مسنداحمد

Musnad Ahmad

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو دوائیں اور چیزوں کے خواص بیان کیے ہیں، ان کے بارے میں ابواب

نیک فال اور نیک شگون کا بیان

۔

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بدشگونی نام کی کوئی چیز نہیں ہے، البتہ سب سے بہتر نیک فال ہے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! فال کیا چیز ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا کلمہ جو تم میں سے کوئی سن لے۔

۔

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا گیا کہ اے اللہ کے رسول! بدشگونی کیا چیز ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بدشگونی کچھ نہیں ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین مرتبہ یہ جملہ فرمایا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھی بات نیک فال ہے۔

۔

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اچھی فال کو پسند کرتے تھے اور بدشگونی ناپسند کرتے تھے۔

۔

۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نیک فال پکڑتے تھے، بدشگونی نہیں لیتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اچھا نام پسند تھا۔

۔

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اگر اچھی آواز سنتے جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پسند آتی تو آواز دینے والے کو کہتے: ہم نے تیرے منہ سے نکلی آواز سے اچھی فال لی ہے۔

۔

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بدشگونی کچھ نہیں ہے اور مجھے نیک فال پسند ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نیک فال سے مراد اچھا کلمہ ہے۔

۔

۔ سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بدشگونی نہیں لیتے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی بستی میں آنے کا ارادہ فرماتے تو اس کا نام پوچھتے، اگر اس کا نام اچھا ہوتا تو آپ کے چہرے پر مسرت نظر آتی اور اگر اس کا نام اچھا نہ ہوتا تو اس کی کراہت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے سے نظر آتی اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی آدمی کو عامل بنا کر بھیجتے تو اس کا نام پوچھتے، اگر اس کا نام اچھا ہوتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے پر مسرت دکھائی دیتی اور اگر اس کا نام اچھا نہ ہوتا تو اس کی کراہت بھی آپ کے چہرے پر نظر آتی۔

۔

۔ سیدنا ابو بردہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس آیا اور کہا: اے اماں! مجھے وہ حدیث بتائو جو تم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے، انھوں نے کہا:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پرندہ تقدیر الٰہی کے مطابق اڑتا ہے۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اچھی فال لینا پسند تھی۔