۔
۔ عکرمہ کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے، وہ ایک کبوتری کو سامنے باندھ کر اس کو تیر مار رہے تھے،سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذی روح اور جاندار چیز کو نشانہ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
Takhreej
(۷۸۸۰) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۱۸۷، والترمذی: ۱۴۷۵(انظر: ۲۴۷۴)
Explanation
فوائد:… یہ جانور کے ساتھ ظلم ہے، ذبح اور شکار کے طریقے پچھلے ابواب میں گزر چکے ہے، جس شکاری جانور یا پرندے کو ذبح کرنا ممکن ہو جائے، اس کو ذبح ہی کیا جائے گا۔
7880
Sahih