۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے گھر ہم سے ملنے کے لئے تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا، جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے پاس سر کے بالوں کو سنوارنے کے اسباب نہیں ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اور آدمی کو دیکھا، اس نے میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے، جس کے ذریعے یہ اپنا لباس دھو سکے۔
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابن حنظلیہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے بھائیوں کے پاس آنے والے ہو، پس اپنی سواریاں اور اپنے لباس درست کر لو، بلاشبہ اللہ تعالی بدگوئی اور بدزبانی کو ناپسند کرتا ہے۔
۔ سیدنا مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، میں نے اپنے اوپر ایک یا دو چادریں اوڑھ رکھی تھیں اور میری حالت پراگندہ سی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس مال ہے؟ میں نے کہا: جی بالکل، اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر قسم کا مال عطاء کر رکھا ہے، گھوڑے ہیں، اونٹ ہیں، بکریاں ہیں اور غلام ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے تمہیں مال دے رکھا ہے تو پھر اس کی نعمت کے اثرات تجھ پر نظر آنے چاہئیں۔ میں یہ سن کر پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا تو میں نے سرخ رنگ کا حلہ پہن رکھا تھا۔
۔ سیدنا ابو رجاء عطاردی کہتے ہیں ہمارے سامنے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے اون اور ریشم سے بنی چادر زیب ِ تن کر رکھی تھی، ہم نے اس سے پہلے اور اس کے بعد ایسی چادر نہیں دیکھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دیکھ کر فرمایا: جس کو اللہ تعالی نے نعمتیں عطا کر رکھی ہوں، تو وہ اللہ یہ بھی پسند کرتا ہے کہ اپنی مخلوق پر اپنی نعمت کا اثر دیکھے۔
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سفید لباس زیب تن بھی کیا کرو اور اس میں مردوں کو کفن بھی دیا کرو۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی قسم کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: تم اپنے کپڑوں میں سے سفید کپڑے پہنا کرو۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر سفید رنگ کا کپڑا دیکھ کر پوچھا: یہ نیا ہے یا دھویا ہوا ہے۔ ابن عمر کہتے ہیں: مجھے یہ معلوم نہیں ہوا کہ سیدنا عمر نے کیا جواب دیا تھا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو یہ دعا دی: اِلْبَسْ جَدِیْدًا وَعِشْ حَمِیْدًا وَمُتْ شَہِیْدًا : (تم نیا لباس پہنو، قابل تعریف حالت میں زندگی گزارواور شہادت کی موت پاؤ)۔ میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا بھی دی تھی: اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا و آخرت میں آنکھوں کی ٹھنڈک عطا کرے۔