۔ سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ الو کی نحوست ہے، نہ بیماری متعدی ہے اور نہ بدشگونی ہے، اگر نحوست ہوتی تو وہ عورت، جانور اور گھر میں ہوتی۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بدشگونی تین چیزوں میں ہے: گھوڑے، عورت اور گھر میں۔ سفیان کہتے ہیں: بدشگونی کا لفظ ہم نے صرف سالم سے محفوظ کیا ہے، دوسرے راویوں سے نہیں۔
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر بدشگونی کسی چیز میں ثابت ہوتی تو وہ عورت، گھوڑے اور گھر میں ہوتی۔
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ بیماری متعدی ہے، نہ کوئی شگون برا ہے، بس بدشگونی تو تین چیزوں میں ہے: عورت، گھر اور جانور۔
۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر بدشگونی ہوتی تو وہ گھوڑے، عورت اور رہائشگاہ میں ہوتی۔
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی بدشگونی نام کی کوئی چیز ہوتی تو وہ گھر، گھوڑے اور عورت میں ہوتی۔
۔ ابو حسان اعرج بیان کرتے ہیں کہ بنو عامر میں سے دو آدمی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بدشگونی اگر ہے تو وہ عورت، جانور اور گھر میں ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا غضب ناک ہوگئیں اور کہا: اس ذات کی قسم جس نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآن اتارا ہے، آپ نے اس طرح نہیں فرمایا تھا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے الفاظ تو یہ تھے: جاہلیت میں لوگ کہا کرتے تھے کہ بدشگونی عورت، گھر اور جانور میں ہے۔ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ آیت پڑھی: {مَا أَصَابَ مِنْ مُصِیبَۃٍ فِی الْأَرْضِ وَلَا فِی أَنْفُسِکُمْ إِلَّا فِی کِتَابٍ مِّنْْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَأَھَا اِنَّ ذَالِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ۔} … نہ کوئی مصیبت دنیا میں آتی ہے، نہ (خاص) تمہاری جانوں میں، مگر اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں وہ ایک خاص کتاب میں لکھی ہوئی ہے، یہ کام اللہ تعالی پر بالکل آسان ہے۔