مسنداحمد

Musnad Ahmad

لباس اور زینت کے مسائل

مرد کو عصفر بوٹی سے رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے ممانعت اور سرخ رنگ کے استعمال کا بیان

۔

۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے اوپر دو معصفر رنگ کے کپڑے دیکھے تو فرمایا: یہ کافروں کا لباس ہے، یہ لباس نہ پہنا کر۔ ایک روایت میں ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو پھینک دے، یہ کافروں کا لباس ہے۔

۔

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ (مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع) اذاخر گھاٹی سے اتر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری طرف دیکھا، میرے اوپر ایک چادر تھی جو عصفر بوٹی سے رنگی ہوئی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ میں پہچان گیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو ناپسند کر رہے ہیں، میں وہاں سے نکل کر اپنے گھر والوں کے پاس گیا، انہوں نے تنور جلا رکھاتھا، میں نے وہ چادر لپیٹی اور اسے تنور میں پھینک دیا۔ پھر میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس چادر کا کیا بنا؟ میں نے کہا: مجھے آپ کی ناپسندیدگی کا علم ہو گیا تھا، سو میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا، وہ تنور جلا رہے تھے، میں نے وہ چادر اس میں پھینک دی۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے وہ اپنے گھر والوں میں سے کسی کو پہنا دینا تھی۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اذاخر گھاٹی سے نیچے اترے تو ہمیں نماز پڑھائی، سامنے ایک دیوار تھی، اس کو سترہ بنا لیا، ایک بکری یا بھیڑ کا بچہ آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے سے گزرنے لگا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس سے بچنے کے لیے دیوار کے قریب ہوتے گئے، یہاں تک کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیٹ مبارک کو دیکھا، وہ دیوار کے ساتھ مل گیا اور جانور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے سے گزر گیا۔

۔

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حج کے لئے مکہ مکرمہ کو روانہ ہوئے، اور محمد بن جعفر بن ابی طالب کے پاس ان کی بیوی داخل ہوئی، انہوں نے اس کے ساتھ رات گزاری، جب صبح ہوئی تو یہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے، ان پر عورتوں والی خوشبو کا داغ تھا اورخوب سرخ چادر تھی، جس کو عصفر بوٹی میں رنگا گیا تھا، انھوں نے ملل مقام پر لوگوں کو پا لیا، وہ وہاں سے ابھی تک سفر کے لئے چلے نہ تھے، جب انہیں سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دیکھا تو ڈانٹا اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا: کیا تم معصفر کپڑا پہنتے ہو، حالانکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس رنگ کے لباس پہننے سے منع فرمایا ہے۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہ محمد بن جعفر کو اور نہ ہی سیدنا عثمان کو منع کیا، بلکہ صرف مجھے منع کیا تھا۔

۔

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی پرزرد رنگ کا لباس دیکھا تو اسے ناپسند کیا اور فرمایا: اگر تم اس کو حکم دو کہ یہ اس زردی کو دھو دے۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی چیز کو ناپسند کرتے تھے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کم ہی کسی سے براہ راست بات کرتے تھے چہرے سے اس کا پتہ چل جاتا تھا۔

۔

۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے عصفر بوٹی سے رنگے ہوئے کپڑے اور سونے کی انگوٹھی سے منع فرمایا ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ تم کو منع کیا ہے۔