۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قسم اٹھائے اور اپنی قسم میں کہے: مجھے لات کی قسم! تو وہ (اس غلطی کا ازالہ کرنے کے لیے) کہے: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، اور جس نے اپنے ساتھی سے کہا کہ آئو ہم جوا کھیلیں وہ کچھ نہ کچھ صدقہ کرے۔
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جونرد شیر کے ساتھ کھیلا، ایک روایت میں ہے: جو نرد کھیل کے نگینوں کے ساتھ کھیلا، اس نے اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کی ہے۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی نرد کھیل کے نگینوں کو پلٹتا ہے اور یہ انتظار کرتا ہے کہ اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے، وہ اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کرتا ہے۔
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان دو قسم کے نگینوں سے بچو، جو علامت شدہ ہوتے ہیں،انہیں روکا جاتا ہے، یہ عجمی لوگوں کا جوا ہے۔
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو نردشیر کے ساتھ کھیلتا ہے، وہ گویا اپنا ہاتھ خنزیر کے گوشت اور خون میں ڈالتا ہے۔
۔ عبدالرحمن خطمی اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی نرد شیر کھیل کھیل کر نماز پڑھنے کے لیے جاتا ہے، اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو پیپ اور خنزیر کے خون کے ساتھ وضو کر کے نماز پڑھتا ہے۔