مسنداحمد

Musnad Ahmad

لباس اور زینت کے مسائل

پگڑی، شلوار اور دھاری دار پوشاکیں پہننے کا بیان

۔

۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فتح مکہ والے دن داخل ہوئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سیاہ رنگ کی پگڑی تھی۔

۔

۔ سیدنا حریث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں سے خطاب کیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر مبارک پر کالے رنگ کی پگڑی تھی۔

۔

۔ سیدنا سوید بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور سیدنا مخرمہ عبدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہجر سے کپڑا لائے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم سے شلوار کا سودا کیا، جبکہ ہمارے پاس اجرت لے کر وزن کرنے والے بھی بیٹھے ہوئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وزن کرنے والے سے فرمایا: اس کا وزن کرو اور ترازو کا یہ والا پلڑا جھکاؤ۔

۔

۔ قتادہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدناانس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کون سا لباس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سب سے زیادہ پسند تھا؟ انھوں نے کہا: دھاری دار۔

۔

۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے حج تمتع یعنی حج کے ساتھ عمرہ کرنے سے منع کرنے کا ارادہ کیا، لیکن سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: یہ آپ کا حق نہیں ہے، کیونکہ ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حج تمتع کیا ہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم کو منع نہیں کیا، پس سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے منع کرنے کے ارادے کو ترک کر دیا، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ارادہ کیا کہ وہ دھاری دار پوشاکوں سے منع کر دیں، لیکن ان کو پیشاب سے رنگا جاتا تھا، لیکن سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: اس کا آپ کو اختیار نہیں ہے ، کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسا لباس زیب ِ تن کیا ہے اور ہم نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد ِ مبارک میں پہنا ہے۔