۔ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بالوں کی سفیدی کو تبدیل کرو اور یہودیوں کی مشابہت اختیاور نہ کرو۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سفید بالوں کو تبدیل کرو اور یہود و نصاریٰ کی مشابہت اختیار نہ کرو۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہود و نصاریٰ بالوں کو نہیں رنگتے تم ان کی مخالفت کرو۔ امام زہری نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رنگنے کا حکم دیا ہے، اور مجھے سخت سیاہ رنگ سب سے زیادہ پسند ہے، امام زہری خود سیاہ رنگ لگاتے تھے۔
۔ سیدنا ابو رمثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہندی اور کتم (پودا) کے ساتھ بال رنگتے تھے، آپ کے بال کندھوں تک پہنچتے تھے۔
۔ سیدنا ابو رمثہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت ہے کہ میں نے حج کیا اور میں نے کعبہ کے سائے میں ایک آدمی کو دیکھا، میرے ابا جان نے مجھ سے کہا:کیا تجھے معلوم ہے یہ کون آدمی ہے؟ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، جب ہم آپ تک پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال کان تک تھے اور بالوں پر مہندی کے نشانات تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو سبز رنگ کی چادریں اوڑھ رکھی تھیں، میں نے دیکھا کہ آپ کے سفید بال مہندی کی وجہ سے سرخ نظر آ رہے تھے۔
۔ عثمان بن عبداللہ کہتے ہیں: میں ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کچھ بال نکالے، وہ مہندی اور کتم سے رنگے ہوئے تھے۔
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہترین چیز، جس سے تم ان سفید بالوں کو تبدیل کرتے ہو، وہ مہندی اور وسمہ ہیں۔
۔ سیدنا حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں اور میرا بھائی رافع بن عمرو امیر المومنین سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، میں نے بالوں کو مہندی کے ساتھ اورمیرے بھائی نے زرد رنگ کے ساتھ بالوں کو رنگا ہوا تھا۔ مجھ سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ اسلامی رنگ ہے، اور میرے بھائی رافع سے کہا: یہ ایمانی رنگ ہے۔
۔ حمید کہتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بالوں کو رنگتے تھے۔ انہوں نے کہا: آپ کی داڑھی مبارک کے شروع میں سترہ یا بیس سے زیادہ سفید بال نظر نہیں آتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بڑھاپے کے سفید بالوں کے عیب سے پاک رہے ہیں۔ کسی نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا بڑھاپے کے سفید بال عیب ہیں؟ انھوں نے کہا: بس تم اس کو پسند نہیں کرتے، البتہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ مہندی اور وسمہ سے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مہندی سے بالوں کو رنگ کرتے تھے۔
۔ سیدنا عبداللہ بن زید بن عبدربہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں قربان گاہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر تھا، قریش کا ایک اور آدمی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قربانی کے جانور تقسیم کر رہے تھے، نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کا جانور لیا اور نہ اس آدمی نے لیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک منڈوایا اور بال ایک کپڑے میں جمع کیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ساتھی کو وہ بال دئیے، اس نے انہیں کچھ آدمیوں میں تقسیم کردیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ناخن بھی ترشوا کر اپنے ساتھی کو دئیے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وہ بال ابھی تک ہمارے پاس موجود ہیں، وہ مہندی اور وسمہ میں رنگے ہوئے ہیں۔
۔ سیدنا ابو مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں ہمارا خضاب ورس بوٹی اور زعفران ہوتا تھا۔
۔ بنا نہ بیان کرتی ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے کبھی بالوں کو رنگ نہیں لگایا تھا۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی خضاب نہیں لگایا، بس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھی مبارک کے سامنے والے حصے میں، داڑھی بچے میں، کنپٹیوں میں اتنے معمولی بال سفید تھے کہ ان کو دیکھنا بھی مشکل ہوتا تھا، البتہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ مہندی سے رنگا کرتے تھے۔