۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی چھینکے تو وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَکہے اور ارد گرد والے یَرْحَمُکَ اللّٰہُ کہیں اور پھر چھینکنے والا یہ کہے: یَہْدِیْکُمُ اللّٰہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ (اللہ تعالیٰ تم کو ہدایت دے اور تمہاری حالت درست رکھے)۔
۔ ذو الجناحین سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب چھینکتے اور الحمد اللہ کہتے تو جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا جاتا: یَرْحَمُکَ اللّٰہُ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: یَہْدِیکُمُ اللّٰہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ (اللہ تعالی تمہیں ہدایت دے اور تمہاری حالت درست کرے)۔
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی چھینکے اور وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی کُلِّ حَالٍکہے تو اس کو جواب دینے والا کہے: رَحِمَکَ اللّٰہُ اور اس کے جواب میں چھینکنے والا پھر کہے: (اللہ تعالی تم کو ہدایت دے اور تمہارے حال کی اصلاح فرمائے)۔
۔ ہلال بن یساف، خالد بن عرفطہ کی آل کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا سالم بن عبید کے ساتھ ایک سفر میں تھا، ایک آدمی نے چھینکا اور اس نے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہا، سالم بن عبید نے اسے یوں جواب دیا: تجھ پر اور تیری ماں پر سلام ہو، پھر وہ چلے اور اس چھینکنے والے سے کہا: شاید تو ناراض ہوگیا ہو؟ اس نے کہا:میرا یہ ارادہ تو نہیں تھا کہ تم یہاں میری ماں کا ذکر کرو (یہ تم نے نامناسب کام کیا ہے)، انھوں نے کہا: لیکن یہ کہے بغیر تو کوئی چارۂ کار نہ تھا، کیونکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، ایک آدمی نے چھینکا اور اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: تجھ پر اور تیری ماں پر سلام ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو وہ کہے: اَلْحَمْدُ لِلَّہِ عَلٰی کُلِّ حَالٍ یا الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، سننے والا اس کو یوں جواب دے: یَرْحَمُکَ اللّٰہُ، اور وہ چھینکنے والا پھر کہے: یَغْفِرُ اللّٰہُ لِی وَلَکُمْ (اللہ تعالی میری اور تمہاری بخشش فرمائے)۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چھینکا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کیا کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اَلْحَمْدُ لِلَّہِکہو۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اب ہم کیا کہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم یَرْحَمُکَ اللّٰہُکہو۔ چھینکنے والے نے کہا: اے اللہ کے رسول! اب میں ان کے لئے کیا کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کہو: یَہْدِیکُمُ اللّٰہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ (اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے حال کو درست کرے)۔
۔ سیدنا ابو موسیٰ شعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہودی لوگ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس امید میں چھینکتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے لئے یَرْحَمُکُمُ اللّٰہُ کہیں گے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کا جواب یوں دیتے: یَہْدِیْکُمُ اللّٰہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ ا(للہ تعالیٰ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے حال کو درست کرے)۔
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ایک آدمی نے چھینکا اور (الحمد للہ کہا)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا کہ یَرْحَمُکَ اللّٰہُ ، اتنے میں وہ دوسری بار چھینکا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو زکام والا آدمی ہے۔