TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

سفید بالوں کی فضیلت اور ان کو اکھاڑنے کی کراہت کا بیان - سفید بالوں کی فضیلت اور ان کو اکھاڑنے کی کراہت کا بیان - آداب کی کتاب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of آداب کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 12 · 5 Hadith
۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بڑھاپے کے سفید بالوں کو مت اکھاڑو، کیونکہ یہ مسلمان کا نور ہے، جو بھی مسلمان اسلام میں بوڑھا ہو جاتا ہے، تو اس کے لئے نیکی لکھی جاتی ہے اور اس کا درجہ بلند کر دیا جاتا ہے یا اس کا گناہ معاف کر دیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۸۱۹۳) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۴۲۰۲، وأخرجہ مختصرا النسائی: ۸/ ۱۳۶، وابن ماجہ: ۳۷۲۱، والترمذی: ۲۸۲۱ (انظر: ۶۶۷۲)
Explanation
فوائد:… سیدنا فضالہ بن عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اَلشَّیْبُ نُوْرٌ فِیْ وَجْہِ الْمُسْلِمِ، فَمَنْ شَائَ فَلْیَنْتَفِ نُوْرَہٗ۔)) … سفید بال مسلمان کے چہرے کا نور ہیں، جو چاہتا ہے، وہ اپنا نور اکھاڑتا رہے۔ (شعب الایمان للبیہقی: ۲/۲۵۰/۲، صحیحہ: ۱۲۴۴)
8193
Sahih
۔
۔ (دوسری سند)اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں آخری الفاظ یوںہیں: اور اس کے ذریعہ سے برائی مٹا دی جاتی ہے۔ نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ ہم میں سے نہیں ہے، جو ہمارے بزرگ کی تعظیم نہ کرے اور ہمارے چھوٹے پر رحم نہ کرے۔
Takhreej
(۸۱۹۴) تخریج: انظر للحدیث الاول الحدیثِ بالطریق الاول، والحدیث الثانی صحیح، أخرجہ الترمذی: ۱۹۲۰(انظر: ۶۹۳۷)
8194
Sahih
۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے تقریباً بیس بال سفید تھے۔
Takhreej
(۸۱۹۵) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۶۳۰ (انظر: ۵۶۳۳)
8195
Sahih
۔
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر مبارک اور داڑھی مبارک میں بمشکل بیس بال سفید تھے۔ اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مہندی اور کتم (ایک پودا جو سیاہ رنگ کے طور پر استعمال ہوتا ہے) ملا کر لگاتے اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے صرف مہندی لگا کر بالوں کو رنگا تھا۔
Takhreej
(۸۱۹۶) تخریج: أخرجہ البخاری:۳۵۵۰، ومسلم: ۲۳۴۱(انظر: ۱۱۹۶۵)
8196
Sahih
۔
۔ سیدنا عمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالی کی راہ میں بوڑھا ہو جائے تو یہ بڑھاپے کی سفیدی روز قیامت اس کے لئے نور بن جائے گی۔
Takhreej
(۸۱۹۷) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۳۹۶۵، ۳۹۶۶، والنسائی: ۶/ ۲۷، والترمذی: ۱۶۳۸ (انظر: ۱۷۰۲۴)
Explanation
فوائد:… فی سبیل اللہ (اللہ کے راستے میں) : عرف کا لحاظ رکھیں تو اس کا معنی جہاد ہو گا، یعنی جس نے سیاہ بالوں کی عمر سے جہاد شروع کیا اور بالوں کے سفید ہو جانے تک یہ عمل جاری رکھا، لیکن زیادہ بہتر یہ ہے کہ اس سے مراد ہر نیک کام ہو، کیونکہ احادیث میں مومن کے سفید بالوں کو اس کے لیے نور قرار دیا گیا ہے، جب کہ جہاد کی فضیلت تو سفید بالوں کی محتاج نہیں، وہ تو اس کے بغیر بھی فضیلت والا ہے۔ واللہ اعلم۔وہ بال ہی نور بن جائیں گے یا ان کی بنا پر نور حاصل ہو گا۔
8197
Sahih