۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قزع سے منع فرمایاہے، میں نے کہا: قزع سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: قزع یہ ہے کہ بچے کے سر کا بعض حصہ منڈوایا جائے اور بعض حصہ رہنے دیا جائے۔
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بچہ دیکھا، اس کے سر کے کچھ بال منڈوائے گئے تھے اور کچھ چھوڑ دئیے گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سارا سر منڈوا دو یا سارا سر چھوڑ دو۔
۔ سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے موقع پر) تین دن تک ہمارے پاس تشریف نہ لائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے اور ہم سے فرمایا: آج یا کل کے بعد میرے بھائی جعفر پر نہ رونا، میرے بھتیجوں کو بلائو۔ پس ہمیں لایا گیا، ایسے لگ رہا تھا کہ ہم چوزے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’حجام کو بلائو۔ پس حجام کو لایا گیا، پھر اس نے ہمارے سرمونڈ دئیے۔