۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چھینکتے تو اپنا کپڑا یا اپنا ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھ لیتے اور آواز کو پست کر لیتے تھے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دو آدمیوں نے چھینکا،ان میں سے ایک دوسرے کی بہ نسبت زیادہ شرف والا تھا، شرافت والے نے چھینکا اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نہ کہا، سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس کی چھینک کاجواب نہ دیا اور دوسرے نے چھینکا اوراس نے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس کا جواب دیا، اس شرافت والے نے کہا: میں نے بھی آپ کے قریب چھینکا ہے، لیکن آپ نے میرا جواب نہیں دیا اور اس نے چھینکا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا جواب دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے چھینک کر اللہ تعالی کا ذکر کیا، پس میں نے بھی اس کا ذکر کیا اور تو اللہ تعالی کو بھول گیا، پس میں نے بھی تجھے بھلا دیا۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کسی کو چھینک آئے تو وہ ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لیا کرے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے، جو چھینکے اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہے، تو سننے والے پر حق ہے کہ وہ یَرْحَمُکَ اللّٰہُ کہے۔
۔ سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنے والد سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، وہ ام فضل کی بیٹی ام کلثوم کے گھر میں تھے (یہ ان کی بیوی تھی)، میں نے چھینکا تو والد صاحب نے میرا کوئی جواب نہ دیا، لیکن جب ام کلثوم نے چھینکا تو انھوں نے ان کا جواب دیا، جب میں اپنی ماں کے پاس واپس آیا تو میں نے ان سے اس بات کا ذکر کیا، جب میرے والد میری ماں کے پاس آئے تو میری والدہ نے کہا: میرے بیٹے نے چھینکا تو تم نے جواب نہیں دیا، لیکن جب ام کلثوم نے چھینکا تو تم نے جواب دیا ہے۔ انہوں نے کہا:جی ہاں، تمہارے بیٹے نے چھینکا اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نہیں کہا، اس لئے میں نے بھی جواب نہیں دیا اور اس خاتون نے چھینکا اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہا، تو میں نے بھی اس کا جواب دیا، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی چھینکے اور وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہے تو تم اس کا جواب دو اور اگر وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نہ کہے تو پھر تم جواب نہ دو۔ انھوں نے کہا: پھر تو تم نے اچھا کیا، بہت اچھا کیا۔