۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو فرمایا: کیا ہو گیا ہے تجھے؟ تو نے جنت والوں کے زیورات پہن رکھے ہیں (جو کہ دنیا میں جائز نہیں ہیں)؟ اس نے کہا: پھر میں پیتل کی انگوٹھی پہن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بار فرمایا: میں تجھ سے بت پرستوں کی بوپا رہا ہوں۔ اس نے کہا: تو پھر اے اللہ کے رسول!: میں کس چیز سے انگوٹھی بنوائوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چاندی سے بنوا لو۔ ‘
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ایک صحابی پر سونے کی انگوٹھی دیکھی اور اس وجہ سے اس سے رخ پھیر لیا، اس نے وہ پھینک دی اور لوہے کی انگوٹھی بنا لی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ تو اس سے بھی بدتر ہے، یہ تو دوزخیوں کا زیور ہے۔ انہوں نے وہ بھی اتار دی اورچاندی کی انگوٹھی بنوا لی، اس پرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خاموشی اختیار کی۔
۔ (دوسری سند) سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سونے کی انگوٹھی پہنی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دیکھا تو گویا آپ نے ناپسند فرمایا، میں نے وہ اتار کر پھینک دی، پھر میں نے لوہے کی انگوٹھی بنوا لی، اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو اس سے بھی زیادہ خبیث ہے، یہ بہت خبیث ہے۔ پس میں نے اس کو بھی پھینک دیا اور چاندی کی انگوٹھی بنوا لی، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے۔
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی اور فرمایا: اسے اتار دو۔ اس نے وہ اتار دی اور لوہے کی انگوٹھی بنوا لی، لیکن اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو اس سے بھی بدتر ہے۔ پھر اس نے چاندی کی انگوٹھی بنوا لی، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خاموشی اختیار کی۔