قزع کی کراہت اور مکمل سر منڈوانے کی رخصت کا بیان - قزع کی کراہت اور مکمل سر منڈوانے کی رخصت کا بیان - آداب کی کتاب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Chapter 9 of آداب کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قزع سے منع فرمایاہے، میں نے کہا: قزع سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: قزع یہ ہے کہ بچے کے سر کا بعض حصہ منڈوایا جائے اور بعض حصہ رہنے دیا جائے۔
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بچہ دیکھا، اس کے سر کے کچھ بال منڈوائے گئے تھے اور کچھ چھوڑ دئیے گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سارا سر منڈوا دو یا سارا سر چھوڑ دو۔
Takhreej
(۸۲۳۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۱۲۰ (انظر: ۵۶۱۵)
Explanation
فوائد:… اس کو پیالہ کٹنگ کہتے ہیں کہ سر کے بعض حصے کو منڈوا دیا جائے اور بعض حصے کو چھوڑ دیا جائے، اس سے بندہ قبیح لگتا ہے، نیز بعض مشرکوں کی یہ عادت ہوتی تھی کہ وہ ایسے بال رکھتے تھے۔ ہونا یہ چاہیے کہ آدمی سر کے سارے بالوں کو یا تو منڈوا دے، یا قینچی سے کٹنگ کروائے۔
۔ سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے موقع پر) تین دن تک ہمارے پاس تشریف نہ لائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے اور ہم سے فرمایا: آج یا کل کے بعد میرے بھائی جعفر پر نہ رونا، میرے بھتیجوں کو بلائو۔ پس ہمیں لایا گیا، ایسے لگ رہا تھا کہ ہم چوزے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’حجام کو بلائو۔ پس حجام کو لایا گیا، پھر اس نے ہمارے سرمونڈ دئیے۔
فوائد:… معلوم ہوا کہ عام حالات میں بھی سر منڈوایا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ حکم مردوں کے لئے ہے، عورتوں کے لئے سر منڈوانا ناجائز ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ عورت اپنا سرمنڈوائے (نسائی)