساء بیماری کے لیے تجویز کی
2 Hadith
04
زخموں اور جسم پر نکل آنے والے دانوں کے علاج کا بیان
3 Hadith
05
سنابوٹی اور گائے کے دودھ سے علاج کا بیان
2 Hadith
06
صحت کے لیے مفید اور مضر غذائوں کا بیان
4 Hadith
07
دم اور تعویذ اور جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان جائز صورتوں کا بیان
10 Hadith
08
پھنسی کا دم کرنے کا بیان
2 Hadith
09
دم کے الفاظ کا بیان
17 Hadith
10
قرآن مجید کے ذریعے دم کرنے کا بیان
4 Hadith
11
ناجائز دم اور تمیمہ کا بیان
7 Hadith
12
نظر اور اس کے سچ ہونے کا بیان
4 Hadith
13
اگر کوئی چیز پسند آ جائے تو کیا کہنا چاہیے، نیز نظر زدہ آدمی کا علاج کیسے کیا جائے
3 Hadith
14
نظر لگنے سے دم کرنے کا بیان
4 Hadith
15
بیماری کا متعدی ہونا، بدشگونی لینا، اچھی فال لینا، طاعون اور اچانک موت بیماری کے متعدی ہونے کی نفی کا بیان
8 Hadith
16
متعدی بیماری کے ثبوت کا بیان
5 Hadith
17
نحوست کا بیان، جس کو بدشگونی کہا جاتا ہے
7 Hadith
18
اگر برے شگون اور نحوست کا کوئی وجود ہوتا تو وہ عورت، گھوڑے اور گھر میں ہوتا
7 Hadith
19
نیک فال اور نیک شگون کا بیان
8 Hadith
No chapter matched that.