عطا بن یسار کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ نے وضو کیا اور ہر عضو کو ایک ایک مرتبہ دھویا اور پھر کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے ہی کیا تھا۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعضاء کو ایک ایک دفعہ دھو کر وضو کیا۔
سیدنا عمر بن خطاب ؓ نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
مطلب بن عبد اللہ بن حنطب کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ اعضاء کو تین تین دفعہ دھو کر وضو کرتے اور اس عمل کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کرتے تھے اور سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ اعضاء کو ایک ایک دفعہ وضو کرتے اور اس عمل کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کرتے تھے۔
سیدنا قیسی ؓ سے مروی ہے کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیشاب کیا، پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پانی لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے برتن سے اپنے ہاتھ پر پانی بہایا اور اس کوایک دفعہ دھویا، چہرے کو ایک مرتبہ دھویا، بازوؤں کو ایک مرتبہ دھویا اور دونوں پاؤں کو دونوں ہاتھوں سے ایک ایک بار دھویا۔ انھوں نے اپنی حدیث میں کہا: انگلی کو انگوٹھے کے ساتھ لپیٹا ہوا تھا۔
سیدنا عبد اللہ بن زید انصاری مازنیؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعضائے مبارک کو دو دو دفعہ دھو کر وضو کیا تھا۔
۔ (۷۰۴)۔عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ مِثْلُہُ۔ (مسند أحمد: ۷۸۶۴)
سیدنا ابو ہریرہؓ نے بھی اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
سیدنا عثمان بن عفانؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے اعضاء کو تین تین دفعہ دھو کر وضو کیا تھا۔
سیدنا ابو امامہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین تین بار ہاتھ دھوئے، تین تین بار کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سارا وضو تین تین دفعہ کیا۔
سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اعضاء کو ایک ایک دفعہ دھو کر وضو کیا، تو وضو کی کم از کم مقدار ہے، جس کے بغیر کوئی چارۂ کار نہیں ہے، جس نے اعضا کو دو دو دفعہ دھویا، اس کے لیے دو حصے اجر ہو گا اور جس نے تین تین بار دھویا تو ایسا وضو میرا ہے اور مجھ سے پہلے والے انبیاء کا ہے۔
سیدنا انسؓ سے مروی ہے کہ سیدنا عثمانؓ نے مقاعد میں تین تین دفعہ وضو کیا، آپ کے پاس صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم تشریف فرما تھے، آپ نے ان سے پوچھا: تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا تھا؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
عبد ِ خیر سے روایت ہے کہ سیدنا علیؓ نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وضو ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعضاء کو تین تین دفعہ دھو کر وضو کرتے تھے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ سے روایت ہے کہ ایک بدّو ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، وہ وضو کے بارے میں سوال کر رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے تین تین دفعہ وضو کر کے دکھایا اور فرمایا: یہ وضو ہے، جس نے اس سے زیادہ مرتبہ دھویا، پس تحقیق اس نے برا کیا، زیادتی کی اور ظلم کیا۔