۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بڑھاپے کے سفید بالوں کو مت اکھاڑو، کیونکہ یہ مسلمان کا نور ہے، جو بھی مسلمان اسلام میں بوڑھا ہو جاتا ہے، تو اس کے لئے نیکی لکھی جاتی ہے اور اس کا درجہ بلند کر دیا جاتا ہے یا اس کا گناہ معاف کر دیا جاتا ہے۔
۔ (دوسری سند)اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں آخری الفاظ یوںہیں: اور اس کے ذریعہ سے برائی مٹا دی جاتی ہے۔ نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ہم میں سے نہیں ہے، جو ہمارے بزرگ کی تعظیم نہ کرے اور ہمارے چھوٹے پر رحم نہ کرے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تقریباً بیس بال سفید تھے۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک اور داڑھی مبارک میں بمشکل بیس بال سفید تھے۔ اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ مہندی اور کتم (ایک پودا جو سیاہ رنگ کے طور پر استعمال ہوتا ہے) ملا کر لگاتے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے صرف مہندی لگا کر بالوں کو رنگا تھا۔
۔ سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالی کی راہ میں بوڑھا ہو جائے تو یہ بڑھاپے کی سفیدی روز قیامت اس کے لئے نور بن جائے گی۔