۔
۔ ابو واصل کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ایوب انصاری سے ملا،انہوں نے مجھ سے مصافحہ کیا اور جب میرے لمبے ناخن دیکھے تو کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم باتیں تو آسمان کی پوچھتے ہو، لیکن ناخن پرندوں کے ناخنوں کی مانند لمبے لمبے رکھتے ہو، ان میں جنابت، خباثت اور میل کچیل جمع ہو جاتی ہے۔ وکیع نے ایک بار ابو ایوب کے نام کے ساتھ انصاری کا لفظ نہیں کہا اور دوسرے راویوں نے ابو ایوب عتکی کہا ہے، ابو عبد الرحمن نے کہا: میرے باپ نے کہا: امام وکیع سے سبقت لسانی ہو گئی اور انھوں نے کہہ دیا کہ میں ابو ایوب انصاری کو ملا ہوں، جبکہ یہ تو ابو ایوب عتکی ہیں۔
Takhreej
(۸۲۱۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ ابی واصل، ثم انہ مرسل، فان ابا ایوب ھذا لیس ھو الانصاری الصحابی فیما قالہ غیر واحد من اھل العلم، بل ھو تابعی ثقۃ، أخرجہ الطیالسی: ۵۹۹، والبیھقی: ۱/ ۱۷۵، والطبرانی: ۴۰۸۶ (انظر: ۲۳۵۴۲)
Explanation
فوائد:… آسمان کی باتیں پوچھنے سے مراد شرعی حکم دریافت کرنا ہے، گویا کہ اس حدیث میں طنز کیا جا رہا ہے کہ شریعت کے مسائل ا س کو دریافت کرنے چاہئیں جو شرعی احکام پر عمل کر رہا ہو، یعنی عملی طور پر بھی شریعت کا پابند ہونا چاہیے اور مسائل بھی دریافت کرنے چاہئیں۔
8216
Zaeef