TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

لہو و لعب کی ناجائز صورتوں کے ابواب حیوان کے ساتھ کھیلنے کی ممانعت کا بیان - لہو و لعب کی ناجائز صورتوں کے ابواب حیوان کے ساتھ کھیلنے کی ممانعت کا بیان - لہو و لعب کے بارے میں مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of لہو و لعب کے بارے میں مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 6 · 7 Hadith
۔
۔ عکرمہ کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے، وہ ایک کبوتری کو سامنے باندھ کر اس کو تیر مار رہے تھے،سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ سول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ذی روح اور جاندار چیز کو نشانہ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
Takhreej
(۷۸۸۰) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۱۸۷، والترمذی: ۱۴۷۵(انظر: ۲۴۷۴)
Explanation
فوائد:… یہ جانور کے ساتھ ظلم ہے، ذبح اور شکار کے طریقے پچھلے ابواب میں گزر چکے ہے، جس شکاری جانور یا پرندے کو ذبح کرنا ممکن ہو جائے، اس کو ذبح ہی کیا جائے گا۔
7880
Sahih
۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا، وہ کبوتری کے پیچھے دوڑ رہا تھا، آپ نے فرمایا: شیطان شیطاننی کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔
Takhreej
(۷۸۸۱) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۴۹۴۰، وابن ماجہ: ۳۷۶۵(انظر: ۸۵۴۳)
Explanation
فوائد:… کبوتر بازی، بٹیر بازی اور مرغ لڑانا وغیرہ سب ناجائز مشاغل ہیں، ہاں اگر بطورِ تجارت یہ پرندے رکھے جائیں اور کھانے کے لیے ان کی خرید فروخت کی جائے اور شکار کر کے ایسے پرندوں کو پکڑا جائے تو پھر جائز ہے۔
7881
Sahih
۔
۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے ساتھ مدینہ کے ایک راستے سے گزر رہا تھا، کچھ نوجوان مرغی کو باندھ کر اس پر تیر چلا رہے تھے اور انھوں مرغی کے مالک کو ہر وہ تیر دینا تھا، جو نشانے پر نہیں لگتا تھا، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ منظر دیکھ کر غصے ہوئے اور کہا: کس نے ایسے کیا ہے؟ پس وہ تتر بتر ہو گئے، پھر انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس شخص پر لعنت کی ہے، جو حیوان کا مثلہ کرتا ہے۔
Takhreej
(۷۸۸۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۹۵۷(انظر: ۳۱۳۳)
Explanation
فوائد:… اس موقع پر حیوان کا مثلہ کرنے کا یہ مطلب ہے کہ جس جانور کو ذبح کرنا ممکن ہو، اس پر تیر چلائے جائیں، جن کی وجہ سے اس کا چہرہ زخمی ہو جائے اور اس کی صورت بدل جائے اور تیر لگنے سے اس کے گوشت کے ٹکڑنے گرنے لگیں۔
7882
Sahih
۔
۔ (دوسری سند) سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ ان کے گھر سے نکلا، ہم قریش کے کچھ نوجوانوں کے پاس سے گزرے، جنہوں نے پرندہ گاڑ رکھا تھا اور اس پر نشانہ بازی کررہے تھے، انہوں نے پرندے کے مالک کو نشانے پر نہ لگنے والا ہر تیر دینے کا تقرر کر رکھا تھا، جب انہوں نے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا تو وہ بھاگ گئے، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دریافت کیا: یہ کس نے کیا ہے، اللہ تعالی اس پر لعنت کرے جس نے یہ کیا ہے، بیشک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو ذی روح اور جاندار چیز پر نشانہ بازی کرتا ہے۔
Takhreej
(۷۸۸۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
7883
Sahih
۔
۔ ہشام بن زید بن انس بن مالک کہتے ہیں: ہم اپنے دادا سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ حکم بن ایوب کے گھر داخل ہوا، کچھ لوگ مرغی کو باندھ کر اس پر نشانہ بازی کر رہے تھے، سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ زندہ جانور کو باندھ کر ان پر نشانہ بازی کی جائے۔
Takhreej
(۷۸۸۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۹۵۶(انظر: ۱۲۷۴۶)
7884
Sahih
۔
۔ (دوسری سند) ہشام بن زید کہتے ہیں: میں اپنے دادا سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ دارالامارت میں داخل ہوا، پس کیا دیکھا کہ زندہ مرغی کو باندھ کر اس پر نشانہ بازی کی جا رہی ہے، جب اسے تیر لگتا تو وہ چلاتی تھی، سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زندہ جانور کو باندھ کر اس پر نشانہ بازی کرنے سے منع فرمایا ہے۔
Takhreej
(۷۸۸۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
7885
Sahih
۔
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زندہ جانور کو باندھ کر اس پر نشانہ بازی کرنے سے منع فرمایا ہے، سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اگر میرے پاس مرغی ہوتی تو میں اسے نہ باندھتا۔
Takhreej
(۷۸۸۶) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الدارمی: ۱۹۷۴، والطبرانی: ۴۰۰۱، والبیھقی: ۹/ ۷۱، وابن حبان: ۵۶۰۹ (انظر: ۲۳۵۸۹)
Explanation
فوائد:… مذکورہ بالا تمام احادیث میں جانوروں کے ساتھ ظلم کی جو مثالیں پیش کی گئی ہیں، یہ ناعاقبت اندیش لوگوں کے کھیل ہیں، جبکہ ان کھیلوں میں جانوروں کے ساتھ بڑا ظلم کیا جا رہا ہے، شریعت تو ذبح کے وقت بھی جانور کے ساتھ احسان کرنے کا حکم دیتی ہے، یعنی ذبح کا ایسا طریقہ اختیار کیا جائے، جس سے جانور کو کم از کم تکلیف کا احساس ہو۔ایسے تمام کھیل ناجائز ہیں، جانوروں کو لڑانابھی اسی میں داخل ہے۔
7886
Sahih