مسنداحمد

Musnad Ahmad

پاؤں کو دھونے اور اس سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان

اعضاء کو ایک ایک دفعہ، دو دو دفعہ اور تین تین دفعہ دھو کر وضو کرنے اور تین سے زیادہ کرنے کی کراہت کا بیان

۔ (۶۹۸)۔عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ أَنَّہُ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ کُلَّ عُضْوٍ مِنْہُ غَسْلَۃً وَاحِدَۃً ثُمَّ ذَکَرَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَلَہُ۔ (مسند أحمد: ۳۱۱۳)

عطا بن یسار کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ نے وضو کیا اور ہر عضو کو ایک ایک مرتبہ دھویا اور پھر کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایسے ہی کیا تھا۔

۔ (۶۹۹)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ مَرَّۃً مَرَّۃً۔ (مسند أحمد: ۳۰۷۳)

سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اعضاء کو ایک ایک دفعہ دھو کر وضو کیا۔

۔ (۷۰۰)۔عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند أحمد: ۱۴۹)

سیدنا عمر بن خطاب ؓ نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی ایک اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔

۔ (۷۰۱)۔ عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ حَنْطَبٍ قَالَ: کَانَ ابْنُ عُمَرَ یَتَوَضَّأُ ثَلَاثًا، یَرْفَعُہُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، وَکَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ یَتَوَضَّأُ مَرَّۃً یَرْفَعُہُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۳۵۲۶)

مطلب بن عبد اللہ بن حنطب کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ اعضاء کو تین تین دفعہ دھو کر وضو کرتے اور اس عمل کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف منسوب کرتے تھے اور سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ اعضاء کو ایک ایک دفعہ وضو کرتے اور اس عمل کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف منسوب کرتے تھے۔

۔ (۷۰۲)۔عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ حُنَیْفٍ حَدَّثَنِی الْقَیْسِیُّ أَنَّہُ کَانَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی سَفَرٍ فَبَالَ فَأُتِیَ بِمَائٍ فَہَالَ عَلٰی یَدِہِ مِنَ الْاِنَائِ فَغَسَلَہَا مَرَّۃً وَعَلٰی وَجْہِہِ مَرَّۃً وَعَلٰی ذِرَاعَیْہِ مَرَّۃً وَغَسَلَ رِجْلَیْہِ مَرَّۃً بِیَدَیْہِ کِلْتَیْہِمَا، وَقَالَ فِی حَدِیْثِہِ: اِلْتَفَّ اِصْبَعَہُ الْاِبْہَام۔ (مسند أحمد: ۲۳۵۰۶)

سیدنا قیسی ؓ سے مروی ہے کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پیشاب کیا، پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس پانی لایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے برتن سے اپنے ہاتھ پر پانی بہایا اور اس کوایک دفعہ دھویا، چہرے کو ایک مرتبہ دھویا، بازوؤں کو ایک مرتبہ دھویا اور دونوں پاؤں کو دونوں ہاتھوں سے ایک ایک بار دھویا۔ انھوں نے اپنی حدیث میں کہا: انگلی کو انگوٹھے کے ساتھ لپیٹا ہوا تھا۔

۔ (۷۰۳)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ زَیْدٍ الْأَنْصَارِیِّ ثُمَّ الْمَازِنِیِّ ؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ مَرَّتَیْنِ مَرَّتَیْنِ۔ (مسند أحمد: ۱۶۵۷۸)

سیدنا عبد اللہ بن زید انصاری مازنیؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اعضائے مبارک کو دو دو دفعہ دھو کر وضو کیا تھا۔

۔ (۷۰۴)۔عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ مِثْلُہُ۔ (مسند أحمد: ۷۸۶۴)

سیدنا ابو ہریرہؓ نے بھی اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔

۔ (۷۰۶)۔ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَؓ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ فَغَسَلَ یَدَیْہِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَتَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا۔ (مسند أحمد: ۲۲۵۷۰)

سیدنا ابو امامہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے تین تین بار ہاتھ دھوئے، تین تین بار کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، اس طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سارا وضو تین تین دفعہ کیا۔

۔ (۷۰۷)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ تَوَضَّأَ وَاحِدَۃً فَتِلْکَ وَظِیْفَۃُ الْوُضُوئِ الَّتِی لَا بُدَّ مِنْہَا، وَمَن تَوَضَّأَ اثْنَتَیْنِ فَلَہُ کِفْلَانِ، وَمَنْ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا فَذَالِکَ وُضُوئِیْ وَوُضُوئُ الْأَنْبِیَائِ قَبْلِیْ۔)) (مسند أحمد: ۵۷۳۵)

سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے اعضاء کو ایک ایک دفعہ دھو کر وضو کیا، تو وضو کی کم از کم مقدار ہے، جس کے بغیر کوئی چارۂ کار نہیں ہے، جس نے اعضا کو دو دو دفعہ دھویا، اس کے لیے دو حصے اجر ہو گا اور جس نے تین تین بار دھویا تو ایسا وضو میرا ہے اور مجھ سے پہلے والے انبیاء کا ہے۔

۔ (۷۰۸)۔عَنْ أَنَسٍ ؓ أَنَّ عُثْمَانَ ؓ تَوَضَّأَ بِالْمَقَاعِدِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَعِنْدَہُ رِجَالٌ مِن أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: أَلَیْسَ ہٰکَذَا رَأَیْتُمْ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأُ؟ قَالُوا: نَعَمْ۔ (مسند أحمد: ۴۰۴)

سیدنا انسؓ سے مروی ہے کہ سیدنا عثمانؓ نے مقاعد میں تین تین دفعہ وضو کیا، آپ کے پاس صحابۂ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہم ‌ تشریف فرما تھے، آپ نے ان سے پوچھا: تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا تھا؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔

۔ (۷۰۹)۔عَنْ عَبْدِخَیْرٍ عَنْ عَلِیٍّ ؓ قَالَ: ھٰذَا وُضُوئُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا۔ (مسند أحمد: ۹۱۹)

عبد ِ خیر سے روایت ہے کہ سیدنا علیؓ نے کہا: یہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اعضاء کو تین تین دفعہ دھو کر وضو کرتے تھے۔

۔ (۷۱۰)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: جَائَ أَعْرَابِیٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْأَلُہُ عَنِ الْوُضُوئِ فَأَرَاہُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، قَالَ: ((ھٰذَا الْوُضُوئُ، فَمَنْ زَادَ عَلٰی ھٰذَا فَقَدْ أَسَائَ وَتَعَدَّی وَظَلَمَ۔)) (مسند أحمد: ۶۶۸۴)

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ سے روایت ہے کہ ایک بدّو ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا، وہ وضو کے بارے میں سوال کر رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اسے تین تین دفعہ وضو کر کے دکھایا اور فرمایا: یہ وضو ہے، جس نے اس سے زیادہ مرتبہ دھویا، پس تحقیق اس نے برا کیا، زیادتی کی اور ظلم کیا۔