۔ ابو واصل کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ایوب انصاری سے ملا،انہوں نے مجھ سے مصافحہ کیا اور جب میرے لمبے ناخن دیکھے تو کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم باتیں تو آسمان کی پوچھتے ہو، لیکن ناخن پرندوں کے ناخنوں کی مانند لمبے لمبے رکھتے ہو، ان میں جنابت، خباثت اور میل کچیل جمع ہو جاتی ہے۔ وکیع نے ایک بار ابو ایوب کے نام کے ساتھ انصاری کا لفظ نہیں کہا اور دوسرے راویوں نے ابو ایوب عتکی کہا ہے، ابو عبد الرحمن نے کہا: میرے باپ نے کہا: امام وکیع سے سبقت لسانی ہو گئی اور انھوں نے کہہ دیا کہ میں ابو ایوب انصاری کو ملا ہوں، جبکہ یہ تو ابو ایوب عتکی ہیں۔
۔ یزید بن عمرو معافری کہتے ہیں کہ بنو غفار کے ایک آدمی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو زیر ناف بال نہ مونڈے،ناخن نہ تراشے اور مونچھیں نہ کاٹے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ سے ملاقات کرنے میں جبریل علیہ السلام نے تاخیر کر دی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ دیر کیوں نہ کریں، جبکہ تم میرے ارد گرد ہو، نہ تو تم مسواک کرتے ہو،نہ ناخن تراشتے ہو،نہ مونچھیں کاٹتے ہو اور نہ انگلیوں کی گرہوں کواچھی طرح دھوتے ہو۔
۔ سیدنا سوادہ بن ربیع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اونٹ دینے کا حکم دیا اور فرمایا: جب تم اپنے گھر لوٹو تو انہیں حکم دینا کہ وہ موسم ربیع میں اونٹوں کے پیدا ہونے والے بچوں کی غذا اچھی دیں اور وہ اپنے ناخن بھی تراش کر رکھا کریں تا کہ جب وہ دودھ دوہیں تو ناخنوں سے مویشیوں کے تھن زخمی نہ کر دیں۔