۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ چیز جس کے ساتھ انسان کھیلتا ہے۔ وہ باطل ہے، ما سوائے اس کے کہ آدمی کمان سے تیر پھینکے، اپنے گھوڑے کو آداب جنگ سکھائے یا اپنی بیوی سے دل لگی کرنے کے لیے کھیلے، یہ تینوں کھیل درست ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیر اندازی سیکھنے کے بعد جو اسے بھلادے، اس نے اس نعمت کی ناشکری کی، جو اس کو عطا کی گئی۔
۔ (دوسری روایت) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (آدمی کا ہر کھیل باطل ہے) ما سوائے تین چیزوں کے: آدمی کا اپنے کمان سے تیر پھینکنا، اپنے گھوڑے کو سکھانا اور اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا، یہ امورِ حق ہیں، اور جو آدمی تیراندازی سیکھنے کے بعد اس کو بھلا دیتا ہے، وہ اس چیز کا کفر کرتا ہے جو اس نے سیکھی تھی۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا، میں آگے نکل گئی، پھر ہم کچھ عرصہ ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ میرا وجود بھاری ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر مجھ سے مقابلہ کیا اور اس بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے نکل گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اُس کے مقابلے میں ہے۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھی، میں ابھی لڑکی ہی تھی، اس لیے آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: تم آگے نکل جاؤ۔ پس وہ آگے چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: آئو میں تم ست دوڑ کا مقابلہ کرتا ہوں۔ پھر مذکورہ بالا روایت کا باقی حصہ ذکر کیا۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حبشہ کے لوگ عید کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں ہتھیاروں سے کھیل رہے تھے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں کے اوپر سے کھیل کی طرف دیکھ رہی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے کندھے میرے لئے جھکا دئیے تھے، پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں پر سے ان کے کھیل کو دیکھتی رہی حتیٰ کہ میں خود اپنی مرضی کے مطابق پیچھے ہٹی۔