مسنداحمد

Musnad Ahmad

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو دوائیں اور چیزوں کے خواص بیان کیے ہیں، ان کے بارے میں ابواب

نحوست کا بیان، جس کو بدشگونی کہا جاتا ہے

۔

۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بدشگونی کے متعلق پوچھا، لیکن انہوں نے مجھے ڈانٹ دیا اور کہا: تجھے کس نے یہ بات بتائی ہے؟ میں نے یہ بتانا پسند نہ کیا کہ مجھے کس نے بتائی تھی،پھر سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ کوئی بیماری متعدی ہے، نہ بدشگونی اور نہ الوکی نحوست ہے، اگر کسی چیز میں بدشگونی ہوتی تو وہ گھوڑے، عورت اور گھر میں ہوتی، جب تم سنو کہ کسی زمین میں طاعون ہے تو تم وہاں مت جاؤ اور جب تم ایسی زمین میں موجود ہو، جس میں طاعون آ گیا ہو تو پھر وہاں سے باہر نہ جاؤ۔

۔

۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کو بدشگونی نے کسی کام سے روک دیا، اس نے شرک کیا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا کفارہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کہنا اس کا کفارہ ہے: اے اللہ! نہیں ہے کوئی بھلائی ما سوائے تیری بھلائی کے اور نہیں ہے کوئی شگون، ما سوائے تیرے شگون کے۔

۔

۔ ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا کہ کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بدشگونی اور بیماری کے متعدی ہونے کے بارے میں کچھ فرمایا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ہر آدمی کا شگون اس کی گردن میں ہے۔

۔

۔ سیدنا معاویہ بن حکم سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں ان چیزوں کے متعلق بتائیں جو ہم جاہلیت میں کیا کرتے تھے، مثلا ہم بد شگون لیا کرتے تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ایک ایسی چیز ہے، جس کو تم دل میں محسوس کرو گے، لیکن یہ تمہارے لئے رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔ میں نے کہا: ایک چیز یہ بھی تھی کہ ہم کاہنوں اور نجومیوں کے پاس جاتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کاہنوں کے پاس نہ جایا کرو۔

۔

۔ سیدہ ام کرزکعبیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: پرندوں کو ان کے گھونسلوں میں ہی ٹھہرنے دیا کرو۔

۔

۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بدشگونی شرک ہے اور ہم میں سے ہر ایک کو یہ وہم لاحق ہوسکتا ہے، لیکن اللہ تعالی اس کو توکل کے ذریعے دور کر دیتا ہے۔

۔

۔ سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک دن باہر نکلا تو اچانک ایک ہرن نمودار ہوا اور وہ بائیں جانب مائل ہوا، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چمٹ کرکہنے لگا: اے اللہ کے رسول!آپ نے براشگون لیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بدشگونی وہ ہے، جو کام کرنے پر آمادہ کرے یا واپس لوٹا دے۔