۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے اوپر دو معصفر رنگ کے کپڑے دیکھے تو فرمایا: یہ کافروں کا لباس ہے، یہ لباس نہ پہنا کر۔ ایک روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو پھینک دے، یہ کافروں کا لباس ہے۔
Takhreej
(۷۹۳۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۰۷۷(انظر: ۶۵۱۳)
Explanation
فوائد:… شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اس حدیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ کافروں کا لباس پہنے یا ان کی وضع قطع اور عادات و اطوار کو اپنائے، کافی ساری احادیث میں اس موضوع کو بیان کیا گیا ہے، … …۔ لیکن اب تو بعض بلادِ اسلامیہ میں کفار کے ملبوسات اور ان کی عادات عام ہو چکی ہیں، بلکہ بعض یا تمام اسلامی ممالک کے فوجیوں پر کافروں کی تہذیب کے بعض امور فرض کر دیے گئے ہیں، مثلا ہیٹ (یعنی انگریزی ٹوپی)۔ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ لوگوں میں یہ شعور ہی نہیں رہا کہ وہ شریعت ِ اسلامیہ کی مخالفت کر رہے ہیں یا موافقت۔ فانا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔ (صحیحہ: ۱۷۰۴)
7934
Sahih